-،- صاحب یا صاحبہ -اے آر اشرف-،-

کیا پوچھتے ہو،میرے ملک کی حالت
گھری پڑی ہے طوائف تماش بینوں میں
وزیراعظم پاکستان کو آخر کونسی پریشانی لاحِق تھی یا پھر چیرمین پاکستان پیپلزپارٹی کی مقبولیت کی جلن کا اثر تھا کہ بھرے جلسے میں اُنکی زبان ایسی پھسلی کہ اچھے خاصے مُذکر کو مونث بنا ڈالا۔میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی۱۷ سال سے ہماری نام نہاد انتظامیہ،اشرافیہ اور سیاستدان اپنے اپنے انداز میں دُگڈگی بجا کر عوام کو سبز باغ دکھا کر بیوقوف بناتے آ رہے ہیں لیکن ہر ایک کی دوڑ اور نظر صرف اور صرف کرسی اقتدار تک ہی محدود ہوتی ہے اور جیسے ہی اقتدار کا۔ہما۔اُن کے سر پر بیٹھتا ہے پھر ساری کی ساری عوام اُنہیں حقیر کیڑے مکوڑے نظر آنے شروع ہو جاتے ہیں مگر وہ بھول جاتے ہیں جن کے ووٹوں سے وہ اس مقام پر پہنچے ہیں اگر عوام کے مُنہ سے نوالہ چھین لیا جائیگا تو ایک دن اسی عوام کی سونامی انکی شان و شوکت کو خاک میں ملا دے گی خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے جب وہ حرکت میں آتی ہے بڑے بڑوں کا غرور خاک میں ملا دیتی ہے کبھی سُنا کرتے تھے کے برطانیہ کی حکومت کا سورج غروب نہیں ہوتا تھا اب وہ سکڑ کرجتنی رہ گئی ہے وہ سب کے سامنے ہے اسطرح ہمسایہ ملک ایران کے کے محمد شاہ پہلوی جس نے اپنے نام کے ساتھ شہنشاہ کا لقب جوڑ رکھا تھا اور اپنے آپ کو ایشیا کا ٹائیگڑ سمجھتا تھا لیکن انجام اسقدر بھیانک کہ اپنے ہی وطن میں قبر بھی نصیب نہ ہوئی اور اپنے وطن عزیز کی مثال سب کے سامنے ہے اس پر پورے تیس سال تک حکومت کرنے والے شریف خاندان کا انجام بھی عبرتناک ہے میاں نواز شریف جن سے ہاتھ ملانے کے واسطے انتظامیہ قطاروں میں کھڑی ہو جایا کرتی تھیں اور اُنکے استقبال کیلئے پچاس پچاس گاڑیوں کا قافلہ ہمہ وقت تیار رہتا تھا اُنہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ اُنکے مقدر میں جیل اور دربدری ہوگی۔ سورش کاشمیری کا متذکرہ شعروطن عزیز کی موجودہ سیاست کانچوڑ ہے۔دنیاچانداور مریخ سے بھی آگے کی منزلوں کی تلاش کاسفر طے کر چکی ہے اور ہم ابھی تک۔صاحب اور صاحبہ۔ کی بحث میں اُلجھے ہوئے ہیں بالکل اُسطرح جب تاتاریوں نے عراق پر حملہ کیا تو ہمارے علماء حلال حرام کی بحث میں اپنا وقت ضائع کر رہے تھے۔ مجھے اس موقع پر دربار شام کا وہ واقعہ یاد آ رہا ہے جب دو شامیوں میں اس بات پرجھگڑاشروع ہوا کہ ایک کہتاتھا کہ یہ اُونٹنی میری ہے جبکہ دوسرے کابیان تھا بھائی یہ اُونٹنی نہیں یہ اُونٹ ہے جو کہ میرا ہے مگراُونتنی کادعویدار اُسکی بات ماننے کو تیار نہ تھا اور وہ مسلسل اس بات کی تکرار کرتا رہا کہ یہ اُونٹنی میری ہے اس بحث میں نوبت ہتھا پائی پر پہنچی اور وہ دونوں ایک دوسرے سے گھتم گھتھا ہو گئے سرکاری اہلکار دونوں کو پکڑ کر امیر شام معاویہ کے پاس لے گئے فریقین کے بیان سُننے کے بعد امیر معاویہ نے اُونٹنی کے دعویدار کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اُونٹ اُسکے حوالے کر دیا اورجسکا اُونٹ تھا۔۔ اسکو اپنے خزانے سے قیمت ادا کر دی اس دوران حضرت علیؑ کا قاصد پیغام لیکر دربارمیں حاضر ہوا تو امیر معاویہ نے قاصد کومخاطب کر کے کہا کہ علیؑ کو جا کر بتا دینا کہ میں اُنکے خلاف ایسی فوج لاؤنگا جو اُونٹ اور اُونٹنی کے فرق کو بھی نہیں جانتے ہونگے۔اس موقع پر مجھے احمد فراز یاد آئے۔کہ۔۔میرا اُس شہرِ عداوت میں بسیرا ہے جہاں۔۔لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا بُرا سوچتے ہیں۔۔مجھے نہیں پتہ کہ جناب عمران خان کو جناب بلاول بھٹو زرداری کا فوبیا ہوگیا ہے یا پھر مشترکہ اپوزیشن کے گٹھ جوڑ سے حوف زدہ ہیں کے ایسی بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہیں کہ وہ۔صاحب اور صاحبہ میں تمیز کرنا بھی بھول گئے مگر کسی نے سچ ہی کہا تھا یوں لگتاہے کہ تحریک انصاف کے چیرمین جناب عمران خان نیازی ابھی تک اپنے آپ کو کنٹینر پر ہی تصور کرتے ہیں جب کے اب اُنہیں پاکستان کا وزیر اعظم بنے بھی اٹھ ماہ ہو چکے ہیں ظاہر ہے جتنا بڑا عہدہ ہو گا اُتنی ہی بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔اخلاقیات کا تو پہلے ہی جنازہ نکل چکا ہے۔قوم اپنے لیڈروں سے اخلاقیات کا درس لیتی ہے جب لیڈر ہی اخلاقیات کا دامن چھوڑ دیں توپھر قوم کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔پھر جناب عمران خان جن کو قوم اپنا مسیحا سمجھ رہی تھی اور اُنسے بہت ساری اُمیدیں باندھ رکھی تھیں بھول گئے ہیں کہ وہ اب سارے پاکستان کے وزیراعظم ہیں اُنہیں تو الفاظ کے چناؤ میں اختیاط برتنا چاہیے اورغیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔اس وقت مہنگائی نے لوگوں کا جینا محال کر رکھا ہے ہر طرف روٹی روٹی کی صدائیں گونج رہی ہیں اور ہمارے وزیراعظم اُنہیں کیک کھانے اور صبر سے پیٹ بھرنے کے مشورے دے رہے ہیں کاش کہ صبر سے غریب عوام کے پیٹ کی آگ بجھ جائے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے