۔،۔ ساہیوال میں بچوں کی اموات اور سیاسی ماتم ( پہلو۔ صابر مغل ) ۔،۔


ڈویژنل ہیڈ کوراٹر ساہیوال کے DHQاور ٹیچنگ ہسپتال میں عید سے دو روز قبل 24گھنٹوں کے اندر8نومولود بچوں کی ہلاکت متعلقہ ہسپتال انتظامیہ کی شدید نا اہلی اور مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے تاحال ذمہ دار کو محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے کوئی سزا نہیں دی گئی شاید دی بھی نہ جائے کیونکہ اس ملک کا چلن ہی ایسے ہے جو جتنی کوتاہی کرتا ہے وہ اتنا ہی لاڈلہ ہوٹا ہے اسی کے سفارشی اعلیٰ ترین عہدوں پر براجمان ہوتے ہیں ہر سرکاری ہسپتال پر مافیازکا راج ہے،ساہیوال کے اس المناک واقعہ کو مقامی انتظامیہ نے دبانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر میڈیا رپورٹس کے بعد ایسا نہ ہو سکا ڈپٹی کمشنر ساہیوال محمد زمان وٹو جو ایک اچھی شہرت کے مالک ہیں فوری ہسپتال پہنچے ایم ایس کے کمرے میں لگا اے سی فوری اتروا کر چلڈرن وارڈ میں لگوا دیا،ڈی سی زمان وٹو کے مطابق بائیو میڈیکل انجینئرلقمان تابش اس واقعہ کے اصل ذمہ دار ہیں ایڈیشنل سیکرٹری صحت رفاقت علی شیخ بھی ساہیوال پہنچے،وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور وزیر صحت ڈاکٹر راشدہ یاسمین نے بھی فوری طور پر واقعہ کی رپورٹ طلب کی اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کا وعدہ کیا،دنیا سے انسانی غفلت کے تحت ماں باپ بہن بھائیوں،رشتہ داروں کو چیختے چلاتے چھوڑ کر جانے والے چلے گئے مگر نہ ان کی مجرمانہ غفلت کے باعث ہونے پر کوئی ایکشن ہوا نہ ورثاء کی کوئی داد رسی ہوئی،یہ سانحہ بہت خوفناک تھا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اس واقعہ کے ذمہ داران کو عبرت کا نشان بنانا چاہئے،ساہیوال ہسپتال ڈیژن بھر میں اپنی کارکردگی کے لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتا تھا مگر اب شاید یہاں مسیحا نہیں درندے نما انسان تعینات ہیں جنہوں نے اس بہترین ہسپتال کو موت کی آماجگاہ بنا کر رکھ دیا ہے،ایک عرصہ سے اس ہسپتال میں بد نظمی،کوتاہی اور غفلت کی داستانیں زبان زد عام تھیں،ہمارے سیاست دانوں کی ڈرامہ بازی سب سے اعلیٰ درجے کے ہیں،موجودہ حکومت کے ماتحت اس غفلت پر ان کی انسانیت کی رگ پھڑک اٹھی سابق چیف منسٹر پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا،ساہیوال کے واقعہ پر دل خون کے آنسو روتا ہے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے میری ہمدردیاں بچوں کے والدین کے ساتھ ہیں پنجاب حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے مجرمان غفلت کے ذمہ دار کسی رعایت کے مستحق نہیں،مریم نواز نے حسب معمول ٹویٹ کے ذریعے ہی سیاست چمکائی اور کہاان ذمہ داریوں سے غافل حکمرانوں کو کوئی جھنجھوڑے اور بتائے کہ ان اموات کے ذمہ دار وہ ہیں دل ہلا دینے والا واقعہ قابل مذمت ہے یہ بہت بڑا ظلم ہے جس سبب مجرمانہ غفلت ہے نا اہل حکمرانوں کو غفلت کا جواب دنیا اور آخرت میں دونوں جگہ دینا ہو گا کیا حکمرانوں کی اپنی اولاد نہیں اگر ہے تو آپ کا احساس کہاں سو رہا ہے،رانا ثنا ء اللہ نے کہاوزیر اعلیٰ پنجاب مستعفی ہوں یہ انسانیت دشمنی کی انتہا ہے ان معصوم بچوں کے اصل قاتل نا اہل عمران نیازی ہیں جنہوں نے پنجاب پر نا اہل ٹیم مسلط کی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں ذمہ داران کو سزا ملنے تک خاموش نہیں بیٹھیں گے،سینیٹر آصف کرمانی نے کہابچوں کی ہلاکت کی FIRپنجاب حکومت کے خلاف ہونی چاہئے نہ نا لائق اور نمائشی لوگ ہیں جو پاکستان سے کھلواڑ کر رہے ہیں،چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اس واقعہ کو کوتاہی اور نا اہلی کا تاریخی واقعہ واقعہ قراردیتے ہوئے کہا ان نا سمجھوں کو پتا ہی نہیں حکومت کیسے کی جاتی ہے،سابق چیرمین سینٹ نیر بخاری نے کہابچوں کی اموات کا معاملہ انتہائی تشویشناک ہے اس سے پنجاب حکومت کی کارکردگی کا پول کھل گیا اور صحت سے متعلق متضاد دعوے عیاں ہو گئے،حمزہ شہباز شریف نے کہا 10ماہ کی تبدیلی نے میاں شہباز شریف کی10سالہ محنت کا بیڑہ غرق کر دیا یہ نالائقی او رنا اہلی ہے،بلاشبہ بچوں کی ہلاکت نالائقی،نااہلی سے کم نہیں محکمہ صحت کو چلانا ڈاکٹر راشدہ یاسمین کے بس کی بات ہی نہیں یہ محکمہ کئی دہائیوں سے کرپشن نا اہلیوں اور نا لائقیوں سے بھرا پڑا ہے،مگر ذرا مذمت کرنے والوں کا ماضی چیک کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ مذمت اور نا اہلی اور سزا نہ ملنے تک چپ نہ رہنے کے دعوے سب مگر مچھ کے آنسوؤں کی مانند ہیں،کیابعد میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے کسی بھی رکن نے ان معصوم پھولوں کی بات کی؟ خون کے آنسو رونے والے کسی کے گھر گئے؟جس یہ لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں تب یہ کسی کو سڑکوں پر گھسیٹتے ہیں پیٹ پھاڑتے ہیں،کسی سے ہاتھ ملانا خدا کو ناراض کرنے کے مترادف کہتے ہیں،ان کی نہ کوئی زبان نہ کوئی اخلاقی اقدار،انتہائی غیر مہذبانہ زبان پاکستانی سیاست کا وطیرہ بن چکا ہے ہم کسی کے نہ تو ترجمان ہیں نہ کسی کے سپورٹرز،نہ کسی کے کارکن ہمیں صرف او رصرف پاکستانیت سے غرض جھوٹوں کے خلاف لکھتے ہیں لکھتے رہیں گے،ان کے پاس بہت وسائل ہیں ہیں یہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ میں بدلنے کا فن جانتے ہیں،دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں عرصہ دراز سے پاکستان کے ناخدا بنے ہوئے تھے جہاں کہیں بھی موجودہ حکومت ساہیوال جیسی غفلت اور نا اہلی کا مظاہرہ کرے گی ہم اس کے سب سے بڑے ناقد ہوں گے،15ستمبر 2009کو 6ماہ میں فیصل آباد جیسے تیسرے بڑے شہر میں ناقص اور ناکافی انتظامات کے باعث ایک ہزار بچے جان سے گئے 1986سے صرف78بیڈ الائیڈ ہسپتال میں تھے 21سال بعد بھی اتنے ہی،10جنوری 2018کو سرکاری اعدادو شمار کے مطابق تین سال کے دوران فیصل آباد میں ہی 11ہزار کے قریب بچے موت کے منہ میں گئے یہ وہ ہسپتال ہے جہاں سے جھنگ،سرگودھا،خوشاب،ٹوبہ ٹیک سنگھ اور چنیوٹ کے اضلاع سے مریض بچے لائے جاتے ہیں،2مار2013میں پنجاب کارڈیالوجی لاہور میں محض ادویات نہ ملنے پر کم از کم200افراد موت کی وادی میں چلے گئے،تب لاہورہائی کورٹ نے نوٹس لیا توبہتری آئی،رتو ڈیرو میں 8سو سے زائد افرادجن میں سے پونے 7سو بچے ہیں جو ایڈز جیسے مہلک مرض کا شکار ہو چکے ہیں،گذشتہ30دنوں میں تھرپارکر میں 70بچوں کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں رواں سال یہ تعداد400تک پہنچ چکی ہے،جن کے بچے موت کی اس وادی میں علاج کے لئے آئے ان کا اب تو کوئی ایک بھی ہمدرد نہیں،اس بات کو فراموش نہ کریں کہ ہم پر مسلط طبقات کے ہوتے ہوئے ہم تو کوئی سہانا خواب دیکھنے سے بھی محروم ہیں جہاں عوام پیٹ بھرنے کے لئے روٹی تک کو ترسیں وہاں صحت اور تعلیم جیسی سہولیات کہاں نیند کہاں؟سب وعدے،نعرے ہماری بے بسی کا کھلامذاق ہیں بھلا کسی ریاست کو70سال سے زائد عرصہ آزاد ہوئے ہوا ہو وہاں بھی وعدے؟واقعی ہم ہی بے وقوف ہیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے