۔،۔سیدہِ کائنات۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔


جگر گوشہ رسول حضرت فاطمہ ؓ کو شادی کے بعد جو گھر ملا وہ مسجدِ نبوی سے قدرے دور تھا۔ چونکہ لاڈلی بیٹی سے رحمت دو جہاں ﷺ کو بہت زیادہ محبت تھی اور بیٹی سے مل کر سرور کائنات ﷺ کوبہت زیادہ خوشی ملتی تھی اِس لیے اکثر اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بیٹی کو دیکھنے بیٹی کے گھر تشریف لے جاتے۔ اِس آمدورفت میں آپ ﷺ مسافت کی تکلیف محسوس کرتے ایک دن مالک دو جہاں نے اپنی بیٹی سے فرمایا۔ بیٹی مجھے تمھاری محبت یہاں کھینچ لاتی ہے۔ میں تمھیں دیکھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لیکن دور کی مسافت مجھے تنگ کرتی ہے۔ میری یہ خواہش ہے کہ میں تمھیں اپنے قریب ہی گھر لے کر دوں تاکہ روزانہ تم سے ملاقات ہو سکے۔ فخرِ دوعالم ﷺ کے ایک جانثار صحابی حضرت حارث بن نعمان ایک امیر اور سخی انسان تھے آپ اپنے آقا سرورِ دو عالم ﷺ کے لیے مال و متاع کی قربانی کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جب سے سرور دو جہاں ﷺ نے مدینہ منورہ کو رونق بخشی تھی حضرت حارث بن نعمان انصاری اپنے کئی مکانات آقا دو جہاں ﷺ کی نظر کر کے دین و دنیا کی فلاح و نجا ت کا سامان کر چکے تھے اور یہ مکانات رحمتِ دو جہاں ﷺ مستحق مہاجرین میں تقسیم کر چکے تھے۔ حضرت فاطمہ باپ کی دوری بر داشت نہ کرتی تھیں بیٹی اپنے لاڈلے باپ سے مخاطب ہو ئیں کہ بابا جان آپ ﷺ کے جانثار صحابی حضرت حارث بن نعمان کے بہت سارے مکانات آپ ﷺ کے قرب و جوار میں ہیں آپ ﷺ ان سے کہیں کہ وہ میرے لیے کوئی مکان فراہم کر دیں تاکہ میں آپ ﷺ کے قریب آسکوں رحمتِ مجسم ﷺ نے فرمایا بیٹی حارث پہلے ہی کئی مکانات اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی کی خاطر فی سبیل اللہ دے چکا ہے اب مزید اس سے مکان مانگنا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ اپنے بابا کی زبان مبارک سے نکلے یہ کلمات سن کر حضرت فاطمہ خاموش ہو گئیں اور انتظار کرنے لگیں کہ کب خالق ِ ارض و سما اپنی رحمت و برکت سے کوئی سبب بنا دے گا کہ وہ اپنے لاڈلے بابا جان ﷺکی خواہش کے مطابق مسجدِ نبوی کے قرب و جوار میں مکان حاصل کر کے رہائش پذیر ہو سکیں تاکہ کائنات کے عظیم ترین باپ اور بیٹی کے درمیان مسافت کی یہ دوری ختم ہو سکے۔عاشقان مصطفے ﷺ ہر لمحہ اِس جستجو میں رہتے تھے کہ آقا کو کس طرح خوش اور فرماں برداری کی جا سکے اِس لیے وہ ہر لمحہ آپ ﷺ کے ارشادات اور خواہشات کی خبر رکھتے تھے۔محبوب خدا ﷺ کی یہ خواہش کہ اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ کو اپنے قریب لانا چاہتے ہیں مگر مکان دستیاب نہیں ہو رہا۔ یہ بات چلتے چلتے حضرت حارث بن نعمان انصاری تک پہنچی تو وہ یہ خبر سن کر بے چین و بے قرار ہو گئے ایک پل بھی قرار نہ آیا تو عالم اضطراب میں دوڑتے ہوئے شافع محشر رحمتِ دو جہاں ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی آقا ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان مجھے پتہ چلا کہ آپ ﷺ کو اپنے مکان کے قریب کسی ایسے مکان کی ضرورت ہے جس میں آپ ﷺ اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ کو لاسکیں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ جانتے ہیں مسجد نبوی اور آپ ﷺ کے گھر کے قریب میرے بہت سارے مکانات ہیں برا ئے مہربانی ان گھروں میں سے جو آپ ﷺ کو اپنی لاڈلی بیٹی کے لیے پسند ہے قبول فرمائیں۔ اللہ کی قسم جو چیز آپ ﷺ کے پاس رہے گی وہ مجھے اس چیز سے زیادہ محبوب ہو گی جو میرے پاس ہو گی رحمتِ دو جہاں ﷺ نے اپنے جاں نثا ر صحابی کی پیش کش قبول فرمائی اور ان مکانات میں سے ایک قریبی مکان جو آپ ﷺ کے گھر کے قریب تھا لے کر حضرت فاطمہ کو دے دیا جس میں لاڈلی بیٹی رہائش پذیر ہو گئیں۔ یوں ہادی کون و مکان رحمتِ دو جہاں ﷺ کو روز روز کی مسافت سے فراغت ملی۔ اب آپ ﷺ جب چاہتے اپنی لاڈلی بیٹی عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لے جاتے اور جب بیٹی کا دل کرتا تو وہ بھی اپنے بابا جان کا دیدار اور ملاقات کرنے کاشانہ رسول ﷺ پر تشریف لے آئیں۔ طائر وقت تیزی سے پرواز کر تا رہا اور رحمتِ دو جہاں ﷺ مشیت ِ الٰہی کے تحت وصال فرما گئے اور رفیق ِ اعلی سے جا ملے بابا جان کی جدائی کا غم لاڈلی بیٹی کی روح میں پیوست ہو چکا تھا۔ بابا جان کے جانے کے بعد آپ جتنا عرصہ حیات رہیں کبھی تبسم نہ فرمایا۔ اکثر رسول ِ اکرم ﷺ کے روضہ مبارک پر تشریف لے جاتیں سلام پیش کرتیں‘ پرانی یادیں تازہ کرتیں کہ بابا جان آپ ﷺ تو ایک پل مجھ سے دور نہ ہوتے تھے اب اتنی دور کیوں چلے گئے حضرت فاطمہ گھنٹوں وہاں بیٹھ کر آنسو بہاتی رہتی تھیں جب اپنے گھر میں ہوتیں تو بابا جان کی قمیض مبارک نکال کر ہاتھوں میں لے کر روتی رہتی تھیں اس کو پیار کرتی تھیں اس کو بار بار چوم لیتی آنکھوں سے لگاتیں ایک دن بابا جان کی یاد اتنی شدت سے آئی اور ایسا حال طاری ہوا کہ جذبات ِ عشق و محبت نے اشعار کا قالب ڈھال کیا ترجمہ۔ آسمان کے کنارے غبار آلودہ ہوئے آفتاب کی چمک ماند پڑ گئی اور زمانے تاریک ہوگئے نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد زمین غمگین ہو گئی اور شدت ِ غم سے بے قرار ہو کر کانپنے لگی۔ زمین اپنے محور پر گھومتی رہی نبی کریم ﷺ کے وصال کو چھ ماہ گزر گئے ایک روز حضرت فاطمہ کو بابا جان کی یا داتنی شدت سے آئی کہ بہت زیادہ روئیں کہ صبح کی آذان کا وقت ہو گیا فضا میں اللہ اکبر کی صدائے روح افزا بلند ہو ئی تو حضرت فاطمہ نے فجر ادا کی اور نیند نے غلبہ کیا تو عالم خواب میں ملائکہ نظر آئے یوں محسوس ہوا سیدہ فاطمہ کو ملائکہ اڑا کر آسمان کی طرف لے جارہے ہوں یہاں تک کہ ایک حسین و جمیل خوبصورت مقام پر پہنچیں جہاں پر خوبصورت محلات حوریں اور غلمان تھے پوچھا یہ خوبصورت محلات کس کے ہیں تو ملائکہ نے جواب دیا آپ کے بابا جان ﷺ اور دوسرے انبیا و صدیقین کے ہیں۔ اِسی دوران بابا جان کو دیکھا جو نور کے تخت پر جلوہ افروز ہیں آپ ﷺ نے اپنی لختِ جگر کوپہلو میں بٹھا یا سر پر بوسہ دیا اور فرمایا جانِ پدر اِس دلنواز سفید محل کو دیکھو عرض کی ابا جان یہ کس کے ہیں ارشاد ہوا بیٹی تیرے، تیرے شوہر اور تیرے بچوں کے لیے۔ اور پھر سیدہ کی آنکھ کھل گئی۔ اِ س خوا ب کے بعد بابا جان سے ملنے کی تڑپ بہت بڑھ گئی اور پھر عشق و محبت کی اعلی منازل طے کرتے ہوئے جب آپ کی عمر چھبیس سال تھی واصل بحق ہو ئیں اور اپنے خاندان میں سب سے پہلے لاڈلے بابا جان محبوب خدا سرورِ دو عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے