،۔تنخواہ زندگی ہے۔کرار حسین ٹیپو۔،۔

بہادر شاہ ظفر نے صحیح ہی تو کہا تھا،،،عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن،،، دو آرزو میں کٹ گئے 2انتظار میں،،،موجودہ حالات میں یہ شعر تنخواہ دار طبقے پر صادق آتا ہے۔آپ کا بندہ اور پھروں ننگا،آپ کا نوکر اور کھاؤں ادھار،میری تنخواہ کیجئے ماہ بماہ،،تاکہ نہ ہو مجھ کو زندگی دشوار۔۔۔۔ملازم طبقہ تنخواہ ملنے پر مورکی طرح سندر نظر آتا ہے،،،اور تنخواہ نہ ملنے پر بغیر پروں کے مرغا،،،اسی طرح ایک ٹرک کے پیچھے میں نے پڑھا،،پیار تو کروں مگر تنخواہ تھوڑی اور اوپر سے لیٹ بھی ہے،،اسی دُکھ کو آگے بڑھا یہ بھی کہا جا سکتا ہے۔۔۔ساڈے نال کیتی تنخواہ نے بے وفائی اے،، رل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے،،، حکومت بھی کفایت شعاری اورخود انحصاری کا سارا نزلہ بھی تنخواہ دار طبقے پر ہی گراتا ہے،،یوں تنخواہ دار طبقہ ہمیشہ کی طرح مسائل کی چکی میں پس کر اپنی ہڈی ہی کا سرمہ بن جاتا ہے،، دوسری طرف حکومت قومی خزانہ بھر کر اپنا الو سیدھا کرلیتی ہے۔۔ قومی خزا نہ بھر نے کی ضد میں ہمیشہ تنخواہ دار طبقے کو ہی صدقے کا بکرا سمجھ کر اِس کی ہی بلی چڑھا ئی جاتی ہے۔۔وطن عزیز میں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے،بجٹ کی بات کریں تو محض ہندسوں کا گورکھ دھندہ اورڈرامہ ہے،،اگر کچھ اضافہ ہوتا بھی ہے تو وہ بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں،، لیکن وہ لوگ کہاں جائیں جو سرکاری ملازمین نہیں۔تنخواہ لیٹ ملتی ہے تو زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے انہیں قرض لینا پڑتا ہے،،، اداروں میں کلیدی کردار ادا کرنے والے صنعتی کارکن کم اجرت کے باوجود حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔۔21ویں صدی میں جہاں دنیا ترقی کے پتہ نہیں کتنے زینے چڑھ چکی ہے،ہمارے ہاں کارکنوں کی خوشحال دور کی بات، بروقت تنخواہ کے مسائل میں وہ بیچارے الجھے ہوئے ہیں۔سپریم کورٹ بھی متعدد کیسز میں فیصلہ دے چکی ہے کہ ملازمین کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کی جائے۔بعض کمپنیاں ایسی ہوتی ہیں جو تنخواہیں بروقت نہیں دیتیں انہیں چھوڑ دینا بہتر ہے،، ہاں باس سے بروقت تنخواہ کی ادائیگی کے حوالے سے بات ضرور آگے بڑھانی چاہئیں۔۔ لیٹ تنخواہوں پر تو زکوٰۃ بھی واجب نہیں،،، قدرت نے زکوۃ پرچھوٹ دے رکھی ہے مگر ہمارے ہاں سرمایہ داروں کو خدا کا کوئی خوف نہیں،،دوسری جانب حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو مزید نچوڑنے کا فیصلہ کررکھا ہے۔حکومت اپنی آمدنی بڑھانے کے لئے اس طبقے پر بوجھ کیوں ڈال رہی ہے؟،،، معاشی ارسطوؤں کے مشورے سے تنخواہ دار طبقہ پر انکم ٹیکس کی شرح بڑھانے کا سوچا جارہاہے،،، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ لوگ موبائل فون کارڈ،ادویہ، پٹرول سے لے کر بچوں کی کالجوں میں فیسوں تک پر یہ لوگ بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں،،،۔ چونکہ ان کی تنخواہ انتہائی قلیل ہوتی ہے جس سے گزارہ مشکل ہوتا ہے اس لیے ان پر ٹیکس نہیں لگنا چاہیے۔حکومت بڑے چوروں کی گرفت کریں جنہوں نے سرکار کے نام پر عوام سے سیکٹروں ارب روپے وصول کرکے ہڑ پ کرلیے ہیں،،،،ان لوگوں کو ٹیکس مشین بننے کے بجائے لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک سے واپس لائی جائے۔۔ صحافی اور میڈیا کارکن دیگر شعبوں کے مقابلے میں زیادہ پسے ہوئے نظر آتے ہیں،جو دوسروں کے لئے آواز حق بلند کرتے ہیں،،، شاید صحافی ہی پاکستان کا واحد طبقہ ہے جو ہر وقت اووروں کے لیے میدان جنگ گرم رکھتے ہیں مگرخود اپنے لیے نہ بول پاتے ہیں اور نہ بول پائیں گے۔اوپر سے انہیں خود مہینوں مہینوں تنخواہ نہیں ملتی،،۔عام دنوں کو چھوڑیئے عید پر تو بار بار اے ٹی ایم کا طواف کرنا پڑتا ہے مگر پھر بھی تنخواہ نہیں آتی۔۔۔،بعض صحافیوں کے پاس تو علاج کے لئے بھی پیسے نہیں ہوتے۔۔ستم بالا ستم میڈیا میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کی تنخواہیں کئی برسوں سے نہیں بڑھیں۔۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے