یادِ رفتگان۔آہ رانا اعجاز۔اے آراشرف بیورو چیف جرمنی


رانااعجازاحمدخان ایڈوکیٹ مرحوم
زندگی سے وابستہ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جہنیں انسان آسانی سے بھلا نہیں پاتا ۔مگر اس دائمی حققت سے بھی انکار نہیں کہ جس ذی نفس نے آنا ہے اُسکے واپسی کا ٹکٹ خالق دو جہاں نے پہلے ہی سے کنفرم کر دیا ہو ہوتا ہے۔ہما رے مرحوم دوست سید عباس اطہر فرمایا کرتے تھے کہ اچھے شاعرپیغمبرانہ سوچ کے حامل ہوتے ہیں اور ابراہیم ذوق اُنمیں سے ایک تھے اُنہوں نے کیا خوب کہا ہے۔
لائی حیات آئے، موت لے چلی چلے
نہ اپنی خوشی سے آئے،نہ اپنی خوشی چلے
آہستہ آہستہ یکے بعد دیگرے ہم اپنے ایسے ایسے پیارے دوستوں اورعزیزوں کی صحبتوں سے محروم ہو رہے ہیں جو کبھی ہماری محفلوں کی جان ہوا کرتے تھے اُن میں سے ایک میرے اُستاد گرامی قدر اور قریبی رشتے دار جناب سعادت خیالی مرحوم تھے جہنیں صحافت کا باوا آدم کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا جناب نثار عثمانی ،سیدعالی رضوی ،سید عباس اطہر،سید سلیم شاہ،جناب اصغر بٹ ،جناب منظور حنیف ،جناب ریاض ملک،زاہد عکاسی،جناب افتخارمرزا،جناب یحیٰ جاوید، جناب پرویز حمید،منشی رفیق،جناب عزیز مظہر،جناب منوبھائی،جناب مظفرالحسن شیخ اور حال ہی میں راجہ اورنگزیب بھی راہی اجل ہوچکے ہیں یہ سب صحافت کے درخشاں ستارے تھے۔وکلا میں جناب حکم قریشی، جناب خاقان بابر۔جناب بلاغ حیدر،جناب عارف اقبال بھٹی ،جناب شاکر رضوی اور اب میرے بھائی اورپیارے دوست رانا اعجاز احمد خان بھی ہم سے ناطہ توڑ کر خالق کائنات کی بارگاہ میں پیش ہو چکے ہیں ہماری بارگاہ ایزدی میں دعا ہے کہ خدا اُنہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین۔جناب رانا صاحب جو اب ہم میں موجود نہیں مگر اُنسے جُڑی یادیں اب بھی ہمارے دل و دماغ میں موجود ہیں میری ڈیوٹی چونکہ عدالتی رپورٹنگ کی تھی اس لئے وکلا سے دوستی بھی وقت کے ساتھ ساتھ گہری ہوتی گئی ۔رانا اعجاز مرحوم اور جناب سعادت خیالی مرحوم دونوں ایسی باغ و بہار شحصیتیں تھیں جن کے چٹکلوں اور حاضر جوابی سے دو ست کیا دشمن بھی لطف ااندز ہوتے تھے رانا صاحب سے میری دوستی کا آغاز غالبا۱۹۷۰ََ ء کو ہوا میں نے ابھی نیا نیا صحافتی میدان میں قدم رکھا تھا اور میں نہ صحافت کے بارے میں کچھ جانتا تھا اور نہ ہی عدالتی آداب سے واقف تھا اس موقع پر ان دونوں احباب نے اپنے اپنے شعبہ میں بھرپور راہنمائی کی اور معلومات فراہم کیں راناصاحب نے اپنی وکالت کے سفر آغاز داتا صاحب کے قریب ایک چھوٹے سے کمرے سے کیا مگر جلدہی اُنکی اپنی محنت ،اہلیت اوردلیری کے باعث اُنکا شمارنامور وکلا کی صف میں ہونے لگا لیکن جب موت کا فرشتہ آتا ہے تو اس کی نظر میں سب محمود و آیاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں یہ شرف تو صرف اورصرف ہمارے آقا ہادی کائنات حضرت محمدﷺ کو حاصل تھا کے حضور ﷺ کے وصال کے موقع پر موت کا فرشتہ جب بار بار در اقدس پردستک دے کر اجازت طلب کرتا تو آپﷺ کی لخت جگر جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا اُسے روک دیتیں آخر حضور ﷺ نے اپنی بیٹیؑ سے کہا اسے اجازت دے دو یہ تو تیرے باپ ﷺ کا شرف ہے کہ وہ روح قبض کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ۔۔اسدنیا فانی کے غم کون سہے گا۔۔جب احمدمرسل ﷺ ہی نہ رہے کون رہے گا۱۰جنوری کو رانا اعجاز احمدخان سابق وزیر قانون کے چھوٹے صاحبزادے رانا محمد احمدخان ایڈووکیٹ نے مجھے واٹس ایپ پہ رانا صاحب کی جان لیوا بیماری کی اطلاع دی اور۱۲ جنوری کو اُنکی وفات کی آفسوناک خبرنے شدت غم سے نڈھال کر دیا۔ہم دیار غیر میں بسنے والے اس لحاظ سے ایسے مقدر کے سکندر ثابت ہوئے ہیں۔وہ جو کہتے ہیں۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔یعنی یہ وہ سزا ہے جوہم نے خود اپنے لئے تجویز کی تھی اور خود ہی اس کے ثمرات کا خمیازہ بھگت رہے ہیں موت ایک حققت ہے اور خالق کائنات کا یہ وعدہ اٹل ہے کہ۔ہر ذی روح کو ایک نہ ایک دن موت کا ذائقہ ضرور چکھنا ہوتا ہوتا ہے اور جو رات قبر میں آنی ہے وہ بحرحال آ کر ہی رہنا ہوتی ہے اور یہ بھی حققت ہے کہ رشتہ خواہ کتنا ہی مضبوط اور قریبی ہو وقت کے ساتھ ساتھ رب العزت وارثین کو صبر عطا فرما ہی دیتاہم سے رانا اعجازاحمد خان ایڈووکیٹ اگرچہ بچھڑ چکے ہیں مگر اُن کا کردار اور اُنسے جُڑی یادیں ہمیشہ زندہ رہنگی کچھ روز قبل اسلام آباد ہائی کوڑٹ بار کے صدر جناب عارف چوہدری سے فون پر بات ہوئی تو ہم دونوں دوست رانا صاحب کی پرانی یادوں سے لطف اندوز ہوتے رہے اور اُنکے غم میں آنسو بہاتے رہے ہماری بارگاہ ایزدی میں دعا ہے کہ خدا اُنکاسفر آخرت آسان فرمائے اور جملہ وارثین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے