۔،۔ وردی کوعزت دو۔محمد ناصر اقبال خان۔،۔


دنیا کاایساکوئی ملک نہیں جہاں حادثات اورسانحات رونما نہ ہوتے ہوں مگر مہذب ومتمدن ملکوں کے ارباب اقتدارواختیارناگہانی صورتحال پیش آنے کے بعد اورمستقبل میں آفات وبلیات سے بچاؤ کیلئے ان کے محرکات پرغور اور ممکنہ نقصان میں خاطرخواہ حدتک کمی کیلئے آپس میں سرجوڑ تے ہیں مگرہمارے ہاں ” بچاؤ” کیلئے ”سجھاؤ”دینے اور سوچ بچارکرنے کاکوئی رواج نہیں ہے۔ہم تدبیرسے تقدیر پر اثرانداز نہیں ہوسکتے لیکن اس کے باوجودہمارے پاس تدبراورتدبیرکے سواکوئی راستہ نہیں ہے۔پاکستانیوں کوبحیثیت قوم ہرمصیبت پرہڑبڑاکراٹھنا، بے ہنگم انداز سے ہاتھ پاؤں مارنااوراگلی مصیبت کاانتظارکر ناپسند ہے۔ہمارے ارباب اقتدارواختیار کی سمت اپنے پیشروسے مختلف بلکہ متضادہوتی ہے،ہمارے سٹیک ہولڈرزنے ایک دوسرے کوزچ کرنے کیلئے مادروطن کوتختہ مشق بنایا ہوا ہے۔وہ دوسروں کی غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے مزید غلطیاں کرتے اورانہیں دہراتے ہیں۔پاکستان کے حکمران اُنہیں اپنا مشیر مقرر کرتے ہیں جواِنہیں کوئی مشورہ دیناتودرکناران سے اختلاف بھی نہیں کر سکتے۔ ہمارے ہاں حکمران ابھی اپنے عہدے کاحلف نہیں اٹھاتا ہے مگر اس کیخلاف سازشوں کاآغاز کردیا جاتا ہے اوراس کازیادہ تروقت اپنااقتداربچانے میں گزرجاتا ہے اور بیشترپیچیدہ ایشوز اس کی دلچسپی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ماضی کے حکمرانوں نے شہریوں سے زیادہ شاہراہوں پرفوکس کیانتیجتاً انسا نی اقدارکاجنازہ اٹھ گیا۔اگرنیت میں فتور اورترجیحات کاتعین درست نہ ہوتوقومی معاملات سلجھنے کی بجائے مزید الجھتے چلے جاتے ہیں۔ملک میں بیروزگاری، بدعنوانی،بدانتظامی اوربدامنی کے مضمرات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن ہماری ریاست بچوں کودرپیش خطرات سے چشم پوشی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ہمارے بچے گم بھی ہو تے ہیں مگرکچھ بدنصیب بچوں کو مختلف مگر خطرناک مقاصدکیلئے اغواء بھی کیاجاتا ہے،ان میں سے کچھ جنسی استحصال کانشانہ بن جاتے ہیں۔ اپنے گھروں کے پرتشدد ماحول سمیت مختلف مسائل کیخلاف علم بغاوت بلندکرتے ہوئے بھاگ جا نیوالے بچوں کی تعداد بھی کافی ہے،ان میں سے زیادہ تربچوں کوبے رحم مافیا دلخراش کہانیوں کا کردار بنادیتا ہے۔اپنے پیاروں کی موت پرتوصبر آجاتا ہے مگر اپنوں سے بچھڑجانیوالے بچوں کے گھر بکھرجاتے ہیں۔گمشدہ بچوں کی مائیں سائیں سائیں کرتے آنگن میں پل پل مرتی اورپل پل جیتی ہیں۔ہمارے بچے گلی محلے،مدارس،مساجد اورمادرعلمی کے اندر بھی محفوظ نہیں،اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔تاہم ہمارے ارباب اقتدارواختیار نے آج تک اس حساس معاملے کواس قدراہمیت نہیں دی جس قدر ضروری تھی۔ہمارے انمول بچے ہمارابیش قیمت سرمایہ اورسنہرامستقبل ہیں۔ہم جس طرح اپنے موبائل اوردوسرے قیمتی سامان کی حفاظت کرتے ہیں اس طرح اپنے انمول بچوں کاخیال کیوں نہیں رکھتے۔اگرریاست ماں ہے توآج اس کی آغوش میں بچے محفوظ کیوں نہیں۔ حکمران طبقہ بتائے اس نے ایساکیا منصوبہ بنایا ہے جس سے ہمارے بچے اغواء نہ ہوں اوراگرگم ہوں توانہیں بروقت تلاش کرلیاجائے۔یہ ٹیکنالوجی کادور ہے،اگر پچاس ہزارکے موبائل اوردوملین کی گاڑی کو چوری ہونے پر ٹریس کیاجاسکتا ہے،پچاس ہزار کی موٹربائیک پرنمبر پلیٹ لگائی جاسکتی ہے توانمول بچوں کی گمشدگی یاان کے اغواء کی صورت میں انہیں تلاش کرنے کیلئے کوئی” چپ ”کیوں نہیں ایجادکی جاسکتی،چپ کانام محض سمجھانے کیلئے لیا ہے۔ہم اس سلسلہ میں کوئی موثرایجادات یامنظم منصوبہ بندی کیوں نہیں کرتے۔جس دن ارباب اقتدارواختیار نے اس ایشوکوسیریس لے لیا اس روز جدت سے بھرپوراور بے شمار آئیڈیاز ان تک پہنچناشروع ہوجائیں گے۔حکمران یادرکھیں ” اوربھی غم میں زمانے میں احتساب کے سوا”۔خدانخواستہ ہمارے بچے نہ رہے توپرانایانیاپاکستان ہمارے کس کام کا۔ ٹیکس وصولی ریاست اورحکمرانوں کاحق ہے مگروہ شہریوں کو”جگا ٹیکس ”کی طرح بوجھ محسوس نہ ہو،ارباب اقتداراس کے ساتھ ساتھ ہمارے مستقبل یعنی بچوں کی تعلیم وتربیت اورحفاظت پربھی دھیان دیں۔راقم کی ناقص رائے میں ہر بچے کونادرامیں رجسٹرڈ کرناازبس ضروری ہے۔نادرا ہربچے کیلئے سبزاورسرخ رنگ کے دو کارڈ ایشو کرے اوران کی دوسے تین برس بعد نئی تصویر کے ساتھ تجدیدکی جائے، جس پربچے سمیت اس کے ورثا کی تصاویربھی ہوں۔ گھر سے تنہا باہرجانے کی صورت میں سرخ رنگ کاکارڈ بچوں کے گلے میں ہو،اگرکوئی اجنبی کسی سرخ کارڈ والے بچے کے ہمراہ ہو تو اس صورت میں یقینا اسے خطرے میں سمجھ کراس کی مدد کی جائے، فرض کریں اگر بچے کے گلے میں کوئی کارڈ نہ ہوتواس کامطلب وہ خطرے میں ہے۔اپنے ورثا کے ساتھ گھر سے باہرجانے کی صورت میں سبزکارڈ بچے کے گلے میں ہوناضروری ہے،اس سبزکارڈ پراس کے ورثا کی تصاویرہوں گی۔راقم کی اس ناقص تجویز سے بچوں کے اغواء اورگمشدگی کامعاملہ سوفیصد حل نہیں ہو گامگراس میں خاطرخواہ کمی ضرورآئے گی۔حکومت معاشرے کے مختلف طبقات سے تجاویزطلب کرے تویقینا انتہائی موثر انداز سے اس حساس معاملے کوہینڈل کیا جاسکتا ہے۔مجھے تعجب ہے اس جدیددورمیں ہم گمشدہ ہونے یاملنے والے بچوں کی تصاویر مختصر پیغام کے ساتھ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کوفاروڈ کررہے ہوتے ہیں۔ لاہور کے گمشدہ بچوں کی تفصیل پشاوراورکراچی کے وٹس ایپ گروپس میں فاروڈ کردی جاتی ہے، مگر ہمارے پاس ان کے فالواپ کاکوئی نظام نہیں۔ہوسکتا ہے ان بچوں کودوپہر یاشام تک ان کے گھروں میں پہنچادیاگیا ہومگر ان کی گمشدگی والی پوسٹ مہینوں تک گردش کرتی ہے۔بیشترویڈیویاپوسٹ کے ساتھ مقام اوررابطہ نمبر نہیں بتایاجاتا جوبتانااز بس ضروری ہے۔ جس کاجی چاہتا ہے وہ بچے کے ساتھ ویڈیویااس کی پوسٹ بناکرشیئرکردیتا ہے، وہ پوسٹ کس حدتک مستند ہے یہ دیکھے بغیر باقی لوگ ہمدردی کی بنیاد پرا سے دوسروں کوفاروڈ کر تے چلے جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس قسم کی پوسٹ صرف اورصرف متعلقہ تھانہ تیاراور ایشوکرنے کامجاز ہے،اس پوسٹ پرمقامی تھانے اورآفیسرکے نام سمیت رابطہ نمبر درج ہوناچاہئے۔کسی بچے کی گمشدگی یاملنے کامعاملہ ہو توشہری اسے اورورثا کو اپنے طورپرآس پاس ضرورتلاش مگرناکامی کی صورت میں مقامی تھانے سے رجوع کریں۔تھانوں میں گمشدہ ہونے اور ملنے والے بچوں کی رپورٹ درج کرنے سمیت بچوں کی تصویراورتفصیل والی پوسٹ کی تیاری اوراسے سوشل میڈیا کی مدد سے نشرکرنے کاکام پولیس اہلکار خود جبکہ شہربھر کے تھانے وٹس ایپ گروپس کی مددسے آپس میں معلومات شیئرکریں۔آپ تصور کریں کوئی شہری تھانہ فیکٹری ایریا میں اپنے گمشدہ بچے کی رپورٹ درج کروانے جائے تووہاں اسے بتایاجائے کہ نویداحمدنامی شہری کو آپ کا بیٹالاہور جنرل ہسپتال سے ملاتھا اورا سے تھانہ کوٹ لکھپت پہنچادیا گیاہے آپ وہاں تشریف لے جائیں جہاں قانونی کارروائی کے بعد بچے کوورثا کے سپردکردیاجائے۔ تھانوں کے اندر ایک بورڈ پربھی گمشدہ اورملنے والے بچوں کی معلومات آویزاں کی جائیں۔پی ٹی وی سمیت ہمارے نجی چینل روزانہ کی بنیادپر مناسب وقت اوراخبارات سٹی پیج کامناسب حصہ گمشدہ بچوں اورلاوارث نعشوں کیلئے وقف کریں۔پولیس محض اس مقصد کیلئے ٹول فری نمبرز اوروٹس ایپ نمبرز مشتہر کرے،اس طرح یتیم بچوں کی مائیں گھر بیٹھے پولیس کے ساتھ معلومات شیئر کرسکتی ہیں۔ آزادکشمیر سمیت چاروں صوبوں کی پولیس ایک ویب سائٹ بھی تیارکرسکتی ہے جس پرگمشدہ اوربازیاب بچوں کی تصاویراورتفصیلات سمیت گمشدہ قیمتی سامان اورضروری دستاویزات بارے معلومات بھی اپ لوڈ کی جاسکتی ہیں۔جوگمشدہ بچے گھروں میں پہنچادیے جائیں ان کاڈیٹا ڈیلیٹ کردیا جائے۔ہرشہر کی سطح پر آئی ٹی ماہرین اس ویب سائٹ کے ایڈمن ہوں۔اس ویب سائٹ کو صوبوں،شہروں اورتھانوں کی بنیادپر”سرچ ”کرنے کی سہولت ہو۔اس پرلاواث نعشوں کی معلومات بھی دستیاب ہوں۔عہد حاضر میں ہردوسرے شخص کے پاس سمارٹ فون ہے وہ گھر بیٹھے پولیس ویب سائٹ کی مدد سے اپنے گمشدہ بچے کوتلا ش کرسکتا ہے۔ہسپتالوں کے اندرتعینات پولیس اہلکار ایمرجنسی وارڈ میں آنیوالے لاوارث زخمیوں اورمختلف وارڈزمیں لاوارث مریضوں کاڈیٹا بھی پولیس ویب سائٹ کے ایڈمن کوفراہم کریں۔راقم نے اپنے کالم میں پولیس کو ایک ویب سائٹ بنانے اوراس پرملزمان اورمجرمان بارے معلومات شیئرکرنے کی تجویزدی تھی جس پراس وقت کے آئی جی مشتاق سکھیرا نے اسے بنانے پررضامندی ظاہرکی تھی،اس ویب سائٹ بنانے کامقصد تھا جولوگ گھروں یادفاتر کیلئے ملازم تلاش،کسی کے ساتھ پارٹنر شپ کی بنیادپرکاروبار کرتے یاقرض دیتے ہیں وہ پولیس ویب سائٹ پران کاشناختی کارڈ انٹرکرکے اپنی تسلی کریں اوراگرکوئی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہوتواس کے ساتھ ہرقسم کے معاملے سے محفوظ رہیں۔ میں سمجھتا ہوں بچوں کااغواء اوران کاجنسی استحصال بھی بدترین دہشت گردی ہے اورہمیں ہرقسم کی دہشت گردی سے نجات کیلئے وردی کوعزت اورطاقت دینا ہوگی۔پولیس کاڈرختم کرنے کی سوچ ہرگزدرست نہیں کیونکہ سزاکاڈربدی اوربرائی سے روکتا ہے، اگر دشمن کے دل سے پاک فوج اورمجرم کے دل سے پولیس کاڈرختم ہوجائے توغضب ہوجائے گا۔ پاک فوج ہویاپولیس امن وامان کیلئے ان کامجموعی کردارقابل قدر ہے۔جس طرح کسی انسان کی برائی پراس کے مذہب کوبرا نہیں کہاجاسکتا اس طرح سکیورٹی اہلکاروں کی نااہلی یابدعنوانی دیکھتے ہوئے اداروں پرانگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔فوج اورپولیس کی وردی مختلف ہے مگردونوں اداروں کے آفیسرزاوراہلکاروں کی زندگیاں برابری کی بنیادپر قیمتی ہیں۔لاہور پولیس کے 311 جبکہ چاروں صوبوں میں پولیس آفیسرزاورجوانوں نے فرض منصبی کی بجاآوری کے دوران جام شہادت نوش کئے ہیں لہٰذاء وردی کوعزت دو۔لاہورپولیس کیلئے ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان کادم غنیمت ہے جبکہ ان کی دوررس اصلاحات تازہ ہواکاجھونکا ہیں۔وہ تھانہ کلچر کی تبدیلی کیلئے بیجا سزاؤں سے زیادہ تربیت کے حامی ہیں،وہ ایک عزت دار کی طرح اپنے ماتحت آفیسرزاوراہلکاورں کوعزت د یتے ہیں اورعزت بہترین تربیت کیلئے” دعا”اور” دوا”ہے۔ اشفاق احمد خان بھی بابا جی ا شفاق احمد خان کی طرح فلسفیانہ اوردانشمندانہ گفتگوکرتے ہیں۔اگر ان کے معاملات میں سیاسی مداخلت نہ کی گئی تووہ یقیناانقلابی اندازسے لاہور میں تھانہ کلچرتبدیل کرنے کی نیت اور صلاحیت رکھتے ہیں،ان کے نزدیک مناسب تعلیم وتربیت کے باوجود غلطیاں دہرا نے والے قابل رحم نہیں اورجس کی تربیت نہیں کی گئی اسے سزاکس طرح دی جاسکتی ہے۔چھوٹی عمر میں یتیمی کے بعداشفاق احمدخان کی شفیق ومہربان ماں نے ان کی قابل رشک انداز سے تربیت کی جوان کی شخصیت میں جھلکتی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان راوین ہونے کے ساتھ ساتھ قائداعظم ؒ یونیورسٹی اسلام آبادمیں پڑھتے اوروہاں پڑھاتے رہے ہیں مگر ان کی خدادادانتظامی وقائدانہ صلاحیتیں پولیس کلچر تبدیل کرنے کیلئے زیادہ موزوں تھیں لہٰذاء سی ایس ایس میں نمایاں کامیابی کے بعدان کاپولیس میں آنا تھانہ کلچر کی تبدیلی کیلئے نیک فال رہا۔اشفاق احمدخان جس انداز سے تھانوں کے سرپرائز وزٹ اوراس دوران اپنے اہلکاروں کی تربیت کررہے ہیں اس سے تھانہ کلچر کی تبدیلی کاآغاز ہوگیا ہے۔ ایک روز کسی تھانے کا وزٹ کر تے ہوئے وہ ایک نوجوان سے ملے جس کی رقم گم ہو گئی تھی اشفاق احمدخان نے اپنی جیب سے اسے اپنے آبائی شہرواپس جانے کیلئے کرایہ دیا۔پچھلے دنوں نجی چینل پر تھانہ نولکھا کے باریش ایس ایچ اوغلام عباس کی کرپشن کے سبب تبدیلی کی رپورٹ دیکھی مگرغلام عباس کاموقف نہیں دیاگیا،کیا یہ آزادی صحافت ہے۔اگرراناثناء اللہ کی گاڑی سے مبینہ طورپر بھاری مقدارمیں منشیات برآمدہونے کے باوجود اس کااوراس کی اہلیہ کا بار بارموقف آسکتا ہے توایک باریش ایس ایچ اوکاکیوں نہیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے