۔،۔تیزاب۔پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔


لاہور شہر کا پرائیوٹ مہنگا ترین ہسپتال مریضوں اور ان کے لواحقین سے بھرا پڑا تھا پاکستان کے دور دراز کے علا قوں سے لوگ شفا ء کی تلاش میں اِدھر آئے ہو ئے تھے‘ گو رنمنٹ ہسپتالوں میں مریضوں کی بہتات اوپر سے سرکاری عملے کی عدم تو جہ علاج کے لیے مہینوں بعد کا ٹائم دینا اِس لیے لوگ بیچارے اپنے پیاروں کو بچانے کے لیے مجبوراً اِن پرائیوٹ ہسپتالوں بلکہ ذبح خانوں کا رخ کر تے ہیں جہاں پر جلاد ڈاکٹر دن رات لوٹ مار کے دھندے میں مہارت سے لگے ہوئے ہیں سرکاری ہسپتالوں سے جب مریضوں کو جواب دے دیا جاتا ہے تو لواحقین بیچارے اپنے زیورات جائیدادیں بیچ کر اِن مقتل گاہوں کا رخ کر تے ہیں لوگ بیچارے اِن مسیحاؤں کے روپ میں جلادوں کے ہاتھوں قتل ہو رہے تھے میں جب بھی اِیسی لوٹ مار دیکھتا ہوں تو د ل خون کے آنسو روتا ہے‘ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو بچانے کی سر توڑ کو شش کر تا ڈاکٹروں ہسپتالوں سے مایوس ہو کر پھر روحانی معالجوں کی طرف رخ کر تا پھر وہ بابوں دربارو ں روحانی انسانوں کی طرف بھاگتا ہے میرے ایک جاننے والے کا مریض یہاں داخل تھا مریض پر پچھلے کئی مہینوں سے روپیہ پانی کی طرح بہایا جا رہا تھا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دو ا کی‘ شہر کے مہنگے ترین ہسپتالوں اور ماہر ڈاکٹروں کے زیر علاج ہو نے کے بعد بھی جب صحت کی دیوی روٹھی رہی تو اب لواحقین نے روحانی علاج کی طرف رجوع کرنے کا فیصلہ کیا‘ ہسپتال میں لوگوں کے رش کا سیلاب تھا اُس سیلاب کے بیچوں بیچ سے گزرتے ہو ئے ہم لفٹ کی طرف بڑھ رہے تھے جس کے ذریعے ہم اوپر کی منزل پر مریض کی طرف جانا چاہتے تھے لفٹ کے انتظار میں ہم کھڑے تھے تو میں نے ساتھی سے پوچھا مریض کی بیماری کیا ہے تو وہ بولا سر مریض کی رگوں میں خون کی جگہ تیزاب دوڑتا ہے اُس کی جلن سے مریض چیخیں مارتا ہے جسم کے بعض حصوں میں زخم بنتے ہیں پھر اُن زخموں میں تیزابی جلن اِس شدت کی ہو تی ہے کہ مریض رو رو کر ہلکان ہو جاتا ہے اور بار بار کہتا ہے اِس متاثرہ حصے کو کاٹ دو مجھے اِس درد سے نجات دلاؤ اِسی دوران لفٹ آگئی اب ہم اوپر کی طرف جا رہے تھے تیزاب درد اور کیس کی پراسراریت میں الجھا ہوا مریض کے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا میرے دائیں بائیں وی آئی پی کمرے تھے آخر کار ہم مریض کے کمرے تک پہنچے اندر کا منظر جان لیوا تھا بیڈ پر کالا سیاہ ڈھانچہ نما مریض پڑا تھا جس کی ایک ٹانگ تو کٹ چکی تھی دوسری ٹانگ زخموں کا ناسور بن چکی تھی نرس ٹانگ کی ڈریسنگ کر رہی تھی زخم پرانے ہو کر اب ناسور کی شکل اختیار کر گئے تھے جس کی وجہ سے زخموں کی بد بو کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا بدبو کی وجہ سے لواحقین اور نرس نے ماؤتھ ماسک پہنے ہو ئے تھے میرے ساتھی نے خود بھی اور مجھے بھی دیا جو میں نے فوری منہ ناک پر چڑھا لیا میں ایسے کسی بھی منظر کے لیے بلکل بھی تیار نہیں تھا لیکن پھر میری فطری شفقت نرم دلی عود کر آئی اب میں خاموشی سے مریض کی حالت زار اور آہ و بکا سن اور دیکھ رہا تھا پتہ نہیں بیچارے نے جوانی میں کونسا جرم کیا تھا جو دنیا میں ہی سزا کے عمل سے گزر رہا تھا۔ اب ہم نرس کی ڈریسنگ کا انتظار کر رہے تھے جب نرس فارغ ہو ئی تو اُس نے ٹانگ پر چادر ڈال دی مریض پھر درد سے چلایا اور بولا اِس ٹانگ کو بھی کاٹ دو‘ درد میری برداشت سے باہر ہو گیا‘ نرس حوصلہ دے کر چلی گئی تو میرا ساتھی مریض کے قریب ہوا اوربولا انکل جی آپ پریشان نہ ہوں میں سر کو لے کر آیا ہوں آپ کا درد زخم بیماری سب اچھے ہو جائیں گے اِسی دوران میں بھی مریض کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا تو مریض نے پہلی بار میری طرف دیکھا اور بولا جناب آپ میری معافی کی دعا کر دیں جب تک خدا مجھے معاف نہیں کرے گا اُس وقت تک میں ٹھیک نہیں ہو نگا میں نے شفیق نظروں سے مریض کی طرف دیکھا اور بولا آپ پریشان نہ ہوں خدا رحیم کریم ہے وہ معاف کر ے گاتو وہ بولا جناب میرا جرم گنا ہ بہت بڑا ہے میں مسلسل خدا سے معافیاں مانگ رہا ہوں کیا آپ مجھے بتانا پسند کریں گے آپ نے کیا گنا ہ کیا ہے میرے لہجے سے اب تجسس چھلک رہا تھا تو وہ بولا ہاں کیوں نہیں اب تو میرے گناہ کے بارے میں سارا محلہ اور رشتے دار جانتے ہیں آپ کو بھی سناتا ہوں شاید آپ ہی مجھے معافی دلا سکیں اب اُس نے کرب انگیز لہجے میں بولنا شروع کیا جناب میں امیر ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھا بچپن سے ہی منہ میں سونے کا نوالا لے کر پیدا ہوا تھا اکلوتا تھا جس چیز پر ہاتھ رکھتا ماں باپ ڈھیر لگا دیتے‘ ماں باپ کی بے پناہ دولت اور لاڈ پیار نے مجھے ضدی بنا دیا تھا مجھے انکار سننے کی عادت ہی نہیں تھی کیونکہ میں دولت کے بل بوتے پر ہر چیز خرید لیتا تھا دولت کے جھولے جھولتا ہوا میں بچپن سے جوانی کے دور میں شامل ہوا تو جنسی تبدیلیاں میرے جسم میں بھی رینگنے لگیں اب میری پسند اور کھلونے بدل گئے تھے پیسے کی ریل پی کی وجہ سے محلے کے آوارہ گرد لڑکے بھی میرے گروپ میں شامل تھے جوانی کا منہ زور نشہ اوپر سے دولت کا تڑکا میں خطرناک وحشی جنسی درندہ بن چکا تھا شراب کباب کے ساتھ اب میں جسم فروشی کے اڈوں پر جاتا اپنی جنسی تسکین پو ری کر تا میں اور میرے دوست لڑکیوں کے سکولوں کالجوں کے باہر جاکر ماہر شکاریوں کی طرح شکار کر تے چند دن معصوم لڑکیوں سے کھیل کر آگے بڑھ جاتے ہم گندگی کے سمندر میں غرق لوگوں کی عزتوں سے کھیل رہے تھے اِسی دوران میری نظر محلے کی ایک پاک باز حیا دار حافظہ لڑکی پر پڑی جو امام مسجد کی بیٹی تھی۔ اب میں اُس کے پیچھے تھا میری شہرت محلے میں بہت خراب تھی اُس نے مجھے بلکل بھی لفٹ نہ کرائی بلکہ جب میں نے اُسے چھیڑا تو اس نے میری خوب بے عزتی کی اور گالیاں دی مجھے بچپن سے آج تک انکار سننے کی عادت نہیں تھی اب وہ میری ضد بن گئی تھی میں مسلسل اُس کے پیچھے رہنے لگا جب میری حرکتیں برداشت سے باہر ہو گئیں تو اُس کے گھر والوں نے اپنی عزت بچانے کے لیے اُس کا رشتہ کر دیا وہ کسی اور کی ہو جائے یہ میری ضدی طبیعت مزاج کے لیے ناقابل برداشت تھا اُس کی شادی سے ایک دن پہلے میں نے اُس کے چہرے جسم پر تیزاب پھینک دیا کہ یہ اگر میری نہیں ہو ئی تو کسی اور کی بھی نہیں ہو نے دوں گا تیزاب کی مقدار بہت زیادہ تھی اُس کا جسم جھلس گیاتھا والدین نے ہسپتال داخل کرایا جہاں بیچاری تیزابی زخموں کی تاب نہ لا تے ہوئے مجھے بد دعائیں دیتے ہو ئے مر گئی‘ والدین غریب تھے میرے ماں باپ نے بڑی رقم دے کر انہیں چپ کرا دیا لیکن ذلت کی وجہ سے انہوں نے محلہ چھوڑ دیا کہیں چلے گئے پھر کبھی واپس نہ آئے میرے والدین نے میری شادی کر دی تاکہ میں شریفانہ زندگی گزار سکوں چند سال تک جب اولاد نہ ہوئی تو میں نے دوسری شادی کر لی اولاد پھر نہ ہو ئی تو تیسری پھر چوتھی شادی کر لی میں جسمانی طور پر کمزور ہو تا گیا تو دو بیویاں مجھے چھوڑ کر کسی کے ساتھ بھاگ گئیں میری سزا کا عمل شروع ہو گیا سالوں پر سال گزرتے گئے میں بے اولادی کے جہنم میں جھلس رہا تھا پھر میری سزا کا آخری مر حلہ شروع ہو ا شوگر نے میرے جسم کو کھانا شروع کر دیا پاؤں کا زخم ناسور بنا تیزاب پو ری ٹانگ میں پھیل گیا تو ڈاکٹروں نے ٹانگ کاٹ دی اب دوسری ٹانگ بھی کاٹ دیں گے میں نے معصوم لڑکی پرتیزاب پھینکا تھا قدرت نے میری رگوں میں خون میں تیزاب بھر دیا جوانی دولت کے نشے میں غرق فرعون بنا ہوا تھا قدرت نے میری جوانی دولت چھین کر بڑھاپا وارد کر دیا میں قبرستانوں میں جا کر اُس لڑکی سے معافی مانگتا ہوں لیکن میری معافی کا دروازہ بند ہو چکاہے خدااپنی نافرمانی معاف کر دیتا ہے انسانوں پر ظلم تو انسان ہی معاف کرتے ہیں مجھے معاف کر نی والی مٹی کے نیچے چلی گئی مجھے معافی نہیں ملے گی وہ درد کی شدت سے چلایا میری ٹانگ کاٹ دو میں یہ سوچتا ہواباہر نکل آیا کہ خدا کی لاٹھی حرکت میں آچکی تھی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے