جنرل ہسپتال‘پرنسپل ڈاکٹر طیب نے قانون کی دھجیاں اڑادیں‘میرٹ کا قتل عام

ڈاکٹر طیب کی ڈاکٹر فاروق سے ملکر ہاؤس آفیسرز کی تنخوہوں میں خوردبرد‘میرٹ پر آنیوالوں تین ڈاکٹرزکے آرڈز منسوخ‘من پسند افراد کو نوازا جانے لگا،سپلیمنٹری امتحانات والے سات گریجوایٹس کی سیٹیں بھی غائب‘ ہاؤس جاب کرنیوالے ڈاکٹرز کا مستقبل داؤ پر لگا دیا‘غلطی تسلیم کرنے کی بجائے سنگین نتائج کی دھمکیاں +بیٹی کو خلاف قانون بھرتی کرکے پورا سال تنخواہ کی ادائیگی‘ ڈاکٹرز کمیونٹی میں شدید بے چینی‘متاثرہ ڈاکٹرز کی اعلیٰ حکام سے ایکشن کی درخواستیں‘وزیراعظم کو خط-
لاہور(جنرل رپورٹر)لاہور جنرل ہسپتال کے پرنسپل ڈاکٹر محمد طیب اور ڈاکٹر فاروق افضل نے قانون کی دھجیاں اڑا دیں‘ میرٹ کا قتل عام‘ ہاؤس آفیسرز کی تنخواہوں میں خوردبرد اور من پسند افراد کو نوازا جانے لگا‘ میرٹ کی تقرریاں بھی منسوخ کر دی گئیں‘ پرنسپل نے اپنی بیٹی کو خلاف قانون بھرتی کرکے تنخواہیں وصول کرلیں‘ تفصیلات کے مطابق لاہور جنرل ہسپتال سے منسلک امیرالدین میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد طیب نے انچارج ہاؤس آفیسرز ڈاکٹر فاروق افضل کیساتھ ملکر ہسپتال میں مختلف ہاؤس آفیسرز کی تنخواہوں میں خوردبرد کی ہے‘ پچھلے سال کی لسٹوں میں بھی غیر قانونی طور پر نام ڈال کر تنخواہوں کی وصولی کا انکشاف ہوا ہے جبکہ موجودہ سال کے ہاؤس آفیسرز کی میرٹ پر تقرریوں کو بھی منسوخ کرکے اپنے من پسند اور چہیتوں کو سیٹیں الاٹ کر دی گئی ہیں‘ پنجاب بھر میں ایم بی بی ایس کے امتحانات میں ٹاپ پر آنیوالے تین ڈاکٹرز ”ڈاکٹر افرا میر‘ ڈاکٹر اقصی ٰاکرم‘ ڈاکٹر حرا عتیق“ کو میرٹ پر ایک سال کیلئے ہاؤس آفیسرز تعینات کیا گیا تھا جن کی تقرری بغیر کسی وجہ اور بغیر کسی نوٹس کے پرنسپل ڈاکٹر محمد طیب اور ڈاکٹر فاروق افضل نے منسوخ کردی اور الٹا مذکورہ ڈاکٹرز کیساتھ بدتمیزی کی اوربیہودہ زبان استعمال کی اور مذکورہ ڈاکٹرز کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں‘ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے قوانین کی روشنی میں ہر ڈاکٹر کو ایک سال کیلئے ہاؤس جاب کرنا لازم ہے جو کہ کسی ایک ہسپتال میں کم از کم چھ ماہ کرنا ضروری ہے‘ مذکورہ ڈاکٹرز چونکہ میرٹ میں پنجاب کے تمام ہسپتالوں میں ٹاپرز تھے اور ان کے نام اس وقت تمام ہسپتالوں کی قہرست میں سرقہرست تھے انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال میں بھی لسٹ میں سرفہرست نام آنے پر جوائن کرلیا جبکہ انکی میرٹ پر کی گئی تقرریاں صرف تین ماہ بعدبغیر کسی وجہ کے منسوخ کر دی گئیں ہیں‘ اب مذکورہ ڈاکٹرز نہ تو کسی دوسرے ہسپتال میں جا سکتے ہیں اور نہ ہی اس وقت کہیں اور اپلائی کرسکتے ہیں یوں پرنسپل ڈاکٹر محمد طیب اور ڈاکٹر فاروق افضل نے مذکورہ ڈاکٹرز کا مستقبل بھی داؤ پر لگا دیاہے‘جس کی وجہ سے ڈاکٹرز کمیونٹی میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے‘ ایڈمن سیکشن کے ذرائع نے بتایا ہے کہ تقرریوں کی منسوخی پہلی بار ہوئی ہے جسکی وجہ پرنسپل ڈاکٹر محمد طیب اور ڈاکٹر فاروق افضل کی نااہلی ہے جنہوں نے مختص سیٹوں کو آگے پیچھے کرتے ہوئے ڈاکٹرز کا مستقبل داؤ پہ لگا دیا ہے جبکہ ایڈمن سیکشن مذکورہ ڈاکٹرز کیساتھ ہونیوالی ناانصافی پر اپنی غلطی تسلیم کر رہا ہے جبکہ پرنسپل ڈاکٹر محمد طیب اور ڈاکٹر فاروق افضل سیخ پا ہیں‘پرنسپل ڈاکٹر محمد طیب اور ڈاکٹر فاروق افضل کا موقف اس بارے یہ ہے کہ ہمارے کالج کے گریجوایٹس سپلیمنٹری امتحانات میں پاس ہوکر آئے ہیں لہٰذا مذکورہ ڈاکٹرز کی سیٹیں ان ڈاکٹرز کو الاٹ کردی گئی ہیں‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر کالج اپنے سپلیمنٹری امتحانات میں پاس ہونیوالے گریجوایٹس کے لئے نشستیں مخصوص رکھتا ہے جبکہ امیر الدین میڈیکل کے کل سات ڈاکٹرز سپلیمنٹری امتحانات میں پاس ہو کر آئے ہیں جبکہ پرنسپل ڈاکٹر محمد طیب اور ڈاکٹر فاروق افضل نے سات گریجوایٹس کیلئے صرف تین نشستیں مخصوص کررکھی تھیں باقی نشستیں بھی چہیتوں کو نواز دیں اور تین مخصوص نشستیں اور تین میرٹ پر ہونیوالی تقرریوں کی منسوخی کرکے چھ سیٹیں الاٹ کردی گئیں جبکہ پرنسپل ڈاکٹر محمد طیب اور ڈاکٹر فاروق افضل کی نااہلی کی وجہ سے امیرالدین میڈیکل کالج کا بھی ایک ڈاکٹر بغیر تنخواہ کے ڈیوٹی دے رہا ہے‘ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہر سال کی طرح گزشتہ سال بھی ہاؤس آفیسرز کی لسٹ میں رد و بدل کرکے پرنسپل ڈاکٹر محمد طیب نے اپنی بیٹی کلثوم طیب کو خلاف قانون بھرتی کرلیا جو کہ کسی سرکاری ادارے سے گریجوایٹ بھی نہیں تھی اور قانوناً اس کی کسی بھی سرکاری ہسپتال میں تنخواہ پر تقرری نہیں ہو سکتی تھی مگر مذکورہ ڈاکٹر کی تنخواہ پچھلے سال سے رواں سال جون کے مہینہ تک وصول کی گئی ہے۔ پرنسپل ڈاکٹر محمد طیب اور ڈاکٹر فاروق افضل کی سیٹوں کے معاملے پر گھپلوں کے نتیجے میں متاثر ہونیوالوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے اس معاملے کا نوٹس لیا جائے‘ متاثرین نے وزیراعظم کو بھی خط لکھا ہے کہ معاملے کا جلد از جلد کوئی حل نکالا جائے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے