۔،۔ اقتدار کا کمبل ۔طا رق حسین بٹ شان۔،۔

ملک میں جس طرح ہر سو گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور پورے ملک میں جس سرعت کے ساتھ تعفن پھیل رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھا نہیں ہے۔کیا کچرے اور گندھ کو شاہرا ؤ ں سے ہٹانے کے لئے بھی نئی قانون سازی کی ضرورت ہے؟ کیا کچرے کے ڈھیروں کی شہر وں سے باہر منتقلی کیلئے بھی کسی خصوصی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے؟تعفن سے جس طرح عام شہریوں کو بیماریوں کی یلغار کا سامنا ہے وہ بھی پچھلی حکومتوں کے سر منڈھ کر گلو خلاصی کرائی جا سکتی ہے؟ پچھلوں کو کوستے رہنا ایک دلفریب نعرہ ہے لیکن یہ ہر جگہ فٹ نہیں ہوتا۔اپنی نا اہلی کو اس طرح کے پر فریب نعروں سے چھپایا تو جا سکتا ہے لیکن اس سے عوام کے دلوں میں پروان چڑھتی نفرت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔روز کچرے کے ڈھیروں سے اٹھتی ہوئی سرھانڈ کو برداشت کرنے والا کتنی دیر تک صبر کا دامن تھامے گا۔وہ ایک دن اس سرھانڈ کے ہاتھوں مجبور ہو کر حکمرانوں کو صلواتیں سنا کر دل کی بھڑاس نکالے گا اور پھر یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب حکمران عوام کے دلوں سے اتر جاتے ہیں۔حکمران ایک دفعہ دل سے اتر جائیں تو پھر کسی معمولی لغزش سے ان کا اقتدار رخصت ہو جاتا ہے۔جنرل محمد ایوب خان تاشقند معاہدے ے بعد عوام کی نظروں سے اتر گئے تھے لہذا چینی کی قیمت میں چار آنے کا اضافہ ان کی حکومت کے تابوت میں تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔چار آنے کا اضافہ معمولی بات تھی لیکں عوام تاشقند معاہدے پر بھرے پڑے تھے اور کسی بہانے کی تلاش میں تھے اور چینی کی قیمت میں معمولی اضافہ نے انھیں وہ نہانہ فراہم کر دیا۔گیارہ سالہ جنرل محمد ایوب خان کا اقتدار ایسے ڈانواں ڈول ہوا کہ چند ماہ کی تحریک برداشت نہ کر سکا۔یہ سچ ہے کہ اس وقت ذولفقار علی بھٹو کی طلسماتی شخصیت اس حکومت مخالف تحریک کی روحِ روان تھی لیکن اس تحریک کا ایندھن کو خود حکمرانوں نے فراہم کیا تھا۔یہاں سارے حکمران لا محدود اختیارات چاہتے ہیں لیکن وہ کام جن کیلئے کسی لا محدود اختیار کی ضرورت نہیں وہ انھیں نظر نہیں آتے۔وہ انھیں غیراہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ وہ اس سے متاثر نہیں ہوتے۔ بنی گالا،جاتی امراء اور بلاول ہاؤس میں رہنے والوں کو گلیوں محلوں میں بکھرے ہوئے کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں سے کیا لینا دینا ہے۔ یہ گندگی تو لاچار اور غریب عوام کا مقدر ہے جن کے نام پر وہ سیاست کا کاروبار چمکاتے ہیں۔غریب عوام کو رونا رونا ان کا روزمرہ کا معمول ہے لیکن انھیں زچ کرنا اور ان کو تنگ کرنا ان کے فرائضِ منصبی کا جزوِ لا ینفک۔کچرے اور گندگی کے ماحول میں پرورش پانے والے بچے بیماریوں کا شکار ہو کر داعیِ اجل کو لبیک کہہ جاتے ہیں۔ان کے پاس علاج معالجے کی سہویات کا فقدان ہو تا ہے لہذا سسک سسک کر اور بلک بلک کر زندگی کی پونچی ہار جانا فطری ہو تا ہے۔ انھیں اس طرح کے گندے ماحول میں رہنے پر مجبور کرنا ظلم و زیادتی ہے اور ہمارے حکمران ایسی زیادتیوں کو سنجیدہ نہیں لیتے کیونکہ وہ خود ایسی جگہ رہائش پذیر ہوتے ہیں جہاں اس طرح کا کوئی منظر نہیں ہوتا۔ہمارے حکمرانو ں کے بچے اعلی سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جہاں پر غریب غرباء کے بچوں کی تعلیم کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ان کے بچے جوان ہوتے ہی یورپ امریکہ چلے جاتے ہیں اور اعلی تعلیم کے بعد نظر انداز شدہ غریب عوام کا نعرہ بلند کر دیتے ہیں جن سے ان کا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا۔کمال یہ ہے کہ ان کی بودو باش،رہن سہن،تعلیم اور پرورش بالکل علیحدہ ماحول میں ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود غریب عوام کا درد ان کے سینے میں ٹھاٹھیں مارتا رہتا ہے کیونکہ اقتدار کا سنگھاسن ان کے ووٹ کے بغیر ممکن نہں ہوتا۔انھیں بیوقوف بنانے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ ان کی محبت میں مگر مچھ کے آنسو بہائے جائیں اور اس طرح ان بیوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کیا جائے۔،۔ہمارے حکمرانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے سارے فنڈز ان کے اختیار میں ہو نے چائیں۔سپہ سالار کی نامزدگی، ججز کی نامزدگی اور دوسری تمام اہم نامزدگیوں کا اختیار انھیں حاصل ہونا چائیے۔البتہ جو اختیار ات انھیں موجودہ آئینی ڈھانچے میں حاصل ہوتے ہیں وہ ان کے مطابق عمل کرنے سے گریزا ں رہتے ہیں۔اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق صوبوں کو فنڈز جاری کرنے کا پابند ہے لیکن حکمرانوں کو وہ بھی گوارہ نہیں ہے۔ وہ آئے دن رونا روتے رہتے ہیں کہ صوبوں کو فنڈز کی تقسیم کے بعد وفاق کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ فنڈز جنریٹ کرنے کے بہت سے دوسرے طریقے بھی ہیں جن پر عمل دار آمد کرنے سے وفاق اپنی آمدنی میں مزید اضافہ کر سکتا ہے لیکن ایسا کرنے کی بجائے صوبوں کو دباؤ میں لایا جاتا ہے کیونکہ کچھ صوبوں میں حکمرانوں کی مخالف سیاسی جماعتیں بر سرِ اقتدار ہوتی ہیں اور انھیں ہٹانا ہی ان کی اصل دردِ سری ہوتی ہے۔ (روواں یاراں نوں لے لے نام بھراواں دے)۔کبھی گورنر راج کی باتیں کی جاتی ہیں اور کبھی متعلقہ صوبے کے فنڈز روک لینے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور ایسا کرتے وقت حکمران بھول جاتے ہیں کہ سارے صوبے اسی پاکستان کا حصہ ہیں جس کے وہ حکمران ہیں اور ان صوبوں میں بسنے والے عوام پاکستانی ہیں جن کی محبت میں انھیں نیند نہیں آتی۔اگر اٹھارویں آئینی ترمیم نے صوبوں کو حق تفویض کیا ہے تو اس کی پاسداری کی جانی ضروری ہے۔ لیکن ہمارے ہاں آئین کی کون پرواہ کرتا ہے؟ کون آئین کو روبہ عمل لانا چاہتا ہے؟ کون قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہتا ہے؟کون آئین و قانون کو مقدس گردانتا ہے؟ کون اس کی روح کے سامنے سرنگوں ہو نا چاہتا ہے؟یہاں پر تو غدارِ آئین (جنرل پرویز مشرف) کے وکیل کو وزیرِ قانون بنا دیا جاتا ہے تا کہ وفاداری میں کوئی شک ہی نہ رہے۔گویا کہ آئین کی بجائے شخصیتوں سے وفا داری کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ہم نے تو سنا تھا کہ دو مئی کو ایک طالع آزما کے خلاف فیصلہ صادر ہو گا اور نئی تاریخ مرتب ہو گی لیکن پھر کیا ہوا؟سب کے غباروں سے ہوا نکل گئی۔اب ایک نئی تاریخ کا اعلان ہو گیا ہے اور یوں تاریخ دانی کا لا متناہی سلسلہ جاری رہے گا۔سیاستد انوں کیلئے تو سپریم کورٹ چھ ماہ کی قید لگا دیتی ہے اور اپنا سینئر ترین جج بھی احتساب عدالت میں نامزد کر دیتی ہے تا کہ ملزم کے خلاف فیصلہ انتخابات سے قبل سنایا جا سکے۔ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس جب کھلی ہوئی نا انصافی پر اتر آئے تو پھر عوام کس سے فریاد کناں ہوں۔اب بھی احتساب عدالت میں مقدمات ہیں لیکن وہاں کوئی وقت کی قید نہیں اور نہ ہی سپریم کورٹ کا کوئی سینئر جج احتساب عدالت میں نامزد ہے کیونکہ اب اس کی ضروت باقی نہیں رہی۔اقتدار کا کمبل چھیننے کیلئے جو میلہ سجایا جانا تھا وہ سج چکا اور کمبل بھی لٹ چکا لہذا آئین و قانون کی ذاتی اور من پسند تشریح لا حاصل۔ بابا رحمتے اپنا کام کر کے فارغ ہو چکا۔قانون سے تجاوز کرنے کا اس کا آئینی فلسفہ اس کے ساتھ ہی دفن ہو چکا۔تاریخ میں اسے کس نام سے یاد رکھا جائے گا وہ بعید از قیاس نہیں ہے کیونکہ آئینی حکومتوں کو من پسند تشریح سے فارغ کرنے والے تاریخ میں ہمیشہ ولن قرار پائے ہیں۔انوار الحق اور مولوی محمد مشتاق اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ہر سیاستدان قائدِ اعظم محمد علی جناح تو ہو نہیں سکتا جو آئین پر عمل داری کو اپنی زندگی کا مشن قرار دے لے۔یہاں تو آئین کو دوسروں کے خلاف استعمال کرنے کے بہانے تلاش کئے جاتے ہیں۔قائدِ اعظم محمد علی جناح نے تو اپنے کٹر مخالفین کو بھی کبھی زندانوں کے حوالے نہیں کیا تھا لیکن آج کھلے عام سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ٹھونسنے کا اعلان کیا جاتا ہے جسے عوام قانون و انصاف کو ذاتی انتقام کی خاطر استعمال کرنیکا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔خدا کرے کہ یہاں ذاتی انتقام کی بجائے حقیقی احتساب کا حقیقی نظام رائج ہو تاکہ ملک ترقی اور استحکام سے ہمکنار ہوسکے۔،۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے