۔،۔ریاستِ مدینہ۔اے آاشرف بیورو چیف جرمنی۔،۔

۔کی محمدﷺ سے وفا تو نے،تو ہم تیرے ہیں،۔۔۔۔۔۔۔،یہ جہاں چیز ہے کیا،لوح و قلم تیرے ہیں۔
اسمیں تو شک نہیں کہ اگر دیانتداری سے سُنتِ طیبہ ﷺ پر عمل ہو جائے تو۔ریاست مدینہ۔ کا قیام بھی ممکن ہو سکتا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے کہ جب بات دعوؤں اور وعدوں تک محدود نہ ہو بلکہ عملی طور پر کچھ ہوتا ہوا نظر بھی آئے اس سے پیشتر مرحوم جنرل ضیاالحق نے بھی نظام مصطفیٰﷺ کے نفاذ کی آڑ میں شہید ذوالفقارعلی بھٹو کی جمہوری حکومت پر شب خون مار کر قوم سے نظام مصطفیٰ کے نفاذ کا وعدہ کیا تھا مگر قوم کو دہشت گردی،کلاشنکوف،فرقہ ازم اور نفرتوں کا تحفہ دیکر خود تو راہی اجل ہوگئے مگر قوم اب تک ضیائی نظام کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔کسی پنجابی شاعر نے یہ ظُلم بربریت دیکھ کر ہی کیا خوب کہا تھا۔۔جان تیری نوں رونے پئے آں۔۔اج وی لاشاں ڈھونے پئے آں۔۔ اب تھوڑی تبدیلی کیساتھ۔نظام مصطفیٰ۔والا وہی نعرہ۔نیا پاکستان۔اور۔ریاستِ مدینہ۔ پاکستان تحریک انصاف لگا رہی ہے میری سمجھ سے یہ بات بالاتر ہے کہ کیسے یہ سب کچھ ممکن ہوسکے گا پھرسوچتا ہوں کہ شاید ہمارے ہر دلعزیزوزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے ہاتھ بھی شاید عصاِ موسوی آ گیا ہے جسکے مارنے سے دریا نیل خشکی میں تبدیل ہو جاتا تھا اور اُسکے زمیں پر چھوڑنے سے مخالفین کے تمام ہتھکنڈے ہوا ہوجایا کرتے تھے جیسے حکومت نے سینٹ کی قرارداد کوناکام بنانے میں عصاِ موسوی کے معجزے کا کمال دیکھا کرخزب اختلاف کے اتحاد کی اُمیدوں پر اس طرح پانی پھیردیا بالکل ویسے ہی جس طرح فرعون کے دربار میں جادوگروں کی رسیوں کے سانپوں کو عصاِموسوی نگل گیا تھااور جادوگرمُنہ دیکھتے ہی رہ گئے یا پھریہ بھی ممکن ہے جناب عمران خان کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے وزیر جناب آصف برخیا کی طرح کوئی اسمِ اعظم مل گیا ہوجسکی قوت سے اُسنے، ملکہ سبا۔کا تختِ بلقیس۔ چشمِ زدن میں حاضر کر دیا تھا انتحابات سے قبل عوام سے کئے گئے وعدوں کی فہرست اگرچہ بہت طویل ہے جن میں۔نئے پاکستان۔میں۔اختساب،ایک کروڑ ملازمتوں اور پچاس لاکھ مکانوں کی تعمیر اور سب سے زیادہ خوشی اوردل کو جلادینے والا وعدہ۔ریاست مدینہ۔کے قیام کی نوید تھی۔ریاست مدینہ کا تصور آتے ہی ہر مسلمان خواہ اُسکاکسی بھی مکتبہِ فکر سے تعلق ہوجوش مودت سے اُسکا دل جھوم اُٹھتا ہے اور اچھے دنوں کے خواب دیکھنا شروع کر دیتاہے اور ایسے خوش بخت معاشرے کا تصور دل و دماغ میں بیٹھا لیتا ہے کہ اب صرف اورصرف عدل و انصاف ہو گا کسی فرد کے بنیادی حقوق غصب نہیں ہونگے،تقریر و تحریر کی مکمل آزادی ہو گی،اظہار رائے پرکسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہو گی،خزب اختلاف کی آواز کو اس بنا پر خاموش نہیں کر دیا جائے گا کہ وہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتی ہے یعنی اُن پر کسی قسم کی قدغن نہ ہو گی بلکہ ہر کسی کو رسالتمابﷺ کے یہ الفاظ کانوں میں گونجتے سُنائی دینگے کہ میری اکلوتی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علہا بھی اگر چوری کرے گی تو اُسکے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں گے۔حضورﷺ کے پاس ایک شخص آیا اُسنے کہامجھ میں تین عیب ہیں۔جھوٹ بولتا ہوں،شرابی اورزانی بھی ہوں مگر ان میں سے ایک گناہ کو میں آپﷺ کے کہنے پر ترک کرسکتاہوں توآقاؑ نے اُسے جھوٹ بولنا چھوڑ دینے کا مشورہ دیانتیجے میں وہ جھوٹ بولنا چھوڑنے کے۔ ساتھ ساتھ دوسرے گناہوں سے بھی توبہ کرگیااسطرح ہمارے وزیراعظم سمیت سب سیاستدان بھی اگر مرسل اعظمﷺ کی سُنت پر عمل کرتے ہوئے جھوٹ بولناچھوڑ کرحق اور سچ کو اپناشعار بنا لیں تو کشور خدادا دپاکستان اور عوام کے بہت سارے اندرونی مسائل کا حل تلاش کرنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گااور پاکستانی عوام بھی خوش دلی سے تعاون کرے گی لیکن جس کام کی ابتدا ہی جھوٹ سے ہوتو وہاں کامیابی کی اُمید نہیں کی جاسکتی۔اگر حکومت واقعی ریاست مدینہ کے قیام میں سنجیدہ ہے اور یہ تصور اُنکے منشور کا حصہ ہے تو تحریک انصاف نے پہلے سے ہی کوئی نہ کوئی تو واضع حکمتِ عملی کی پلاننگ کر رکھی ہو گی جسے ابھی تک عوام کی نظروں سے اُجل رکھا گیا ہے۔یوں تو وطن عزیز۔کشور خداداد۔اسلامی جمہوریہ پاکستان۔کے نام سے دنیا بھر میں اپنی شناخت رکھتا ہے مگر حققت میں اسلامی اور جمہوریہ صرف لاحقے کے طور استعمال ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں۔آدھا تیتر۔آدھا بٹیر۔پھر علامہ اقبال یاد آئے اُنہوں نے اپنی قوم ہی کے بارے میں کیا خوب ہی کہا تھا۔۔مسجد تو بنا دی شب بر میں،ایماں کی حرارت والوں نے۔۔من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا۔پاکستان جس کا وجود ہی۔اسلام کے نام سے ہوا تھا اورجسکا نعرہ ہی۔پاکستان کا مطلب کیا۔۔لاالہٰ الہ اللہ۔تھا آج اللہ کے فضل وکرم اور محمدﷺ و آل محمدﷺ کے صدقے میں اپنی بہترویں سالگرہ منانے جا رہا ہے اور وہ دن دور نہیں کشور خدا داد میں دینِ محمدﷺ کا نفاذ بھی ہوجائے گااورجہاں عدل و انصاف کابول بالا ہوگا اور پھر حققت میں۔۔ریاست مدینہ۔۔کا قیام یقینی ہوگا مگرشرط وہی رب دو جہاں نے وہ جووعدہ کر رکھاہے کہ۔۔کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں،۔۔جہاں چیز ہے کیا،لوح و قلم تیرے ہیں،۔۔میری دعا ہے کہ خدا ہم سب مسلمانوں کو دین اسلام پر ثابت قدم رکھے اور ہمیں پاکستان میں ریاست مدینہ دیکھنا نصیب ہوآمین ثم آمین۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے