۔،۔آدھی رات کا سورج۔ عارف محمود کسانہ۔،۔


رات کے بارہ بجے جب سورج مطلع پر موجود ہو اور وہ روشنی بکھیر رہا ہو تو اسے آدھی رات کا سورج ہی کہیں گے۔وہ خطہ جہاں سورج چوبیس گھنٹے پوری آب و تاب سے جلوہ گرہوتا ہے وہ سویڈن، ناروے اور فن لینڈ کا شمالی علاقہ ہے۔ یہ خطہ آرکیٹک سرکل کہلاتا ہے جو کرہ ارض کے خط استوا سے تقریبا 66 ڈگری شمال کی جانب ہے جسے قطب شمالی بھی کہتے ہیں۔ شمالی سویڈن کے اس علاقہ کا بڑا شہر کیرونا ہے۔ یہاں 26 مئی سے 18 جولائی تک سورج چمکتا مسلسل ہے یعنی سورج کے طلوع اور غروب کے اوقات ہیں ہی نہیں اورسورج دن رات نظر آتا ہے جبکہ 10 دسمبر سے 6 جنوری تک سورج غروب رہتا ہے اور مسلسل رات رہتی ہے۔ عام طور اسے چھ ماہ دن اور چھ ماہ کی رات بھی کہتے ہیں۔ جون جولائی میں یہاں رات کا سورج اور دسمبر جنوری میں ناردرن لائٹس یعنی شفق قطبی یا سپیدہ دم دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ ہمیں سویڈن میں رہتے ہوئے دو دہائیوں سے زائد کا عرصہ ہو چلا لیکن ہم نے ابھی یہ نظارہ نہیں دیکھا تھا کیونکہ یہ منظر اسٹاک ہوم میں نہیں ہوتا۔برادرم مطاہر چوہدری پاکستان سے دوبارہ سویڈن کی سیر کے لئے آئے تو ان کے ساتھ یہاں کی سیاحت کا پروگرام طے ہوا۔ کیرونا کا فاصلہ اسٹاک ہوم سے تیرہ سو کلومیٹر ہے اور وہاں جانے کے لئے ہوائی سفر زیادہ مناسب ہے۔ سوا گھنٹہ میں ہم کیرونا کے ہوائی اڈہ پر موجود تھے۔ ہوائی اڈہ سے گاڑی لی اور ٹورسٹ ہٹس پہنچے جہاں ہمیں قیام کرنا تھا۔ وہیں سے ”مڈ نائیٹ سن سٹریٹ“ شروع ہوتی ہے اوریہ پکھڈنڈی اس پہاڑی تک جاتی ہے جہاں سے پورے علاقہ کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ ہم اس پہاڑی پر رات گیارہ بجے ہی پہنچ گئے اور وہاں سویڈن اور بیرونی ممالک کے سیاح پہلے سے موجود تھے۔ خو ش قسمتی سے آسمان صاف تھا اور ہمیں آدھی رات کا سورج دیکھنے میں کوئی دشواری نہ ہوئی۔ رات گیارہ سے دو بجے تک مشاہدہ کرتے رہے اور سورج ایک سیکنڈ کے لئے بھی مطلع سے غائب نہ ہوا۔ سورج یہاں زمین کے گرد دائرہ کی صورت میں گردش کرتا ہے اسی لئے طلوع اور غروب کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ آسمان پر سورج کے ساتھ چودھویں کا پورا چاند بھی نظر آتا ہے اور سورج بھی جو صرف قطب شمالی ہی میں ممکن ہے۔ رات بھرسورج دیکھائی دینے کی سائنسی وجہ یہ ہے کہ ز مین اپنے محور کے گرد 23 ڈگری جھکی ہوئی ہوئی ہے جس کی وجہ سے موسم بدلتے ہیں اور قطب شمالی میں آدھی رات کا سورج نظر آتا ہے۔ یہاں قیام کے دوران ہم نے نماز مغرب، عشاء اور فجر سورج کی روشنی میں ہی ادا کیں۔
مسلسل طلوع آفتاب کے اشارے قرآن عظیم میں ملتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ اسی خطہ کے بارے میں ہوں۔ قرآن حکیم مشاہدہ کائنات کی دعوت دیتے ہوئے اس پر غورو فکر کا حکم دیتا ہے۔ گردش لیل ونہار اور سماوی کروں کی گردش کو حقیقت تک پہنچنے کی نشانیاں قرار دیتا ہے۔آدھی رات کے سورج کا نظارہ کرتے ہوئے ذہن میں قرآن حکیم کی سورہ الکہف میں ذوالقرنین کا واقعہ سامنے آگیا ہے جو اس سورہ کی آیات 83 سے101میں بیان گیا ہے۔ ذوالقرنین نے دنیا بھر کی سیاحت کی اور اور ایسے علاقہ تک جا پہنچے جہاں کے باشندے مسلسل سورج کی روشنی میں تھے۔ اس بارے میں سورہ الکہف کی آیت 90 میں ہے کہ چلتے چلتے وہ ایک ایسی قوم تک پہنچے جو کھلے میدان میں رہتی تھی اور ان لوگوں کے لئے سورج کے درمیان کوئی اوٹ نہ تھی یعنی سورج کی مسلسل روشنی تھی۔ تاریخ میں تحقیق کرنے والوں کو اس بارے غووفکر کرنا چاہیے اور مزید حقائق سامنے لانے چاہیے۔کیرونا شہرکے نواح میں واقع آئس ہوٹل دیکھنا بھی ایک منفرد اور حیران کن تجربہ تھا۔ دنیا بھر میں اس ہوٹل کی دھوم ہے اور لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں۔ کمرے اور ان کی دیواریں، بیٹھنے کی جگہیں، بیڈ، کرسیاں غرض اس ہوٹل کی ہر چیز برف کی بنی ہوئی ہے۔ باہر جو بھی درجہ حرارت ہو، ہوٹل کے اندر منفی پانچ ڈگری رکھا جاتا ہے۔ داخلی دروازے پر شال نما جیکٹ جیسے کشمیری پیرن ہو، پہننے کے لئے دیا جاتا ہے۔ ہوٹل کے اندر مشروب بھی برف کے بنے ہوئے گلاسوں میں دئیے جاتے ہیں۔ اگر کسی نے سویڈن آکر آئس ہوٹل اور آدھی رات کا سورج نہیں دیکھا تو پھر کیا دیکھا، ویسے ہم نے بھی سویڈن میں ایک مدت رہنے کے بعد ہی دیکھا ہے۔ سویڈن کے شمال میں یہاں کے قدیم باشندوں سامی صدیوں سے رہتے ہیں۔ بعض محققین کے مطابق امریکہ کے ریڈ انڈین اور آسٹریلیا کے ایبوریجنل کی طرح سامی سویڈن کے اصل باشندے ہیں۔ ان کی زبان، ثقافت، رہن سہن، لباس اور بودوباش سویڈش لوگوں سے بالکل الگ ہے۔ سامی لوگ سویڈن، ناروے، فن لینڈ اور روس کے شمالی علاقہ میں رہتے ہیں۔ یہ سخت جان واقع ہوئے ہیں اور شدید سردی اور برف میں رہنے کے عادی ہیں۔ رینڈئر یعنی قطبی ہرن اور مچھلی کا شکار ان کی معیشت ہے۔ ان کی کل تعداد ایک لاکھ کے قریب ہوگی۔ یہیں ایک سامی باشندے سے ملاقات ہوئی جس نے اپنی تاریخ و ثقافت سے ہمیں مزید آگاہ کرتے ہوئے شکوے اور شکائیتیں بھی کیں کہ سویڈن کی حکومت ہمارے وسائل تو پوری طرح سے لے رہی ہے لیکن ہمیں وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو ہونے چاہیں۔ اس کا شارہ کیرونا سے حاصل ہونے والے لوہے کی طرف تھا جو سویڈن کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیرونا میں دنیا کی سب سے جدید اور بڑی لوہے کی کان ہے جہاں سے 1898 سے لوہا نکالا جارہا ہے۔ وقت کم ہونے کی وجہ سے ہم اس کان کو اندر سے نہ دیکھ سکے اور اسے آئندہ دور ے کے لئے اٹھا رکھا۔ سامی اپنی ثقافت اور بودوباش میں مداخلت پسند نہیں کرتے اور اس کا تحفظ اور ثقافتی خود مختاری چاہتے ہیں۔دنیا میں جہاں بھی قدرتی وسائل کی دولت وافر ہوتی ہے وہاں کے مقامی باشندے اکثر اپنے حقوق اور محرومی کی شکائیت کرتے ہیں۔ شائد یہ درست ہو یا پھرمحض سوچنے کا انداز، اسی سوچ کے ساتھ کیرونا سے روانہ ہوئے اور ہمارے جہاز نے اڑان بھری اور ہم واپس اپنے شہر اسٹاک ہوم پہنچ گئے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے