-,-مسلم اُمہ کا منفی کردار-اے آراشرف-,-


قوتِ عشق سے ہر پست کو بالاکر دے،۔،دہر میں اسمِ محمدﷺسے اُجالا کر دے،
جب میں سوشل میڈیا،ٹی وی اور اخبارات میں اسرائیل میں فلسطینیوں پر،بھارت میں کشمیریوں اوردیگر اقلیتوں پر اور برما میں مسلمانوں پر اور دنیا بھرمیں کمزور و لاچار، نہ ہتھے اور مظلوم لوگوں پر اورحصوصاََ مسلمانوں پر ہونے والے ظُلم و ستم سُنتا اور دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے اگر دیانتداری سے حالات کا تجزیہ کیا جائے تو غورطلب بات یہ ہے کہ ترتیب وار آخر مسلمان ممالک ہی کیوں دہشتگردی اور ظُلم و ستم کا نشانہ بنتے ہیں اور بن رہے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ امریکہ ایران کے کھٹ پتلی سابق حکمران رضا شاہ پہلوی کو۔ایشیا۔کا ٹائیگر بنا کر اپنے مفادات میں حائل روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا خاتمہ چاہتا تھا مگر۔ایران۔کے اسلامی انقلاب نے اُسکے تمام ارادوں اور خوابوں کو چکنا چور کر دیاتھا اور اسکی کفیت اُس زخمی ناگ سی ہو گئی ہے جو اپنے بچوں کو ہی نگل جاتا ہے۔سب سے پہلے امریکہ اور اُسکے یورپی اتحادیوں نے اپنے پروردہ۔عراق کے حکمران صدام حسین کو اسلامی انقلاب کو ناکام کرنے کیلئے ایران پر حملہ کرنے پر آمادہ کیا۔ جبتک صدام اچھے بچوں کی طرح اُنکے اشاروں پر چلتا رہا۔ناگ دیوتا۔ اُسے شاباشی دیتا رہا مگر جب اُس نے اپنے وطن عزیز عراق کے مفادات کے تحفظ کیواسطے طاغوتی قوتوں کے اشاروں پر چلنے سے انکار کیا یا اُسے راستے سے ہٹانے کیلئے انکار پر مجبور کیا گیا تو اُسکے ان نامنہاد اتحادیوں نے نہ صرف اُسے نشان عبرت بنا دیا بلکہ لاکھوں مظلوم و معصوم عراقیوں کے خون کی ہولی کھیل ڈالی اور عراق کو برباد کر دیا پھر۹ الیون کے سانحہ کو جواز بنا کر ایک اور اسلامی ملک افغانستان پر حملہ کر دیا جسمیں اب تک اس جنگ میں لاکھوں افغانی جان کی بازی ہار چکے ہیں اور پاکستان کو بھی دھمکی دی گئی کہ اگر اُسنے دہشتگردی کی جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو اُسے بھی سنگین نتائج بھگتنا ہونگے اسطرح پاکستان کو فرنٹ لائن پر امریکہ کی جنگ لڑنے پر مجبور کیا گیا جس میں پاکستان ابتک ستر ہزار نفوس کی قربانی دینے کے علاوہ سوارب کی املاک کا بھاری نقصان اُٹھا چکا ہے اور مزید اُٹھا رہا ہے۔ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ دنیا بھر میں۔ناگ دیوتا۔امریکہ اور اسکی اتحادی طاغوتی قوتوں کا تر نوالہ آخر مسلمان ممالک ہی کیوں بنتے ہیں؟ اب امریکہ ایران پر حملہ کرنے کہ بہانے تلاش کر رہا ہے جب امریکہ کے سابق صدر جناب اوباما اپنی بہترین سفارتکاری سے ایران سے ایٹمی معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئے تودنیا نے سکون کا سانس لیا کہ امریکہ اور ایران میں بڑھتے ہوئے تناؤ میں کمی ہوئی ہے۔ مگر موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرنپ نے اسرائیل کو خوش کرنے کیلئے اس معاہدے کو ختم کر دیا اور ایران پر مزید پابندیاں لگا دیں اور سب سے افسوناک امر یہ ہے کچھ ہمارے اسلامی برادر ممالک بھی امریکہ اوراسرائیل کے ہمنوا بنکر اپنے ہی برادراسلامی ملک کونیچا دیکھانا چاہتے ہیں۔ جبکہ کتاب اللہ چیخ چیخ کر مسلمانوں کوتنبیہ کر رہی ہے کہ یہ یہود وانصاریٰ تمارے کبھی دوست نہیں ہو سکتے لیکن یہ بات ہمارے ا کثرمسلم ممالک اورحصوصاََ عرب بھائیوں کی سمجھ میں نہ جانے کیوں نہیں آ رہی اورپھر مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم۔او۔آئی۔سی۔کا کردار بھی اُس لاغر گھوڑے جیسا ہے جو اپنا بوجھ اُٹھانے سے بھی عاجز نظرآتا ہے۔جب ۲۷۹۱ میں۔او۔آئی۔سی۔ کی بنیاد رکھی گئی تو مسلم اُمہ اس خوش فہمی میں مُبتلا ہو گئی تھی کہ ہماری یہ تنظیم مسلمانوں میں اختلافات کے خاتمے اور اُنکے مفادات کا تحفظ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی مگر وہ یہ دونوں ہی ذمہ داریوں کونبھانے میں بُری طرح ناکام رہی البتہ یہ اعزاز اُسے حاصل ہے کہ سال میں دو ایک بار اس پلیٹ فارم پر کوئی نتیجہ نکالے بغیراکٹھے بیٹھ جاتے ہیں بعض میرے جیسے دیگر کم فہم لوگوں کا خیال ہے کہ اس تنظیم میں شامل بیشتر ممالک۔ناگ دیوتا۔امریکہ کی بعیت کر چکے ہیں اسلئے اس تنظیم کو مُثبت اور فعال کردار ادا کرنے کیواسطے اُسے ناگ دیوتا کی اشیر باد کی ضرورت ہوتی ہے یہ سب جانتے ہوئے بھی وہ احکام خدا کو پس پشت ڈال کر یہود و انصاریٰ ہی کو اپنا نجات دہندہ اور اپنا محافظ تصور کرنے لگے ہیں جبکہ یہ بات ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ سانپ کو دودھ پلانے کا آخر انجام کیا ہوتا ہے مگر پھر بھی یہ ایک ایسے سانپ کودودھ پلا رہے ہیں جو دنیا کے تمام سانپوں کا سردار ہے یعنی۔ناگ دیوتا۔ہے جس کا ڈسا پانی بھی نہیں مانگ سکتا اوروہ اپنے مفادات میں حائل کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرتا اور وہ اپنے بچوں تک کو بھی نگل جاتا ہے پھرایسے اتحادیوں پر بھروسا کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے مجھے انتہائی دکھ اور افسوس سے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہمارے عرب بھائی اغیار کے ہاتھوں کا کھلونا بنکر مسلم اُمہ کے نقصان کا باعث بن رہے ہیں اور فلسطینوں اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کوکمزور کر رہے ہیں۔سعودی عرب کو اس لحاظ سے مرکزی حثیت ہے کہ وہاں تمام مسلمانوں خواہ کسی بھی فریقے یا مذہب سے اُنکا تعلق ہو۔خانہ کعبہ۔ہی اُنکی عبادت گاہ ہے اور پھر مرسل اعظمﷺکاروضہ مبارک اور مسجد نبوی جیسی عبادت گاہیں سب مسلمانوں کے دل کا سکون اور ایمان کا حصہ ہیں انہیں نقصان پہنچانے کا کوئی مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا یہ سب اسرائیل اور ناگ دیوتا کا پھیلایا ہوا پروپگنڈہ اور سازشیں ہیں جو وہ عرب بھائیوں کو ڈراتے رہتے کہ ایران خلیج ریاستوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرنپ تو برملا اظہار بھی کرچکا ہے کہ اگر امریکہ اُنکا تحفظ نہ کرے تو یہ حکومتیں ایک ہفتہ بھی قائم نہیں رہ سکتیں یہی وہ خوف ہے جسکی وجہ سے ہمارے عرب بھائی اُنکے اشاروں اور سازشوں کے جھال میں پھنس کر امریکی اور اسرائیلی مفادات کے تحفظ کیلئے اُنکے اتحادی بنے ہوئے ہیں۔ہماری بارگاہ ایزدی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلم اُمہ کو اتفاق و محبت کی نعمت سے مالو و مال کردے اور۔قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے،۔۔۔۔۔،دہر میں اسمِ محمدﷺ سے اُجالا کر دے۔آمین ثم آمین۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے