۔،۔مسلما ن جسد واحد ہو جائیں!ملک شفقت اللہ۔،۔


امریکہ اور ایران تعلقات انقلاب ایران کے بعد سے اچھے نہیں رہے ہیں۔ان میں اتار چڑھاؤ تو رہا لیکن ساتھ ہی ایران نے ایسی پالیسیوں کو اپنائے رکھا جن میں ایران فرسٹ رہا۔حالانکہ او آئی سی اور او پیک کے بانی رکن ہونے کا اعزاز بھی ایران کو حاصل ہے۔ اس کے علاوہ تمام مسلم ممالک میں سے ایران، پاکستان اور ملائیشیا کا اسرائیل کی صیہونی سلطنت کو تسلیم نہ کرنے کا ہمیشہ ٹھوس مؤقف رہا ہے۔ مگر یہاں ایران کی منافقت جھلکتی ہے جب وہ شام اور عراق میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر حریت پسندوں کو کچلتا رہا ہے۔ صرف عراق اور شام میں ہی نہیں بلکہ اس نے افغانستان میں جتنا امریکہ کا کام کیا شاید ہی کسی نے کیا ہو۔ پاکستان نے توامریکہ کو اڈے فراہم کئے لیکن ایران نے تو پاسداران کو بھیج کر کئی ایسے محاذ پر جہاں امریکی پھنس جاتے تھے انہیں نکالا ہے۔ طالبان اور ملا عمر کی حکومت ختم کرنے میں بھی ایران پیش پیش رہا، اگر ایران سرحدوں پر اور افغانستان کے اندر رہ کر غیر مستحکم نہ کرتا تو طالبان کی حکومت نے جتنی جلدی سوویت جنگ کے بعد خود کو سنبھالا تھا آج افغانستان کا شمار بھی عظیم اسلامی ممالک میں ہوتا۔ مزار شریف میں جب آپریشن کیا گیا تو وہاں سے کئی ایرانی پکڑے گئے لیکن ایران کہتا ہے کہ وہ پورے خطے میں امن کا داعی ہے۔ مگر اس نے لوائے عباس، فاطمیون اور زینبیون جیسی تحریکیں بھی پال رکھی ہیں۔افغانستان میں امریکیوں اور طالبا ن کے درمیان جو آخری معرکہ ہلمند میں ہوا ہے وہاں امریکی فوجی پھنس گئے تھے، پھر ایرانی پاسداران انقلاب وہاں گئے اور انہیں وہاں سے نکالا۔ ایک طرف اس قدر وفا داریاں اور دوسری طرف واشنگٹن کی طرف سے یک طرفہ معاہدہ توڑ دینا کئی سوال جنم دیتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس میں واضح طور پر ابراہم لنکن کے سر پر طاقت کا بھوت ناچ رہا ہے۔لیکن وہ اس تباہی سے بے خبر ہے جو پوری دنیا کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ دنیا شاہد ہے کہ سبھی بڑی بڑی سپر پاورز گٹھنوں کے بل اوندھے منہ گری تھیں کہ انہیں پسپائی کا راستہ بھی نہیں مل رہا تھا۔ برطانیہ ہو، سوویت یونین ہو یا ہٹلر کا جرمنی ہر کسی نے طاقت کو پاش پاش ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اب اس وقت دنیا کی سپر پاور امریکہ ہے اسے بھی طاقت کا نشہ ہے وہ کبھی عراق تو کبھی افغانستان اور کبھی ویت نام طبع آزمائی میں مصروف رہتا ہے۔پہلے صدام حسین سے ایران کو غیر مستحکم کیا اور پھر کویت کو خراب کیا، پھر اسی کویت کا ساتھ دے کر عراق کو خراب کیا، شام میں بھی یہی پالیسی کھیلی گئی اور پھر اتنے برسوں کی جنگ کے بعد کہا کہ ہمیں وہاں سے کچھ نہیں ملا ہے۔ ایران بھی دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے،اور ہمیشہ امریکہ کی پابندیوں کی زد میں رہنے کے باوجود اس کے ہاتھ لگا رہا ہے۔ یہی کچھ سعودی عرب بھی کرتا رہتا ہے، جس یمن میں امریکہ سعودی عرب سے حملے کروا رہا ہے اسی یمن میں ایران سے سنی علاقوں میں حملے کروا رہا ہے اور پھر خود یمن کو ہتھیار بھی بیچ رہا ہے، لیکن افسوس کہ یہ پالیسیاں دونوں ممالک کی سمجھ میں نہیں آر ہیں۔ سعودی عرب بھی اب پچھتا رہا ہے کہ اس نے امریکہ کا ساتھ کیوں دیا۔ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ بھی اقتصادی تعلقات استوار کئے ہوئے ہے جو کہ پوری امت مسلمہ کیلئے تباہی ہے۔ ایران جو پندرہ سالوں سے امریکہ کا ساتھ دیتا رہا ہے ساتھ ہی ایک غیر اعلانیہ حکومت تہران سے بغداد، بغداد سے دمشق اور دمشق سے بیروت تک قائم کر چکا ہے اور اسرائیل کے دروازہ پر کھڑا ہے۔ اسرائیل ایران کے ایجنڈوں سے خوب واقف ہے اسی لئے اب وہ امریکہ کے سامنے دوہائیاں پیٹ رہا ہے۔ امریکی صدر جہاں یرو شلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر چکا ہے وہیں اس نے ایرانی فوج پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ایران پر کئی اقتصادی پابندیاں لگا چکا ہے۔ جن میں سے کئی بھارت اور یورپی ممالک کے اصرار پر اٹھا لی گئیں ہیں جن میں تیل کی فروخت سر فہرست ہے اور اس سے بھارت کو بہت فائدہ ہو رہا ہے کیونکہ اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے بھارت ایران سے تیل کافی کم قیمتوں میں خرید کر رہا ہے۔لیکن اسرائیل چاہتا ہے کہ امریکہ شام و عراق سے لوائے عباس کو نکالے جنہیں ایران کی مدد سے حریت پسندوں کو کچلنے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے، ساتھ ہی شام اور عراق کی شیعہ کمیونٹی پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ایرانی باشندوں کو نکالیں یا انہیں ختم کریں۔عراقی صدر مرتضٰی نے ایرانیوں کو نکلنے کا کہہ دیا ہے، اقتدار میں آنے سے پہلے اس کا منشور یہی تھا کہ وہ ایرانیوں کو نکالے گا۔ ایران مشر ق وسطیٰ میں صدیوں بعد معرض وجود میں آنے والی فارسی سلطنت سے کبھی دستبردار نہیں ہونا چاہتا۔ایران چاہتا ہے کہ شام سے لے کر ایران تک، سعودی عرب اور یمن والی پرانی فارسی سلطنت بحال ہو جائے۔ خسرو پرویز کی سلطنت شام سے ایران تک آتی تھی۔ جیسے ہی پاسداران انقلاب کو امریکہ نے دہشتگرد قرار دیا ساتھ ہی ایران کی قومی اسمبلی میں اس قرار داد کو منظور کیا گیا کہ امریکی فوج دہشتگرد ہے۔ اس کے بعد امریکہ کے خلاف سوشل میڈیا پر اور ایران میں پوری کیمپین چلائی جا رہی ہے جس طرح سے کویت کے خلاف جنگ سے پہلے عراق میں چلائی گئی تھی اور لوگوں کو ذہنی طور پر جنگ کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ امریکہ اپنا طیارہ بردار جنگی بیڑہ مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر چکا ہے اور ساتھ ہی امریکہ وزیر خارجہ نے بغداد پہنچ کر یہ پیغام دیا ہے کہ اگر ایران نے امریکہ مفاد کے خلاف یا اس کے اتحادیوں کے خلاف کوئی اقدام اٹھایا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ اپریل میں جب یو ایس ایس ابراہم لنکن نامی جنگی بحری بیڑے کو خلیج فارس کی جانب روانہ کیا گیا تھا تو اس پر بمبار طیارے، جنگی ہیلی کاپٹر، ڈسٹرائیر اور چھ ہزار سے زیادہ سیلر موجود تھے۔ اب اگر یہ ابراہم لنکن انٹرنیشنل چک پوائینٹ پر آ کر کھڑا ہو جائے تو خلیج فارس کا راستہ بند ہو جائے گا۔ لیکن وہیں چین اور یورپی دباؤ کی وجہ امریکہ کی جانب سے بیان آ چکا ہے کہ امریکہ جنگ نہیں چاہتا،ہاں! اگر ایران نے پہل کی تو وہ بھرپور جواب دیں گے، بین الاقوامی میڈیا اور وسطی ایشیائی ممالک کے دانشوروں کا ایک بڑا طبقہ ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے اس امید پر ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ چپقلش عشروں سے چلتی آ رہی ہے لیکن امریکہ حملہ نہیں کرے گا کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ایران آٹھ لاکھ فوج کا حامل ملک ہے اور کسی بھی بیرونی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کچھ دانشوروں کی طرف سے یہ گمان کیا جا رہا ہے کہ جنگ ہونے کے ٹھوس امکانات موجود ہیں۔مگر ایرانی صحافی اور دانشور بار بار ایران کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ امریکہ مطالبات تسلیم کر لے اور جنگ کی طرف نہ جائے۔جنگ خطے کے ساتھ ایرانی تیل کے ذخائر کو بھی نقصان پہنچائے گی۔ امریکہ نے پاکستان کو بھی دھمکی دے دی ہے کہ وہ ایران کے معاملے میں دور رہے بصورت دیگر اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن اس بار نہ صرف خطے بلکہ مسلمہ امہ کی بقاء کا سوال ہے اور پاکستان کو ضرور اس کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں،سعودی عرب،ایران اور پاکستان مسلمانوں کی نبض ہیں اور ایران پر حملہ عالمی جنگ کو چھیڑ سکتا ہے۔چاہے ایران نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوہرا رویہ روا رکھا لیکن اپنی سالمیت اور ملت کیلئے ایران کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، اس کے علاوہ پاکستان اور سعودی عرب کے پاس کوئی چارہ نہیں لیکن اس سے پہلے یمن وار ختم کرنا ہوگی۔ ہم اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتے کہ مسلمان صدقات و خیرات کے سہارے اور بیرونی امداد کی آس پر زندہ رہیں، حالانکہ مسلم ممالک میں ہر چیز اتنی وافر مقدار میں میسر ہے کہ اگر منصفانہ تقسیم کی جائے تو سب لوگوں کی ضروریات بطریق احسن پوری ہو سکتی ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ تمام مسلم ممالک کے حکمرانوں کے درمیان تعلقات باہمی محبت، عدل و انصاف اور احترام کی بنیادوں پر استوار ہو جائیں۔ہمیں افغانستان، عراق، شام، سیریا، کویت، مصر، لیبیا، مراکش، تیونس وغیرہ کے حالات سے سبق سیکھنا چاہئے اور آگے بڑھ کر ایک دوسرے کو تھام لینا چاہئے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے