۔،۔دہشتگردی کا سرطان۔اے آراشرف۔،۔


اُنہیں یہ ضد ہے،مسلط رہے،چمن میں خزاں،۔۔۔۔۔۔۔ہمیں جنوں ہے،چمن میں، بہار آ کے رہے،
بدقسمتی سے پاکستان اُن بدنصیب ممالک میں شامل ہے بلکہ سرفہرست ہے جو دہشتگردی کی اس جنگ میں سب سے زیادہ متاثر اور مضروب ہوئے ہیں اور مسلسل ہو رہے ہیں۔میں اس موقع پر اپنی پاک افواج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جہنوں نے بے مثال قربانیاں دیکر کسی حد تک دہشتگردی کا قلع قمع کر کے نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیاکو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ہم اپنی پاک افواج کے ان مثبت اور بہادرانہ اقدامات پر دل کی گہرائیوں سے فخر کرتے ہیں۔ اس موقع پر سید اقبال حیدر نے تقریب کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج کے محباسہ کا بنیادی مقصد معاشرے میں جنم لینے والی نفرتوں کا خاتمہ اور امن دشمن گروہوں کی نشاندہی ہے اُنہوں نے کہا اس وقت مسلم اُمہ دہشت گردی کی آگ میں جل رہی ہے۔معروف شاعر،صحافی اور دانشور جناب عاطف توقیر نے کہا بلا شُبہ دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے اسکی جتنی بھی مذمت کی جا ئے کم ہے لیکن یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ پاکستان میں ہزارہ برادری کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے اُنہیں اپنے ہی وطن میں آزادانہ گھومنے پر بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پا کستان ایسوسی ایشن کے صدر سید وجع الحسن جعفری نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا وہ یہ نہیں دیکھتے یہ مسجد یا امبارگاہ سنیوں کی ہے یا شیعوں کی اور وہ اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر اسلام کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں جبکہ اسلام کسی ایک قتل کو بھی پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔پاکستان جرمن پریس کلب کے نائب صدر جناب عطاالرحمان اشرف نے کہا کہ دہشتگردی ایک ایسی فکر،سوچ اور ایک ایسا ماینڈ سیٹ ہے ایسی ناسور ہے جس نے نہ صرف عالم اسلام بلکہ اقوام عالم کا سکون برباد کر رکھ اہے مگریہ سوال ہر ذی شعورشخص کے ذہن میں اُٹھتا ہے کہ آخر ان دہشت گرد وں کی سفاکی اور بربریت کانشانہ زیادہ تر مسلم ممالک ہی کیوں بنتے ہیں۔لیبیاہو یا یمن،شام ہویا عراق،مصر ہو یا افغانستان،ایران ہو یا پاکستان،چین ہو یا روس، بھارت ہو یا کشمیر،اسرائیل ہو یا فلسطین،برما ہو یا ایشیا، یورپ ہو یا امریکہ ہر جگہ پر مسلمان ہی کیوں سب سے زیادہ دہشتگردوں کی سفاکی کا نشانہ بن رہے ہیں بلکہ ساری دنیا ہی اب اس فرسودہ سوچ اور فکر سے بُری طرح متاثر ہو رہی ہے اور اب تو ان دہشتگردوں کا رخ یورپ کی جانب بھی ہو چکا ہے مگرالمیہ یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک چانداور مریخ پر تو جانے کے راستے وہ آسانی سے ڈھونڈ لیتے ہیں مگر انسانیت کی تذلیل کرنے والے ان دہشتگرد گروہ کی فکر اور سوچ کے اُس محور کا کھوج لگانے میں ابھی تک بُری طرح ناکام ہیں کہ کہاں سے یہ فتنہ کی چنگاڑی پھوٹتی ہے،آخر انکے مقاصد کیا ہیں اور وہ کون لوگ ہیں جوبے گناہ،مجبور، بے بس اور معصوم لوگوں کا خون بہا رہے ہیں؟۔کیا وہ اسلام دشمن ہیں یا اسلام پسند؟ کیا دہشتگرد پاکستان کے دشمن ہیں یا کسی کے اشاروں پر بے گناہ عوام کا خون بہاکر دشمنی کا بدلہ لے رہے ہیں اگر انکی دشمنی امریکہ سے ہے توپھر اُنسے بدلہ لیں پاکستان کو ہی کیوں ظُلم وبربریت کا نشان بنا رہے ہیں دراصل۔داعش اور القاعدہ جیسی تنظموں کے پس پردہ ایسی طاقتور قوتیں ہیں جو اُنہیں کثیر مقدار میں جدید اسلحہ مہیا کرنے کے علاوہ بھرپور مالی معاونت بھی کرتی ہیں۔ سید اقبال حیدرچیرمین ہیومن ویلفیرایسوسی ایشن جرمنی اس لحاظ سے منفرد شخصیت کے حامل ہیں جو،مشاعرے ہوں یا ثقافتی پروگرام ادبی محفلیں ہوں یا فکری نشستیں انکے انعقاد میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گاکہ ایسی نشستوں کے اہتمام میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے اور وہ اکثر ایسی نشستوں کا اہتمام کرکے عوامی جذبات کی ترجمانی کا فریضہ ادا کرتے رہتے ہیں آج کی اس فکری نشست کا موضوع دنیا بھر میں پھیلا۔ دہشتتگردی کا سرطان۔ہے جو اب ایک بین العقوامی بہت سنجیدہ ایشو بن چکاہے یہ ایک ایسی سوچ،فکراورایسی ناسور اور اچھوت کی بیماری ہے جس نے نا صرف عالم اسلام بلکہ اقوام عالم کا سکون برباد کر رکھا ہے اگر اس بیماری پر قابو نہ پایا گیا تو یہ دنیا کو جہنم بنادے گی اصل میں حق و باطل کی یہ جنگ ازل سے جاری ہے جب خدا نے ابوالبشر حضرت آدمؑ کا بدن ایک خاص مٹی سے بنا لیا تو اُس میں اپنی روح پھونک کرفرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمؑ کو سجدہ کریں اُنہوں نے خدا کے حکم کی فوراََ تعمیل کی مگر شیطان نے اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔خدا نے اُس سے دریافت کیا کہ تمیں آدمؑ کو سجدہ کرنے میں کیا چیز مانع ہوئی یا تم سرکشوں میں سے ہو۔اورحکم دیا کہ وہ آسمانوں کی حدود سے نکل جائے اور اُسے اپنی رحمت سے محروم کردیا اور کہا کہ قیامت تک تجھ پر لعنت برستی رہے گی یہ دہشتگرد بھی اُس شیطان کے چیلے ہیں لیکن اپنے چمن ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں بہار لانے کا فریضہ جسطرح پاکستانی افواج نے ادا کیا تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی میری نظر میں کوئی دوسراملک ایسا نہیں ہے جس نے انسانیت کا بھرم رکھنے اوراقوام عالم کو امن و شانتی کاگہوارہ بنانے کیلئے سترہزار نفوس کی قربانی اور سو ارب سے زائد کی املاک کا نقصان اُٹھایا ہو۔چاہیے تو یہ تھاکہ اقوام عالم پاکستان کی خدمات کو قدراور اخترام کی نظر سے دیکھتی اور پاکستان کے نقصانات کا آزالہ کرتی مگر افسوس اس بات کا ہے کہ دنیا بھر میں چند ممالک کے علاوہ دنیاکے اکثر ممالک تو ان خدمات کا صلہ دینا تو دور کی بات ان خدمات کا اعتراف کرنا بھی گناہ کبیرا سمجھتے ہیں حصوصناََ۔ناگ دیوتا۔ جسکی لگائی ہوئی آگ سے دنیا کا کوئی کونابھی محفوظ نہیں وہ پاکستان اور پاک افواج کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے اکثر ڈو مور کی رٹ لگائے رکھتا ہے۔حضرت علی علیہ اسلام کا فرمان ہے کہ۔جس پر احسان کرو اُسکے شر سے بھی ڈرو۔دنیا جانتی ہے کہ یہ دہشتگردی کی جنگ پاکستان کی نہیں تھی یہ امریکہ اور اُنکے اتحادیوں کی جنگ تھی جسے پاکستان کی گردن کا پھندا بنا دیا گیا مگر اس کے باوجود پاک افواج نے بڑی بہادری اورجوانمردی سے اس کا مقابلہ کرکے اس کی جڑیں کاٹ کر دیں اور دنیا کیلئے تو امن و شانتی کی راہیں کھول دیں مگر وطن عزیز ابھی تک اس آگ میں جل رہا ہے ا ور دہشگرد اپنی ناکامیوں کا بدلہ پاکستان سے لے رہے ہیں اور جن اتحادیوں کیلئے یہ سب قربانیاں دیں پاکستان کومیدان میں اکیلا چھوڑ کر اپنا دامن بچا کر بھاگ رہے ہیں اور احسان کا بدلہ چکا رہے ہیں

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے