۔،۔ ہمارانظام تعلیم اور سماج فہمی کے تقاضے۔ ( پہلو۔ صابر مغل ) ۔،۔

پاکستان میں نظام تعلیم دور جدید کے تقاضوں سے تاحال ہم آہنگ نہ ہے بلکہ یہاں ایک نہیں متعدد اقسام کے نظام تعلیم رائج ہیں جس کی بنیاد پر طبقاتی نظام تعلیم ہمارے سماج میں پوری طرح سرایت کر چکا ہے،قیام پاکستان سے لے کر اب تک کئی تعلیمی پالیسیاں رائج ہوئیں،کئی تجربات کئے گئے مگر یہ سب کچھ اس طبقہ نے رائج کیا جن کا عام آدمی کی زندگی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا نتیجہ وہی نکلا جو وہ چاہتے تھے،ہماری پسماندگی اور اندھیروں کی ایک بڑی وجہ یہاں کے حکمران ہیں جنہوں نے اپنے اقتدار کی ہمہ گیریت اور طوالت کی بدولت ایسا نظام وضع کر رکھا ہے کہ جس کے باعث ہمارا معاشرہ سماج فہمی،شعور اور داراک سے یکسر عاری ہے اور جب تک یہ تینوں صفات کسی آدمی میں نہ ہوں وہ کسی کام کا نہیں رہتا یا ہوتا،ہماری تنزلی اور پستی میں اہم ترین وجہ سماج فہمی کی تشویشناک حد تک کمی ہے،اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سماجی شعور اور فہم کا براہ راست تعلق تعلیم سے ہے سماج فہمی کے لئے تعلیم ہی کلیدی حیثیت کی حامل ہے،کوئی خاندان،معاشرہ،قوم،ریاست اور مملکت جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہو گی وہ اتنا ہی سماجی طور بھی با شعور ہو گی،جو ملک جتنا زیادہ تعلیم یافتہ ہے اس کے لوگ اتنا ہی زیادہ سماجی فہم کے مالک ہوں گے اور جہاں تعلیم کی کمی ہو گی وہاں کے لوگ اتنا ہی زیادہ پسماندگی کا شکار ہوں گے،سماجی پسماندگی ایک طرح سے ذہنی افلاس ہے اور بد قسمتی سے پاکستان میں ذہنی افلاس اور ذہنی پسماندگی باقاعدہ درماندگی کے ہاتھوں تشکیل پائے،ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اگر شرح خواندگی 100فیصد بھی ہو جائے توتب بھی یہاں کے باسیوں کا سماجی شعور50سا ل بعد آج کے قدرے کم ترقی یافتہ ممالک سپین اور ترکی کے موجودہ سماجی فہم تک پہنچے گاتصور کریں ان50سالوں بعد ترکی اور سپین کی عوام کا سماجی فہم اور شعور کہاں تک پہنچ چکا ہو گا،اول تو پاکستان میں شرح خواندگی ہی انتہائی شرمناک ہے اور سرکاری طور پرجو نظام تعلیم رائج ہے اس تعلیم بطور روزگار تو کچھ نہ کچھ بندوبست ہو جاتا ہے لیکن یہ ناقص تعلیم سماج فہمی میں اضافے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کررہا حقیقت میں تعلیم اور چیز ہے جبکہ علم اور چیز ہے مسلمانوں نے جب تعلیم کو علم کے تابع رکھا تو ترقی کی معراج پر متمکن رہے اور جیسے ہی تعلیم کو علم سے الگ کیا تو نہ علم رہا نہ تعلیم،آج اغیار ہی علم والے ہیں وہی تعلیم یافتہ ہیں وہی سماجی طور باشعور اور وہی رہنماء بنے ہوئے ہیں،سماج فہمی جیسے بنیادی اور سلگتے موضوع پرڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ آف ساہیوالDIPSکے زیر اہتمام ایک مشاورتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا،DIPکے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر جلیل بٹ معاشرتی برائیوں کی روک تھام اور نوجوان نسل میں بہتری کی کاوششوں میں ہمیشہ مگن نظر آتے ہیں یہ ان کے ذہین کی ہی بہترین تخلیق تھی کہ انہوں نے اس اہم ترین موضوع پر مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد یقینی بنایا جن جانب آج تک کسی نے توجہ مبذول نہیں کی، ای لائربیری ساہیوال میں منعقدہ اس ورکشاپ میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف ساہیوا ل پروفیسر ڈاکٹر ناصر افضل،کنگز کالج آف میڈیکل سائنسز کے چیرمین ڈاکٹر جاوید اقبال،قائد اعظم کالج آف انجینرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر مبشر حسین،یونیورسٹی آف ساہیوال کی پروفیسر طیبہ نوید،نجی تعلیمی اداروں کے پرنسپلزنعمان مسعود،اسیس اجمل،محمد توصیف،سید شبیر حیدراور ای لائبریری کے انچارج محمد عنصر اور الراقم نے بطور مہمانان خصوصی جبکہ متعدد تعلیمی اداروں کے طلبا ء وطالبات نے خصوصی طور پر شرکت کی،تمام مقررین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان سماجی فہم کے حوالے سے بہت پیچھے ہے جس کی بنیادی ذمہ داری ہمارے اکابرین پر عاید ہوتی ہے جنہوں نے آج تک قوم کو بہتر پالیسی نہ دی لہٰذا ضروری ہے کہ ہر فرد اپنے تہیں اپنے ارد گرد سماج فہمی کے لئے کردار ادا کرے اورخود کو بھی مشاہدات اور نئی تخلیقات سے ہم آہنگ کرے اس کے علاوہ سماج فہمی کے لئے مشاروتی ورکشاپ جیسے کام کو مزید وسعت دینے،جاری رکھنے پر زور اپنی خدمات فراہم کرنے اور پروفیسر جلیل بٹ کی اس کاؤش پر خراج تحسین پیش کیا،اس موقع پر طلبا و طالبات نے در پیش مسائل پر ماہرین تعلیم سے سوالات کئے، پاکستان میں سماج فہمی اور شعور کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ترین ضروت ہے قوم اور آنے والی نسلوں کی کامیابی کے سماجی فہم کے بنیادی تقاضے ہیں کہ ہم اپنی تعلیم اور علم کو یکجا رکھیں،حکومت سے تو کسی ایسے عمل کی توقع نہیں کی جاسکتی اس کے لئے درد دل رکھنے والے طبقے کو اپنا بھرپوتر کردار ادا کرنا ہو گا تبھی ہماری قوم میں سماج فہمی کی بڑھوتی ممکن ہے، چند روز قبل چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک کیس کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست تعلیم کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور خود لوگوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ نجی سکولز میں بچوں کو داخل کرائیں،جسٹس فیصل عرب نے کہاہمارا معیار تعلیم کہاں گیاموجودہ نظام کی وجہ سے بھاری فیسیں ادا نہ کر سکنے والا ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے،آئین کاآرٹیکل 18کاروبار اور تجارت کی بات کرتا ہے جس سے سوال جنم لیتا ہے کیا اسکولنگ تجارت ہے یا کاروبار؟در حقیقت ہمارے تعلیمی نظام کو مافیا نے مکمل طور پر یر غمال بنا رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ پاکستان کے شعبہ تعلیم میں پرائیویٹ سیکٹر کا بہت بڑا کردار ہے ایسا کردار کیوں نہ ہو جب تمام اہم اعلیٰ سرکاری اداروں کو بھی عام آدمی کی دسترس سے باہر کر دیا جائے،جو بھی عام تعلیمی اداروں میں کیا کسی کام کا نہ رہا،ملک بھر کے سوائے ان سرکاری تعلیمی اداروں کے جہاں کے سربراہان اپنی انتھک جدوجہد سے ادارے کو ادارہ ہی بنا دیتے ہیں ورنہ سب آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے،حیرت تو اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ چند مکمل طور پر پاک فوج کے زیر اہتمام کیڈٹ کالجز کے علاوہ باقی ہر کیڈٹ کالج جو سینکڑوں ایکڑ سرکاری اراضی پر قائم ہے وہاں عام آدمی بھاری بھرکم فیسوں کی وجہ سے بچے کو داخل کرانے کا تصور تک نہیں کر سکتا،ہمیں اس دلدل سے نکلنا ہوگا، قومی سطع پر تعلیم کو فروغ دینا اور نظام تعلیم اس نہج پر استوار کرنا ہو گا کہ ہم تعلیمی ترقی،علمی برتری اور سماجی شعور کی ان منازل سے آشنا ہو جائیں جن سے ہمارے اجداد آشنا تھے،ہمیں پروفیسر جلیل بٹ جنہوں نیاایسا انمول پروگرام تشکیل دیا جس سے ہماری نئی نسل کی کامیابی ممیز ہے ان کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے،ہمیں ہر مقام پر ان کا ساتھ دینا کسی قومی فریضہ سے ہرگز کم نہیں، انہیں اور ہمیں یہ نیک اور مقدس کام کرتے رہنا چاہئے تبھی نئی نویلی سحر پیدا ہو گی اور سماجی فہم کا آفتاب طلوع ہوع گا،

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے