۔،۔ اجتماعی نماز عید منہاج انٹرنیشنل فرینکفرٹ کے زیر اہتمام نارتھ ویسٹ سٹڈ میں ادا کی جائے گی۔،۔

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نماز عيد كے ليے مسجد چھوڑ كر عيد گاہ جايا كرتے تھے، اور اسى طرح ان كے بعد خلفاء راشدين بھى، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم قريب ہونے كے باوجو افضل كو ترك نہ كرتے، اور دور ہونے كے ساتھ نافص فعل كا تكلف نہ كرتے، اس ليے ان كى امت كے ليے بھى مشروع نہيں كہ وہ فضائل كو ترك كريں، اور اس ليے بھى كہ ہميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اتباع اور پيروى كا حكم ہے، اور يہ جائز نہيں كہ جس كا حكم ديا گيا ہو وہ ناقص ہو، اور جس سے منع كيا گيا ہے وہ كامل ہو. مدينہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نماز عيد كے ليے عيدگاہ تشريف لے جايا كرتے تھے، اور اسى طرح ان كے بعد والے بھى، اور اہل مكہ كے علاوہ باقى عام ملكوں والے بھى، ہميں علم ہوا ہے كہ اہل مكہ والوں كو سلف نے مسجد كے علاوہ كہيں نماز نہيں پڑھائى، ميرے خيال ميں ـ واللہ تعالى اعلم ـ يہ اس ليے كہ كيونكہ مسجد حرام دنيا ميں سب سے بہترين جگہ ہے، اس ليے انہوں نے پسند يہى كيا كہ ان كى نماز اس كے علاوہ كہيں اور نہ ہو.

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے