۔،۔85 قتل کے مرتکب مجرم نے عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی۔،۔

شان پاکستان اولڈن برگ۔ گذشتہ ہفتہ جرمنی میں قتل کی کاروائیوں کے مجرم کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، مجرم نیلس ہوگل Niels Hogel نے اپنی عمر قید سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی، 42 سالہ نیلس ہوگل نے 2000سے 2005 تک ایک اسپتال میں میل نرس Male Nurse کا کام سرانجام دیتے ہوئے درجنوں مریضوں کو ڈیوٹی کے دوران انجکشن دے کر موت کی نیند سلا دیا۔ وہ 34سے96 سالہ مریضوں کو دل کی حرکت بند کرنے کے انجکشن لگا کر پھر ان کو بچانے کی ٹرائی کرتا تھا تا کہ اس کا نام ہو جائے کہ اس نے مرتے مریضوں کی زندگی بچا لی اسی دوران اس کے ہاتھوں تقریباََ 85 افراد موت کی آغوش میں چلے گئے۔ جمعرات کو عدالتی فیصلہ سے قبل Niels Hogel کو مزید 6افراد کو قتل کرنے کا مجرم ٹھہرایا گیا اس طرح مرنے والوں کی تعداد مجموعی طور پر 91 تک پہنچ گئی۔رپورٹ کے مطابق موت کا شکار بننے والوں کی حقیقی تعداد کبھی بھی معلوم نہیں ہو سکے گی کیوں کے بہت سی لاشوں کو جلا بھی دیا گیا تھا۔ پولیس اور سرکاری وکیل کو شبہ ہے کہ ان کے مطابق تقریباََ 200 افراد سے زیادہ زندگیوں کے چراغ نیلس ہوگلNiels Hogel نے اپنے ہاتھوں سے گُل کئے ہوں گے۔ اولڈن برگ Oldenburg کی عدالت نے Niels Hogel کو عمر قید کی سزا سنائی تھی،فیصلہ کے ساتھ شرائط بھی منسلک کی گئی تھی کہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے عمر قید 15 سال گزارنے سے پہلے باہر آنا مشکل ہو گا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے