۔،۔اے آراشرف بیورو چیف جرمنی۔اختجاج در اختجاج۔،۔

ریاست مدینہ قائم کرنے کے دعویدار ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان کیا یہ وضاحت کرنا پسند فرمائیں گے کے اُنکے ذہن میں ایسے ہی نئے پاکستان اور ایسی ہی ریاست مدینہ کا تصورتھا جسکے ثمرات سے عوام اب مستفید ہو رہے ہیں کیا ہمارے احمد مرسل ﷺ نے روٹی روٹی کی پکار کرنے والے غریب اور بے سہارا عوام کو۔ کیک۔ کھانے اور صبر کرنے کا مشورہ دیا تھا یا اُنکی حاجت فوراََ پوری کر دیا کرتے تھے یا پھر اُنکی زبانوں پر بھی پہڑے بیٹھا دئیے جاتے تھے اور کیا اُنکے بنیادی حققوْق بھی سلب کر لئے جاتے تھے یہ ایک مسلمہ حققت اور اصول ہے جس چیز کو جتنی قوت سے دبایا جاتا ہے وہ اُتنی ہی قوت اور جوش سے اُبھرتی ہے پھرہر مسلئے کا حل صرف اور صرف مذاکرات ہی ہوتا ہے اگر ہم اپنے ازلی دشمنِ بھارت کو بار بار مذاکرات کی دعوت دے سکتے ہیں تو اپنے ایسے ہموطنوں کو اور اپنے دوست اسلامی ملک سے شکایات کے آزالے کیلئے کیوں مذاکرات نہیں کر سکتے۔کراچی میں پُرامن دھرنے کے شُرکا کی گرفتاریاں اور اُن پر لاٹھی چارج پولیس کا کوئی دانشمندانہ اقدام نہ تھا بلکہ جلتی پر تیل ڈال کر چنگاڑی سے آگ بھڑکانے کی ایک کوشش تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس میں بھی کچھ ایسے شر پسند عناصر موجود ہیں جو معاملے کو ہوا دیکر حالات خراب کرنا چاہتے ہیں۔پولیس کے اس متشددانہ اقدام کے رد عمل میں کراچی ہی میں مزید چھ جگہوں پر مختلف تنظیموں نے دھرنے دینے کا اعلان کر دیا اسطرح پولیس نے حالات خراب کرنے میں اپنا حصہ ڈال ہی دیا۔ مجھے تو اپنے عزت ماب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس بیان پر حیرانگی ہوئی کہ اُنہوں نے امریکہ کو خوش کرنے کیلئے نیوی اہلکاروں کی شہادت کے تانے بانے ایران سے جوڑ دیئے جبکہ پاک فوج کے ترجمان جناب آصف غفور بار بار اظہار کر چکے ہیں کہ ایران ہمارا دشمن نہیں ہے پاکستان میں لاپتہ افراد کی رہائی کیلئے کراچی میں صدر پاکستان کے گھر کے سامنے کئی روز سے جاری دھرنے اور اختجاج سے یکجہتی کیلئے جرمنی میں بھی۶مئی ۹۱۰۲ کو پاکستان کونصلیٹ فرانکفرٹ کے سامنے۔پاک حیدری ایسوسی ایشن نے دو سے چار بجے تک مختصر وقت کیلئے پُرامن دھرنے اور اختجاج کا اہتمام کیا جس میں شیعہ جبری گرفتاریوں اور گمشُدگیوں کیخلاف دھرنے اور اختجاج کے دوران پاکستان کونصلیٹ کے روئیے اور فرعونیت کو دیکھ کر احساس ہوا کہ یہاں پنجابی کی کہاوت ہے۔۔تند نہیں تانی ہی خراب ہے۔۔یعنی اوپر سے نیچے تک سب ہی کو اصلاح کی سخت ضرورت ہے ظاہر ہے یہ حکومتی نااہلی اورکمزوری کی علامت ہے اچھا سفارت کار یا حکومتی ترجمان وہی ہوتا ہے جو موقع کی نزاکت کے مطابق معاملات کو مذاکرات سے سُلجھانے کی کوشش کرتا ہے نہ کہ جلتی پر تیل ڈالتا ہے۔ریاست کا آولین فرض عوام کی جان و مال کی حفاظت اور آئیں اور قانون کا نفاذ ہوتا ہے وطن عزیز میں جہاں ماورائے عدالت گمشدگیاں اورگرفتاریاں ہوں اور وارثین کو یہ بھی خبر نہ ہو کہ گرفتار یا گمشدہ ا فرادزندہ ہیں یا مُردہ ایسے میں اُنکے عزیز و اقارب پر جو قیامت گذرتی ہے اُسکا درد وہی محسوس کر سکتا ہے جس پر یہ قیامت بیت رہی ہوتی ہے اور جب ریاست اپنے فرائض ہی ادا کرنے سے قاصر نظر آئے اورگورنر جیسے اہم عہدے پرفائز حکمران داد رسی کیلئے آئے ہوئے وفد کو دلاسا دینے کی بجائے اُلٹا اُنہیں اشتعال دلائیں کہ جتنے مرضی ہے اختجاج کر لو یہاں کچھ بھی نہیں ہونے والاتو ایسے عوام کے پاس اختجاج ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔اسوقت حکومتی رٹ اسقدر کمزور اور لاغر ہو چکی ہے دہشت گردوں نے پھر سے اپنی کاروائیاں تیز کر دیں ہیں جسے پاک افواج نے خون کا نذرانہ دیکر امن و شانتی کا ماحول پیدا کیا تھا ایسا ہونا فطری عمل ہے کیونکہ حکومت نے کالعدم تنظیموں کے ایسے دہشت گردوں کو بھی اپنی ٹیم کا حصہ بنانے کا عندیہ دے رکھا ہے پھر جہاں عدل و انصاف کابے دردی سے سب کی آنکھوں کے سامنے صبح و شام خون ہو رہا ہو،جہاں دن دھاڑے ہماری بہو بیٹیوں،ماؤں اور بہنوں کی عزتیں نیلام ہو رہی ہوں،جہاں چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال ہونے لگے،جہاں کمسن بچوں کو اغوا کر کے بھاری رقم کا تاوَان طلب کیا جائے،جہاں دہشت گردوں کو قانون ساز اسمبلیوں میں بیٹھنے کا حق مل جائے،جہاں اورسیز پاکستانیوں کی املاک خون پسینے سے کمائی گئی املاک پرزبردستی قبضہ جما کر ہتھیا لیا جائے،جہاں پولیس کا ایک ایس ایچ او دیار غیر سے آئے ہوئے پاکستانی کے خلاف جھوٹے مقدمات بنا کر کروڑ روپے رشوت کا مطالبہ کرئے۔جہاں غریب کیلئے قانون علیحدہ اور امیر کیلئے علیحدہ ہو۔جہاں ادارے اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے من مانی کرنے لگیں ایسے میں دشمن قوتوں کو بھی وطن عزیز میں انارکی پھیلانے کا موقع مل جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے