۔،۔ پاکستان میں تبدیلی اور آئی ایم ایف کا شکنجہ۔ ( پہلو۔صابر مغل ) ۔،۔

پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے جائزہ حکام کے درمیان دس روزہ طویل مذاکرات کے بعد 8ارب ڈالر کا معاہدہ طے پا چکا جس کا مسودہ حتمی منظوری کے لئے واشنگٹن بھیج دیا گیا ہے،3سالہ پروگرام کے تحت آئندہ سال جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس کی 11.72فیصد سے بڑھا کر 13.2فیصد،براہ راست ٹیکسوں کا حجم1164ارب سے1904ارب روپے تک،بجٹ خسارہ 4.5فیصدتک محدود،ایف بی آر کا ریوینیو ٹاگٹ 5300ارب روپیشرح سود12فیصد،نئے بجٹ میں 13سو ارب روپے کے نئے ٹیکس،جولائی سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ،ہر سال دو بار بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ،نیپرا اور اوگرا قیمتوں کے تعین اور سٹیٹ بینک ایکسچینج ریٹ مقرر کرنے میں خود مختار،غیر ترقیاتی اخراجات محدود،خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری،تمام شعبوں میں دی جانے والی سبسڈی ختم،ہر قسط سے قبل شرائط کو پورا کرنا،چین سمیت دیگر دوست ممالک آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائیں کے کہ چائنہ قرض رول اوور ہو گا،یہ رقم چین سمیت کسی قسم کے قرضوں کی ادائیگی میں استعمال نہیں ہو گی،اہداف کا جائزہ ہر تین ماہ بعد لیا جائے گا جیسی شرائط سامنے آئی ہیں جن سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا ہو جائے گا،اذیت میں مبتلا عوام مزید پس جائیں گے،وزیر اعظم عمران خانبار بار کہہ چکے ہیں مشکل فیصلے وسیع تر مفاد کے لئے ہیں پاکستان معاشی استحکام کی طرف گامزن ہے پچھلا نظام ٹھیک نہیں تھااس لئے مزید قرضے بڑھے،مہنگائی ہے مگرقوم کو کرپشن اور غربت سے نجات دلانا چاہتے ہیں مایوس نہیں کریں گیقومی ادارے ڈی ریل نہیں ہوں گے قرض اتارنے اور نظام کی بہتری کے لئے قوم کو مزید انتظار کرنا ہوگا،اپوزیشن نے مجموعی طور اس معادے کو رد کر دیا ہے ان کے مطابق پاکستانی معیشت IMFکے پاس گروی رکھ دی گئی ہے،ہر طرف مہنگائی ہی مہنگائی ہے جس میں مزیدخطرناک حد تک اضافہ ہو گا،حکومت ہر شعبہ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے،ادویات جیسی چیزوں میں 3سے600فیصد تک اضافہ ہوا مگرحکوممت کہتی ہے سب ٹھیک ہے،پاکستان اور پاکستانی قوم کی گذشتہ کئی دہائیوں سے یہی بد قسمتی رہی ہے کہ اسے جو بھی حکمران ملا اس نے کہا خزانہ خالی ہے،پہلی حکومت سب کچھ لوٹ لے گئی جبکہ آنے والی حکومت کبھی کسی کو مقدمہ چلا کر مجرم ثابت نہیں کر سکی اور جاتے ہوئے خود بھی خزانہ خالی کر کے چلتی بنی،ملک کے وسائل کہاں ہیں انہیں کون لوٹ لے لیا،کل والا قرضہ نہیں اتارا جا رہا تو نیا لیا جانے ولا قرضہ کیسے اترے گا؟ہر کوئی اپنی اپنی کتاب کے ورق عوامی ہمدردی میں سیاہ کر کے چلتا بنا مگر کسی کو سمجھ نہیں آئی کہ عوام کے مسائل کا حل ہے کیا؟یا یہ طبقہ عوام کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہی نہیں،دھکوں اور مصیبتوں کی ماری قوم امید کا دامن تھامے ایڑیاں رگڑنے پر مجبور ہے ہمیشہ چہرے بدلے مگر نظام کسی نے نہیں بدلا،پاکستان اپنے قیام کے تین سال بعد ہی 4جولائی1950کو اس عالمی سود خور عالمی مالیاتی ادارے کا ممبر بن گیا،1988سے پہلے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین قلیل مدتی معاہدے ہوتے رہے ایسے قرضوں میں معاشی اصلاحات کی شرائط نہیں ہوتیں اس کے بعد سٹرکلچرل ایڈ جسٹمنٹ پروگرام کا آغاز ہوا،اس پروگرام کے تحت آئی ایم ایف شدید ترین معاشی مشکالت میں گھرے ممالک اپنے شکنجے میں کسنے کے لئے مخصوص شرائط پر قرضہ دیتا ہے،پاکستان کا یہ12واں مشروط قرض ہے،گذشتہ تین پروگرامز میں 6ارب ڈالر سے زائد قرضہ لیا جا چکا ہے،ہر ممبر ملک جو قرض حاصل کرتا ہے در اصل یہ رقم انہی ممالک کی ہی ہوتی ہے ہر ممبر ملک اپنے حصہ کے پیسے آئی ایم ایف کو باقاعدگی سے دیتا ہے اس کی دی جانے والی رقم سے ہی اس ملک کا کوٹہ مقرر کیا جاتا ہے مقرر کوٹے سے زیادہ وقرض کا حصول مشروط قرض ہوتا ہے پاکستان نے آج تک جتنے بھی مشروط قرضے حاصل کئے آج تک وہ ان شرائط (معاشی اصلاحات) پر پورا نہیں اتر سکا اس بار پاکستانی تاریخ کی سب سے کڑی شرائط رکھی گئی ہیں جس میں امریکہ کا بھی کلیدی کردار ہے ماضی میں صرف پرویز مشرف نے امریکی سفارش کے بغیر قرض حاصل کیا جس کی بنیادی وجہ کہ پاکستان نیٹو کا نان اتحادی ملک بننے جا رہا تھا،اب ٹرمپ انتظامیہ بھی پاکستان کو سپورٹ نہیں کر رہی اسی لئے سخت رین شرائط کا سامنا کرنا پڑا،پاکستان کا مخصوص کوٹہ2031ملین ایس ڈی آر ہے ایس ڈی آر کرنسی کی وہ شکل ہے جو آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے لین دین میں استعمال کرتے ہیں اس وقت ایک ایس صی آر کی قدر 1.36امریکی ڈالر ہے یوں ایسے قرض کسی بھی ترقی پذیر ملک کو مزید نچوڑ دیتے ہیں،آئی ای کا ڈیفالٹر ہونا نا ممکن ہے جس کا مطلب کہ وہ ملک بین الاقوامی معاشی سسٹم سے الگ تھلگ ہو گیا آئی ایم ایف سے قرض کا حصول کسی بھی ملک کی معیشت کو چلانے کا آخری حربہ ہوتا ہے اور پھر وہ ملک قرض کی دلدل اور بھنور میں ہی غوطے کھتا رہتا ہے اس کی عوام کسمپرسی کا شکار ہو جاتی ہے،پاکستان کے ذمہ آئی ایم ایف کے 5.6ارب ڈالر واجب الادا ہیں، ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق کتے مطابق دسکاؤنٹ ریٹ بڑھے گا،روپے کی قدر کم ہو گی،گیس بجلی مہنگی ہو گی،بے روزگاری بڑھے گی اور یہ سب پاکستانی عوام کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہو گااس سے معاشی استحکام نہیں آئے گا بلکہ یہ قرض شرح نمو کو مزید گرا دے گاآئی ایم ایف کے اس پروگرام کے مطابق 2سے3سال تک GDPکی شرح نمو دو سے اڑھائی فیصد رکھنا ہو گی بلکہ جس ملک میں ہر سال13سے کے قریب نوجوان افراد روزگار کے لئے مارکیٹ میں آئیں وہاں کم از کم شرح نموسات فیصد ہونی چاہئے،پی ٹی آئی کی حکومت کا یہ فیصلہ معاشی میدان میں موجودہ مشکلات اور مہنگائی میں صحیح معنوں میں اضافہ عوام کی کمر توڑ کے رکھ دے گا،عمران خان حکومت نے کء یدعوے کئے کہ وہ کبھی عالمی مالایتی اداروں کے پاس نہیں جائیں گے اس حوالے سے کئی ممالک کے دورے کئے،پیسے لئے تیل ادھا ر لیا،مگر کچھ بہتری نہ آئی بلکہ حالات بد تر سے مزید بدتری کی جانب لڑھکتے چلے گئے 9اکتوبر کو حکومت نے فیصلہ کیا کہ اس کا آئی ایم ایف کے پاس جانا ضروری ہے،یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 1947سے2009تک ملک پر 5.9کھرب روپے کا قرض تھا2009سے2011تک مزید پانچ کھرب کے قرضے گلے پڑ گئے اس د وران حکومت سالانہ ایک کھرب کے نوٹ چھاپ کر کام چلاتی رہی ایسے اقدامات ہی ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں موجودہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ چار سال میں ساڑھے گیارہ کھرب روپے کے کرنسی نوٹ چھاپے گئے پھر ہم ایسے لوگوں سے بہتری کی امید رکھے ہوئے یہاں کے حکمران پاگل نہیں بلکہ عوام پاگل اور بدقسمت ہیں،اس وقت عوامی امنگوں کو جیسے گہن لگ چکا ہے ان کی مایوسی گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹکنے لگی ہے،اس ملک میں آمرانہ اور جمہوری قوتوں کا عوامی وژن ہمیشہ محدود ہی رہا،سود اسلام۔عیاسئیات اور یہودیت میں یکساں ممنوؑع ؑ اور حرام ہے لیکن یہودیوں نے عالمی معیشت پر پنجے گاڑھنے کے لئے1778میں یورپ میں سود خوری کی اجازت حاصل کر لی آج سپر پاور امریکہ سمیت پوری دنیا کی معیشت یہودیوں کی مٹھی میں ہے پاکستان جیسی اسلامی ریاست کوبھی ہمارے رہبروں نے سود خوری کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور ایسے عوامل میں مکروہ کرداروں کے ذاتی مفادات پنہاں تھے،یہاں مراعات یافتہ طبقہ نے ہمیشہ عوامی حقوق کو غصب کیا،ڈاکہ ڈالا،انہوں نے ہم میں سے ہر ایک کو مقروض کر دیا ہے ہمارے پیدا ہونے والے بچے بھی مقروض ہی پیدا ہوتے ہیں بھوک سے مرتے مفلوک الحال غریب کو انہی کے منتخب کردہ نمائندوں بد حال کر رکھا ہے،تمام مشکل فیصلے اور آزمائشیں غریب عوام کے لئے ہی کیوں ہیں؟ان کا اطلاق طبقہ اشرافیہ پر کیوں نہیں ہوتا،قوم اس وقت سہمی اور ڈری ڈری لگ رہی ہے ان کے چہروں پر آئی کچھ رونق بھی ماند پڑ چکی ہے وہ کون ہے جو سب سے پہلے ان کی روٹی کا بندوبست کرے گا؟انہیں مشکل فیصلوں کی بھینٹ نہیں چڑھنے دے گا؟ایسے مسیحا شاید ہماری قسمت میں ہی نہیں،بہرحال آئی ایم ایف سے آئی ایم ایف کے مذاکرات پر حکومت پاکستان بارکباد کی مستحق ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے