۔،۔”ایمنسٹی اسکیم“عوام دشمنوں کیلئے ”این آرا و“ہی ہے‘ جی کیو ایم ۔،۔
آئی ایم ایف کے پاس جانا اور ایمنسٹی اسکیم لانا عمران خان کی شکست اور سسٹم کی فتح ہے!
احتساب کا نعرہ لگانے والے لٹیروں کو ساہوکار تسلیم کرنے پرمجبور ہوچکے ہیں‘عرفان سولنگی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) گجراتی قومی موومنٹ کی چیئرمین گجراتی سرکار عرفان سولنگی عرف پٹی والا نے پی ٹی آئی حکومت کی ایمنسٹی اسکیم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین نے اپنی سیاست کی بنیاد کرپشن فری سوسائٹی کے نعرے کی بنیاد پر رکھی تھی مگر جوں جوں وقت گزررہا ہے یہ محسوس ہورہا ہے کہ کرپشن کا سسٹم وزیر اعظم‘ ان کی نیت اور ان کے حوصلے سے زیادہ مضبوط و طاقتور ہے کیونکہ مقتدر و باختیار طبقات اور اشرافیہ نے قومی دولت و وسائل کو لوٹ کر لوٹ کر نہ صرف ملک و قوم کو غریب و کنگال کردیا ہے بلکہ لوٹی گئی دولت کے بل بوتے پر منتخب ایوانوں میں پہنچ کر پورے سسٹم کوبھی یرغمال بنارکھا ہے اور ایک اندازے کے مطابق ان لٹیروں کے 200ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے بیرون ملک موجود ہیں اگر یہ اثاثے ملک میں واپس لاکر ان سے یہاں سرمایہ کاری کی جائے تو نہ صرف وطن عزیز ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکتا ہے بلکہ ہم تمام بیرونی قرضوں سے نجات پاکر ہمیشہ کیلئے آئی ایم ایف سے بھی آزاد ہوسکتے ہیں مگر پیپلز پارٹی کے ودر میں صدر مملکت آصف علی زرداری کو حاصل استثنیٰ کو بنیاد بناکر سوئس بنکوں میں موجود اثاثوں کو بچانے کیلئے یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ کو قربان کیا گیا اور پھر راجہ پرویز اشرف نے بھی اس معاملے کو لٹکائے رکھا جبکہ تیسرے نواز دور حکومت میں وزیراعظم نواز شریف پانامہ لیکس کا شکار تو ہوئے مگراب تک شریف فیملی‘ زرداری خاندان و دیگر لوگوں کے بیرون ملک موجود ناجائز اثاثوں کی وطن واپسی کے حوالے سے کوئی پیشرفت دکھائی نہیں دے رہی ہے یہی نہیں بلکہ کرپشن فری سوسائٹی کے نعرے کی بنیاد پر اقتدا ر پانے والے عمران خان بھی نہ صرف آئی ایم ایف سے قرض لینے پر بلکہ کالے دھن کو سفید بنانے والی ”ایمنسٹی اسکیم“ کا سہارا لیکر لٹیروں کوساہوکار تسلیم کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی کو بھی این آر او نہیں دینے کاعزم کرنے والے عمران خان اپنے اس عزم پر تو قائم ہیں مگر ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے انہیں دوسری محفوظ راہداری بھی فراہم کررہے ہیں جو ملک چلانے کی مجبوری‘ عمران خان کی شکست اور کرپشن و سسٹم کی فتح ہے۔

 

 

 

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے