بھارت لکھنَو میں 22سالہ نوجوان تدفین کے آخری لمحات میں جی اُٹھا۔،۔

شان پاکستان بھارت لکھنَو۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق 22 سالہ نوجوان عین تدفین سے کچھ لمحے پہلے جی اُٹھا۔ رپورٹ کے مطابق 22 سالہ نوجوان محمد فرقان طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے 22 سالہ نوجوان کو مردہ قرار دے دیا بعد ازاں ضروری کاروائی کے بعد لواحقین سے 7لاکھ کا بل وصول کرنے کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی۔ فرقان کے اہل خانہ نوجوان بیٹے کی موت پر نڈھال تدفین کے انتظامات مکمل کرنے لگے اچانک بڑے بھائی کی نظر مردہ بھائی کے پاوُں پر پڑی تو اسے پاوُں میں جنبش نظر آئی جب اہل خانہ اکٹھے ہوئے اور قریب جا کر نام پکارا تو فرقان نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولنی شروع کر دیں،فرقان کو دوبارہ ہسپتال لے جایا گیا انہیں ڈاکٹروں نے نوجوان کے زندہ ہونے کی طبی بنیادوں پر تصدی کر دی۔واضح رہے مسلسل بیماری کے باعث نقاہت ہوجاتی ہے اور کبھی کبھی بلڈ پریشر اتنا Low ہوجاتا ہے کہ ہاتھ کی نبض اور دل کی دھڑکن نہ تو سنائی دیتی ہیں اور نہ محسوس ہو پاتی ہیں اور شاید اسی وجہ سے ڈاکٹز نے محمد فرقان کو مردہ قرار دے دیا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے