۔،۔ رنڈی رونڑاں۔افتخار احمد۔،۔

افتخار احمد کولون۔آئی ایم ایف سے ڈیل کی خبریں آنے کے بعد سے کسی بھی ٹی وی چینل پر کوئی بھی حکومتی وزیر سوالات کے جواب دینے کے لیے دستیاب نہیں اگر کوئی آیا بھی تو بات مکمل کئے بغیر اٹھ کر چل دیا جو دیگر نمایندے موجود ہوتے ہیں ان کی صرف ایک ہی رٹا رٹایا رنڈی رونا ہوتا ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے پیسہ کھایا جب کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں وہ آیندہ کے حکومتی لائحہ عمل کے منتظر ہیں جس کا دور دور تک کوئی نشان نہیں نتیجتاً سٹاک ایکسچینج مارکییٹ روزانہ کی بنیاد پر دھڑام سے نیچے گر کر لوگوں کا اربوں روپیہ ڈبوتی چلی جا رہی ہے عوام یوٹیلیٹی اسٹورز کے خالی ریگال دیکھ دیکھ کر مایوس ہو رہے ہیں صحت کارڈ کی نوید سننے والے غریب افراد ہر شام ٹی وی چینلز سے یہ امید لگائے بیٹھتے ہیں کہ ملک کا وزیراعظم یا وزیر صحت ان کے لئے کوئی سستا زہر اناونس کرے گا جس سے وہ اجتماعی خود کشی کر کے بلکتے بچوں کو دیکھنے سے نجات حاصل کر سکیں مگر ایسا بھی نہیں ہو رہا جو اسٹیبلشمنٹ ملاؤں کو اپنی گود میں بٹھائے بیٹھی تھی اب قرض لینے کی خاطر انہیں گرفتار کر کے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا تماشا کر کے خود تماشا بننے جا رہی ہے سود در سود کے مکروہ دھندے میں گھٹنوں تک گھس کر ہاتھوں میں کھیلنے والی تسبیح لئے وزیراعظم قوم کو ریاست مدینہ کے خواب دکھا کر مدینہ کے والی کی روح کو بھی بے چین کر رہا ہے مانگے تانگے بندوں سے جس طرح نظام حکومت دھکیلا جا رہا ہے اسکے انجام سے خوف آ رہا ہے آیندہ چند ماہ بعد ملک میں عالمی سازشیں کس طرح سامنے آئیں گی بین الاقوامی میڈیا نقاب کشائی کر چکا ہے ایک ایسا شخص جسے ماسوائے کرکٹ کے گیارہ کھلاڑیوں پر کنٹرول حاصل ہونے کے علاؤہ اور کوئی تجربہ نہیں تھا کو بیس کروڑ کی ابادی والا ملک تھما کر جن طاقتوں نے اپنے فوائد حاصل کرنے کے لیے یہ کھیل کھیلا ان میں بیرونی طاقتیں بھی شامل ہیں اور اندرونی بھی ، بیرونی تو شاید اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں مگر اندرونی طاقتوں کے ہاتھ ماسوائے رسوائی کے اور کچھ نہیں آئے گا جن لوگوں نے تبدیلی کے لیے ووٹ دئے تھے وہ تو بھگتیں گے ہی مگر سسکیاں اور چیخیں ان کی بھی نکلیں گی جو گناہ میں شریک ہوئے بغیر پیٹ پر پتھر باندھیں گے
اللہ تعالیٰ اس ملک وقوم پر اپنا رحم و کرم فرمائے جس کا اتنا قصور نہیں تھا جتنی سزا بھگتنے جا رہی ہے

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے