۔،۔بقرہ عید۔:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔


مو بائل سکرین پر ملک صاحب کا نمبر جگمگا رہاتھا میں نے کال کے لیے گرین بٹن دبایا تو ملک صاحب کی پر جوش جو شیلی زندگی سے بھر پور آواز میری سماعت سے ٹکرانے لگی جناب پروفیسر صاحب کیا حال ہے بڑے دن ہو گئے آپ سے ملاقات نہیں ہو ئی‘ بقرہ عید قریب قریب تھی دوستوں کے تحفوں پھلوں کی پیٹیوں اور عید کے جانوروں کی لسٹ بنا رہا تھا تو آپ کی یاد بہت شدت سے آئی تو میں نے سوچا لسٹ بنانے سے پہلے بھائی سے بات کر کے اُس کی پسند مرضی پوچھ لوں کیونکہ میں تو اپنی طرف سے لے ہی آؤں گا لیکن اگر آپ کی پسند کے مطابق نہیں ہوگا تو مزہ نہیں آئے گا اِس لیے آپ کی پسند مرضی پوچھنے کے لیے آپ کو فون کیا ہے بقرہ عید پر آپ کونسا پھل مٹھا ئی اور جانور پسند کریں گے آپ کے لیے بہاولپور کے خاص بکرے اِس بار آئے ہیں وہ لوں بیل یا آپ اونٹ کی قربانی دینا پسند کریں گے یا تینوں جانور اچھے صحت مند قد کا ٹھ والے کدھر بھیج دوں‘ دوسری بات عید سے ایک دن پہلے بھیجوں اور کہاں بھیجوں مجھے پتہ چلاہے کہ آپ عید لاہور میں نہیں کر تے تو بھا ئی جان برائے مہربانی مجھے اپنے گاؤں کا پتہ اور وصول کر نے والے کا مو بائل نمبر دے دیں تاکہ جانوراور پھل وہاں پہنچانے آسان ہوں‘ آپ کہاں تکلیف کرتے پھریں گے ہم یاروں کے یار ہیں ہماری تو زندگی کا مقصد ہی دوستوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر نا ہے‘ جناب آپ لاہور حکم کریں یا کسی دور دراز دیہات میں ہمارے بندے جانوروہاں پہنچادیں گے اور دوسری بات فلاں محکمے میں جو آپ کے دوست سربراہ لگے ہوئے ہیں اُن کو بھی تو عیدی اور جانور بھیجنے ہیں جو دوست آپ کے ہیں وہ ہمارے بھی تو ہیں اُن سے بھی پوچھ لیں وہ کیا پسند کریں گے اُن کا ایڈریس بتا دیں میں انہیں آپکی طرف سے عیدی اور جانور پہنچا دوں گاکسی اور سرکاری آفیسر کو عیدی دینی ہے تو بندہ غلام ہے آپ کے حکم کی تکمیل ہو گی اب ملک صاحب نے آخری وار کر دیا پروفیسر صاحب اگر آپ یا آپ کے دوست جانور اپنی مرضی سے خریدنا چاہتے ہیں تو اُس کا بھی میں نے حل نکالا ہوا ہے میں عیدی گفٹ بند لفافے میں پیسے ڈال کر بھجوا دیتا ہوں‘ آپ اپنی مرضی کے جانور خریدیں جناب ہماری تو زندگی کا مقصد ہی دوستوں کے کام آنا ہے ملک صاحب کی باتیں پتھربنا سن رہا تھا انہوں نے کس مہارت اور چالاکی سے رشوت کو عیدی کی شکل دے دی تھی میرے جس دوست سے انہیں کام تھا اُس کا ذکر وہ چند دن پہلے مجھ سے کر چکے تھے،اِس کام کی وہ بھاری رشوت کی آفر بھی کر چکے تھے جو لاکھوں میں تھی ملک صاحب اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ سرکاری آفیسر میری بہت زیادہ عزت کر تا ہے اور وہ میرے کہنے پر ملک صاحب کا کام بھی کردے گا اب ملک صاحب مجھے تو رشوت دے نہیں سکتے تھے نہ ہی وہ نیک ایماندار آفیسر رشوت لے گا اب انہوں نے یہ طریقہ نکالا تھا عید پر رشوت دینے کا۔ جب ملک صاحب خوب بول چکے تو میں نے سختی سے انکار کر تے ہو ئے کہا جناب آپ کی بہت مہربانی میں اور میرے سرکاری آفیسر دوست نے پہلے سے ہی جانور لے لیے ہیں آپ سے عید کے بعد ملاقات ہوگی آپ کا بہت شکریہ لیکن ملک صاحب بار بار اپنے جانوروں کی بھرپور وکالت کر تے رہے تو آخر کار میں نے انکار کر کے فون بندکر دیا۔ ملک صاحب کی باتوں سے میں سر سے پاؤں تک لرز گیا بلکہ میرے جسم پررعشہ طاری تھا کہ کرپشن رشوت مادیت سے کس طرح ہمارے جسموں کو چاٹ لیا ہے کہ اب ہم قربانی جیسی عظیم عبادت کو بھی رشوت کے طور پر استعمال کر رہے ہیں یہ اس بات کو بھول چکے ہیں کہ یہ تو آقا کریم ﷺ کا ہم پر احسان ہے جو اللہ تعالی ہما ری قربانیوں کو قبول کر لیتے ہیں ورنہ پہلی قوموں میں جب کسی کی قربانی حلال طریقے سے نہیں ہوئی ہو تی تو اللہ تعالی قبول کر نے سے انکار کر کے اُس شخص کی سیاہ کاری گناہ گاری لوگوں کو دکھا دیتا تھا ہمارے بانجھ پن کا لیول اتنا گر چکا ہے کہ ہم اب قربانی کے جانور بھی جائز حلال کمائی سے نہیں لیے بلکہ ایک دوسرے کو تحفوں کی صورت میں پیش کر تے ہیں میں بہت سارے ایسے سرکاری افسران سیاستدانوں اور معاشرے کے بااثر لوگوں کو جانتا ہوں جو اپنی حلال کمائی کی بجاے قربانی کے جانور بھی رشوت کے طور پر لیتے اور دیتے ہیں اور پھر فخریہ نجی محفلوں میں بیٹھ کر اپنی اس چالاکی اور کارستانی کا ذکر بھی کرتے ہیں اور تو اور پچھلے سال مجھے ایک گدی نشین پیر صاحب کا فون آیا پروفیسر صاحب امریکہ سے ایک مریدنے بہت خوبصورت قربانی کے جانور لے کر دئیے ہیں آپ کو تصویریں وٹس ایپ کرتا ہوں آپ کو جو جانور پسند ہو آپ کو بھیج دیتا ہوں قربانی جو ایک خالصتا ً مذہبی فریضہ ہے مادیت پرستی میں غرق ہمارے لوگوں نے اِس کو بھی فیشن شویا اپنی امارت کا اظہار بنا دیا ہے لوگ اپنے محلوں میں مقابلہ بازی کر تے نظر آتے ہیں بڑے قد کے مہنگے جانور لا کر عید سے پہلے ہی اپنے گھروں کے سامنے باندھ دیتے ہیں اور پھر دن رات انہیں سجا کر چلا کر اہل محلہ پر اپنی دولت کا رعب ڈالتے ہیں غریب اور سفید پوش لوگ بیچارے حسرت بھری نظروں سے ان جانوروں کو دیکھتے ہیں بقرہ عید امارت کے اظہار کا سمبل بنتی جارہی ہے معاشرے کے امیر لوگ فخریہ انداز سے اپنے حلقوں میں بیٹھ کر کہتے ہیں ہم نے سو بکرے اتنے بیل اتنے اونٹ دئیے ہیں اور پھر لوگوں کو اکٹھا کر کے اُن جانوروں کی نمائش کی جاتی ہے پھر لسٹیں بنائی جاتی ہیں معاشرے کے باثر لوگوں کے گھر بکروں کی رانیں‘بیلوں کا قیمہ‘ اونٹوں کی ہڈی والا گوشت اچھی طرح بنا سجا کر تحفے کے طور پر بھیجا جاتا ہے‘ معاشرے کے بااثر سرکاری اور لوگوں کے گھروں میں بکرے کی رانوں کا سیلاب آجاتا ہے‘ فریجوں میں جگہ نہیں ملتی تو لوگ تحفے پر آئی ہو ئی رانیں اور گوشت اپنے سے زیادہ بااثر طاقتور لوگوں کو تحفہ دیتے ہیں یہ سارے امیر لوگ سینکڑوں جانور تو قربانی کے طور پر دیتے ہیں لیکن اپنے گھر کے ملازموں اور کچی آبادیوں کے غریب لوگوں کو اور شہر کے اطراف میں پھیلے دیہات کے اُن غریب لوگوں کو بھول جاتے ہیں جو سارا سال گوشت نہیں کھاتے صرف عیدپر ہی انہیں گوشت کی آس ہو تی ہے لیکن جب یہ غریب لوگ ایک دروازے سے دوسرے دروازے پر گوشت کی چند بو ٹیوں کے لیے آتے جاتے ہیں۔تو اُن کو دھکے دے کر یا دھتکار کر بھیج دیا جاتا ہے کہ ہم نے قربانی آج نہیں کر نی کل آئیں یا قربانی کا گوشت ختم ہو چکا ہے جب امیر لوگ اِن بڑے قد کاٹھ کے جانوروں کو گلیوں محلوں میں نمائش کر تے ہیں توغریبوں کے بچے بیچارے حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہی کہ کاش ہم بھی اِس قابل ہو تے کہ ہمارے والدین ہمارے لیے بھی ایسے ہی خوبصورت جانور لاتے‘ قربانی کا مفہوم اپنی پسندیدہ چیز کو راہ خدا میں پیش کر ناا ور گوشت کو ان غریبوں تک پہنچانا جو سارا سال گوشت نہیں کھاتے حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے لاڈلے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو راہ خدا میں خدا کے حکم پر قربانی کے لیے پیش کر کے خلیل اللہ کا لقب پایا خدا کو حضرت ابراہیم ؑ کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ ہر حاجی اور مسلمان پر فرض کر دی جو استطاعت رکھتا ہے قربانی پر نمائش کر تے یہ دولت مند کیوں بھول جاتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ قبرستان میں ہو نگے جہاں کیڑے اِن کے جسموں کو ادھیڑ دیں گے اور زمین پر نئے لوگ ہونگے قربانی اسی صورت میں قبول ہو گی جب سے ہم اہل محلہ اور غریبوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کریں گے نہیں تو سینکڑوں جانوروں کی قربانیاں دھتکار دی جائیں گی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے