۔،۔(لوح و قلم تیرے ہیں) کاروائی ہفت روزہ ادبی نشست۔ڈاکٹرساجدخاکوانی ۔،۔
منگل مورخہ 9جولائی2019 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر1اسٹریٹ 38،G6/2اسلام آبادمیں منعقد ہوئی۔پیش نامے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں ملتان کی معروف ادبی،سماجی اور علمی شخصیت جناب ”عامرشہزادصدیقی“کے ساتھ ایک خوبصورت شام کااہتمام تھا۔آج کی تقریب میں ”بزم شوری پاکستان“کاخصوصی تعاون بھی شامل تھا۔نشست کے آغازمیں انورحسن چترالی نے تلاوت قرآن مجیدکی، مطالعہ حدیث نبویﷺڈاکٹرساجدخاکوانی نے پیش کیا اور شہزادعالم صدیقی نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کرسنائی۔سب سے پہلے بزم شوری کے صدر نشین اورمعروف صحافی جناب سلطان محمود شاہین نے صاحب شام کا ”شخصیہ“پڑھ کر سنایا،جس میں انہوں نے صاحب شام کی شخصیت اور فن پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ موصوف ملتان کے مایہ ناز کالم نگار بھی ہیں اورملک کے موقرجریدوں اور روزناموں میں ان کے مضامین کثرت سے شائع ہوتے رہتے ہیں۔انہوں نے جناب عامر شہزادصدیقی کی چار مطبوعہ کتابوں کابھی ذکر کیااور پانچویں کتاب کے بارے میں بتایاکہ وہ زیر طبع ہے۔صاحب شام کے بارے میں یہ بھی بتایاگیاکہ کہ وہ دنیاکے چھبیس ممالک کاسفرکرچکے ہیں اور برطانیہ جیسے ملک میں اپنے طویل قیام کے دوران ایک اخبارکی ادارت کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے ہیں۔ریڈیواورٹیلی ویژن کے ساتھ وابستگی اس پر مستزادہے۔اظہاخیال کی دعوت دی گئی توسب سے پہلے ڈاکٹرباقرخان خاکوانی نے کہاکہ ملتان کی مٹی مردم زرخیزہے،انہوں نے کہاکہ تاریخی روایات سے پتہ چلتاہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام ملتان میں تشریف لائے تھے اور ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفرنامے میں ملتان کاذکر کیاجب کہ امیرخسرونے بھی ملتان میں قدم رنجہ فرمایاتھا۔انہوں نے کہاکہ کہ وہ صاحب شام کے خانوادے سے بخوبی واقف ہیں جو ایک علمی و ادبی گھرانہ ہے۔انورحسن چترالی،شاہدمنصور،سبطین رضالودھی،ساجدحسین ملک،ارشدنزیربھٹہ ایڈوکیٹ اور سیدظہیراحمد گیلانی نے بھی صاحب شام کے بارے میں گفتگوکی اوران کی شخصیت کے جملہ پہلؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ان میں سے جو حضرات ملتان سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے موصوف کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات اور یارانوں کا بھی ذکر کیا۔مقررین نے قلم کاروان اور بزم شوری کی اس کاوش کو بھی سراہا کہ اسلام آباد جیسے شہر میں دیگرعلاقوں کی نابغہ روزگارشخصیتوں کی پزیرائی کی جاتی ہے۔تبصرے ختم ہوئے تو باقائدہ سلسلے کے تحت شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم پراپنا حاصل مطالعہ پیش کیا اور اس کے بعد شیخ عبدالرازق عاقل نے اپنی ایک تازہ بھی غزل سنائی۔آخر میں صاحب شام نے خطاب کرتے ہوئے تمام شرکاء کاعام طورپر اور مقررین اور مقالہ نویسوں کا خاص طورپر شکریہ اداکیا۔انہوں نے کہا وہ بنیادی طورپر نثرنویس ہیں،مقررین میں سے کسی نے انہیں شاعربھی گرداناتھا،انہوں نے کہاکہ وہ شاعری کوپسندکرتے ہیں لیکن اس صنف ادب میں طبع آزمائی نہیں کرتے۔انہوں نے وعدہ کیاکہ آئندہ نشست میں وہ اپنی کتب قلم کاروان کے شرکاء کوپیش کریں گے۔انہوں نے بتایا ان کے کالموں کاپانچواں مجموعہ طباعت کے آخری مراحل میں ہے۔انہوں نے اپنے کالموں کے مجموعی مزاج کے بارے میں بھی شرکاء کو آغاہ کیا۔نشست کے اختتام پر قلم کاروان کے صدرنشین ڈاکٹرساجد خاکوانی نے تمام شرکاء کاشکریہ اداکیااور اس کے ساتھ ہی آج کی نشست ختم ہوگئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے