-,-سبق آموز کہانیوں 1 ایک عالمی اثاثہ تحریر۔پروفیسر ڈاکٹراخلاق گیلانی۔ سڈنی (آسٹریلیا)-,-
سویڈن میں 1995 ؁ء سے مقیم میڈیکل سائنس کے عالمی شہرت یافتہ ادارے کارولنسکا انسٹیٹیوٹ کے شعبہء ِ طب سے وابستہ نامور محقق، دانشور، ادیب، کالم نگار و صحافی اور سماجی شخصیت ڈاکٹر عارف محمود کسانہ سے میرا تفصیلی تعارف اردو نیٹ جاپان کے مدیرِ اعلیٰ، دنیا بھر میں جانی پہچانی دوست پرور، دوست نواز شخصیت اور چار کتابوں کے مصنف ناصر ناکاگاوا کے توسط سے ہوا۔ ڈاکٹر کسانہ سے چندبار کی ٹیلیفونک گفتگو نے مجھے ان کی صلاحیتوں اور محبتوں کا اسیر کردیا۔ بقولِ ساحر لدھیانویؔ
؎ تجھ کو خبر نہیں مگر اک سادہ لوح کو
برباد کردیا تیرے دودن کے پیار نے
میں نے موصوف کو انتہائی اعلیٰ علمی و ادبی ذوق رکھنے والا ایک نفیس و نستعلیق انسان پایا۔ میری معلومات کے مطابق وہ سارے اسکینڈے نیوین ممالک کے علاوہ دنیا بھر کے علمی و ادبی حلقوں اور دوستوں کی ہردلعزیز شخصیت ہیں۔ ڈاکٹر عارف کسانہ سویڈن میں اسلام، پاکستان، کشمیر اردو اور اقبال کا پرچم سربلند رکھے ہوئے ہیں۔ اردونیٹ جاپان میں بالخصوص اور پوری دنیا میں بالعموم رنگا رنگ موضوعات پر اُن کے کالم بڑے تواتر سے شائع ہوتے رہتے ہیں۔حال ہی میں مجھے ڈاکٹر عارف کسانہ کی طرف سے اسلامی موضوعات پر ننھے منے بچوں کے لئے ان کی تحریر کردہ “سبق آموزاسلامی کہانیاں ” اور کالموں کا مجموعہ ” افکارِ تازہ” اسٹاک ہوم سے موصول ہوا، میں نے کتاب میں شامل ساری کہانیوں کو ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالا۔ میری رائے کے مطابق یہ واقعی ایک قابلِ ستائش کارنامہ ہے۔ بدقسمتی سے ماضی کے برعکس گزشتہ کئی دہائیوں سے آج کے پاکستان میں بچوں کا ادب سرکاری و غیر سرکاری سطح پر عدم توجہی کا شکار ہے۔ اس کے برعکس تمام ترقی یافتہ ممالک مثلاً یورپ، امریکہ، آسٹریلیاء، جاپان، چین، کوریا میں کسی بھی کتابوں کی دکان یا لائبریری میں چلے جائیں وہاں آپ کوبچوں کے ادب کا ایک بڑا ذخیرہ ملے گا کیونکہ زندہ اقوام کی ساری امیدیں اپنی نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر مرکوز ہوتی ہیں تاکہ بچوں کی اچھی پرورش اور ان میں ذوقِ مطالعہ کوفروغ دے کرمعاشرے کا ایک اعلیٰ، مفید اور کار آمد شہری بنایا جاسکے۔ ادھر دوسری جانب ہم مسلمان جن کا ماضی شاندار رہا ہے اور ہماری اسلامی تاریخ علم و ادب کا ایک وسیع ذخیرہ اور تہذیب و روایات رکھتی ہے وہ اپنوں کی بے حسی اور اغیار کی سازشوں کے سبب بے حسی و بے بسی کا شکار ہیں۔ میرا ایمان کی حد تک یہ یقین ہے کہ پاکستان کا موجودہ گلا سڑا معاشرہ اور فرسودہ نظام صرف اور صرف نسلِ نو کی بہترین تعلیم و تربیت سے ہی سدھر سکتا ہے۔ماضی میں مولانا روم ؒ سے لے کرشیخ سعدیؒ او ر دیگر اولیاء اللہ نے عام انسانوں کی اخلاقی و دینی تربیت اور اسلامی تعلیمات کو عام فہم اور دل نشیں بنانے کیلئے چھوٹی چھوٹی حکایات اور کہانیوں کا سہارا لیا، اسی طرح ہمارے بچپن میں مائیں، دادیاں، نانیاں رات کو سونے سے پہلے بچوں کو چھوٹی چھوٹی دلچسپ و سبق آموز کہانیاں سنایا کرتی تھیں، کچھ تو مادہ پرستی کی دوڑ، کچھ عدیم الفرصتی اور کچھ سوشل میڈیا کی بہتات سے بچوں کو کہانیاں سنانے کا عمل بتدریج کم ہو کر مفقود ہوتا جا رہا ہے۔اسی طرح ماضی میں ڈپٹی نذیر احمد نے توبۃ النصوح اور مراۃ العروس جیسے عظیم ناول اور اسمٰعیل میرٹھی و علامہ اقبال اور صوفی تبسم نے بچوں کے لئے خوبصورت نظمیں تخلیق کر کے برصغیر کے مسلمانوں سے خوب خراجِ تحسین حاصل کیا۔ اردو زبان میں بچوں کے ادب کے اس دورِ بے حسی میں ڈاکٹر عارف محمود کسانہ کی تحریر کردہ اسلامی معلومات پر مبنی سبق آموز کہانیاں واقعی ایک قابلِ ستائش کارنامہ ہے۔ ڈاکٹر عارف کسانہ نے کمال مہارت سے ان سبق آموز کہانیوں میں بنیادی دینی و اسلامی معلومات کو ننھے منے بچوں کے معصوم اذہان میں ثبت کرنے کے لئے سادہ و سلیس الفاظ میں ثقیل اردو کی بجائے ہلکے پھلکے انداز میں تحریر کیا ہے۔ پوری کتاب کی زبان کہیں پر بھی بچے کے ذہن پر گراں نہیں گذرتی۔ دورانِ مطالعہ یوں لگتا ہے جیسے گھر میں کہانی سنانے کے دھیمے انداز میں بات چیت ہو رہی ہو مگر باتوں اور سوال و جواب کی صورت میں ہر کہانی بچے کے سادہ، بھولے اور معصوم ذہن پر اپنے گہرے نقوش چھوڑتی چلی جاتی ہے۔ بچوں کے نفسیات کی یہ آفاقی سچائی ہے کہ وہ بچپن میں اپنے بڑوں اور بزرگوں سے سنی یا پڑھی ہوئی بات یا کہانی کو زندگی بھر بھول نہیں پاتے بلکہ اپنے بڑھاپے میں کہانیاں سنانے والے اپنے بزرگوں کو یاد کر کرکے آنسو بہاتے ہیں۔ڈاکٹر عارف کی اس کتاب میں جو کہانیاں شامل کی گئی ہیں دارصل وہ ان ننھے منے بچوں کے لئے ہیں جو اپنے والدین کے ساتھ غیر مسلم ممالک میں زندگیاں بسر کر رہے ہیں یا انکی پیدائیش ان ممالک میں ہوئی ہے جہاں انھیں قدم قدم پر اسلام کے بارے میں طرح طرح کے سوالات کاجواب دینا ہوتا ہے کیونکہ وہ بچے جو اسلامی ممالک میں پیدا ہوتے ہیں وہ بچپن سے ہی اسلامی روایات کو تسلیم کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں،تاہم غیر مسلم ممالک میں پیدا ہونے والے بچے خواہ انکے والدین مسلمان ہی کیوں نہ ہوں ایسے بچوں کے اذہان میں طرح طرح کے سوالات جنم لیتے ہیں جو مسلم ممالک کے بچے تصور بھی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ انھیں گھر میں جو ماحول ملتا ہے وہ اسلامی ہواتا ہے جبکہ اسکول میں ماحول غیر اسلامی ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عارف محمود کسانہ نے ایسے ہی بچوں کو مدنظررکھتے ہوئے یہ کتاب تحریر کی ہے جسے بڑی پزیرائی مل رہی ہے۔اس کتاب کی کہانیاں پڑھ کر مسلمان بچے احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہوں گے اور وہ بڑے اعتماد سے تبلیغ اسلام کرسکیں گے۔ پوری کتاب کا اندازِ بیاں اور اسلوب بھرپور، سادہ و دلنشین ہے، علمی سطح پر کہانیوں کی یہ کتاب درجن بھر سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہوکر شائع ہو چکی ہے۔ جن میں انگلش، سویڈش، عربی، نارویجین، جاپانی، فارسی،ہندی، فرانسیسی،ڈینیش اور بنگالی قابلِ ذکر ہیں۔یوں یہ اسلامی کہانیاں ایک عالمی اثاثہ بن کر ہر زبان و ثقافت سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لئے اعلیٰ اسلامی تحفہ بن گئی ہیں۔
کتاب کی پہلی کہانی “ہم مسلمان کیوں ہیں ” سے بچوں کو اسلام اور مسلمانوں کے عقیدے کے بارے میں جاننے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ جبکہ دوسری کہانی “ایمان کِسے کہتے ہیں ” بہت عمدہ، سادہ اور عام فہم ہے، کہانی بعنوان “اللہ اور انسانوں کے قانون کا فرق” کا تو کوئی جواب ہی نہیں۔ اس مشکل فرق کو اتنے سادہ اور خوبصورت الفاظ میں آج تک شاید ہی کسی نے بیان کیا ہو، کہا نی کا عنوان بھی اچھوتا ہے۔ ایک اور کہانی “اسلام کسے کہتے ہیں، اور کن چیزوں پر ایمان ضروری ہے” اپنے اندازِ بیان اور سادہ تحریر سے بچوں کے معصوم اذہان پہ ثبت ہو جاتی ہے۔ “نبی اور رسول کے فرق” کی کہانی کو پڑھ کر منہ سے بے ساختہ نکلتا ہے “سبحان اللہ”۔ اسی طرح نبی اور رسول میں فرق کا بیان بہت اعلیٰ اور خوب ہے،۔ ایک اور کہانی میں اللہ اور اس کے بندوں کے محبوب محمد مصطفٰیﷺ کی عادات و اطوار اور حالاتِ زندگی بڑے اعلیٰ انداز میں قلمبند کئے گئے ہیں۔”اسلام سچا دین کیوں ہے” کی کہانی میں دیئے گئے دلائل بھی خوب ہیں۔ کیونکہ اس قسم کا سوال وہ بچہ کبھی نہیں کریگا جو اسلامی ملک میں پیدا ہواہو،مگر غیر مسلم ملک میں جنم لینے والے بچے کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ اسلام ہی سچا دین کیوں ہے؟ اور اس سوال کا تسلی بخش جواب دینا ڈاکٹر عارف کسانہ کا ہی کمال ہے۔اس چھوٹی سی کتاب میں دین کی بنیادی معلومات کے ساتھ ساتھ بچوں کی اخلاقی تربیت کے لئے بھی خوبصورت کہانیاں شامل ہیں، مثلاً “اللہ نے کن باتوں سے منع کیا ہے”، “بول چال کے آداب” والی کہانیاں۔ماضی میں گھر کے والدین اور گھر کے بزرگ بچوں کو کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے، صفائی ستھرائی، رہنے سہنے اور زندگی کے دیگر آداب و اخلاق سمجھانے اور سکھانے پر خصوصی توجہ دیا کرتے تھے، جبکہ آج کل والدین بچوں کو جھوٹ بولنا سکھاتے ہیں۔ اس دورِ جدید میں پوری دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ تمام مذاہب، تہذیبیں اور ثقافتیں ایک دوسرے کا گہرا اثر لیتی ہیں۔ اسی تناظر میں لکھی جانے والی کہانی “غیر مسلموں سے سلوک” بہت اچھی کاوش ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کو برداشت کرنے اور ان کو ماننے والوں سے حسنِ سلوک کا درس دیتا ہے نہ کہ نفرت کا۔اسی طرح وجودِ باری تعالیٰ سے متعلق لکھی گئی دونوں کہانیوں کے دلائل کافی دلچسپ، سادہ، عام فہم اور اثر انگیز ہیں۔ ہمارے اسلامی معاشرے اور ورثے میں طاقتور خاندانی نظام کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ سب کہانیاں گھر کے بزرگوں اور والدین کی زبانی بیان کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر عارف کسانہ نے باہمی رشتوں کو مضبوط کرکے واقعی ایک اچھا کارنامہ انجام دیا ہے۔
علامہ اقبال نے اپنے کلام میں جس بندۂ مومن کا تصور دیا ہے “مومن کسے کہتے ہیں ” کے مطالعے سے بندۂ مومن کی ایک سچی تصویر آنکھوں کے راستے ذہن میں اُبھرنے لگتی ہے۔اس کہانی کو پڑھنے کے بعد یقینا ہر بچہ خود کو مومن کہلوانے پر فخر محسوس کرے گا نہ کہ چند دہشت گردوں کی مذموم حرکتوں کی وجہ سے خود میں اپنے مسلمان ہونے پر ایک احساس اور شرمندگی محسوس کرے گا۔ کتاب کی آخری کہانی “ایک مثالی شخصیت ” ہے۔ یہ کہانی ناناجان کی زبانی بیان کی گئی ہے جس میں آنحضور ﷺ کی روزمرہ کی زندگی اور رہن سہن کے اہم پہلوؤں کو اپنے نواسے ابراہیم ؑ کو بتاتے ہیں۔ یہ خوبصورت کہانی لاجواب اور بہت اچھی ہے۔ اس کہانی میں نبی آخرالزمان محمد مصطفی ﷺ کی مثالی شخصیت و کردار کو سلیس و سادہ الفاظ میں بڑے اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔مصنف نے کہانی کے ذریعے پیغمبرِ اسلام کی زندگی کا ایک رول ماڈل نئی نسل کی تعلیم و تربیت کیلئے دے دیا ہے۔ بدقسمتی سے وطنِ عزیز پاکستان میں والدین بچوں کی تعلیم پر تو بھرپور توجہ دیتے ہیں، مگر ان کی تربیت شدید عدم توجہی کا شکار ہے، حالانکہ ا س کی ہمارے بچوں کو اشد ضرورت ہے، اسی طرح نسلِ نو مغربی تہذیب کے طاقتور اثرات کی وجہ سے اپنی اسلامی تہذیب و ثقافت سے دور ہٹتی جا رہی ہے اور اپنے اسلاف کی عظمتوں کو بھولتی جا رہی ہے۔ یہ کتاب بچوں کا رشتہءِ عظیم اسلامی تہذیب و تمدن سے جوڑنے میں ممد و معاون ثابت ہوگی۔میں کہانیوں کے مطالعہ اور اس مضمون کی تحریر کے دوران یہ سوچ رہا تھا کہ یہ کہانیاں اتنی اعلیٰ اور اچھی ہیں کہ انہیں پاکستان کے تمام سرکاری اسکولوں کے نصاب میں شامل ہونا چاہیے۔ اس دوران مجھے فیس بک سے معلوم ہوا کہ ان میں سے کچھ کہانیوں کو حکومتِ آزاد کشمیر نے سرکاری سطح پر نصاب میں شامل کرلیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی نامور رفاحی تنظیم اخوت نے کئی ایک کہانیوں کو اس کے زیرِ انتظام چلنے والے تین سو اسکولوں کے نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ اسی دوران دوسری خوشخبری یہ ملی ہے کہ اسلامی سلسلے کی ان کہانیوں کی دوسری جلد شائع ہوگئی ہے۔نئی کتاب میں شامل کہانیوں کے عنوانات سے اندازہ ہوا کہ نئی کتاب بھی بہت اعلیٰ معیار کی ہے جو نسبتاََ بڑے بچوں کے لئے ہے۔آخر میں میری دلی دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ڈاکٹر عارف محمود کسانہ کو اس کارِ خیر کی مزید توفیق، حوصلہ اور اجرِعظیم عطا فرمائے، آمین۔ واقعی یہ کتاب بچوں کی دینی و ذہنی تعلیم و تربیت کے لئے ایک عظیم کارنامہ ہے جس پروہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے