۔،۔قلم کاروان،اسلام آباد۔ڈاکٹرساجدخاکوانی۔،۔

منگل مورخہ 6اگست2019 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر1اسٹریٹ 38،G6/2اسلام آبادمیں منعقد ہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں ”ذبح عظیم“کے عنوان سے بزرگ ماہرلسانیات پروفیسرڈاکٹرعطااللہ خان یوسف زئی کامقالہ شامل تھا۔ جناب شہزادعالم صدیقی نے صدارت کی۔نشست کے آغازمیں ممتازماہرتعلیم جناب طارق خٹک نے تلاوت قرآن مجیدکی،ڈاکٹرساجدخاکوانی نے مطالعہ حدیث نبویﷺاورمیرافسرامان نے گزشتہ نشست کی کاروائی پیش کی۔صدرمجلس کی اجازت سے جناب ڈاکٹرعطااللہ خان نے اپنی تحریری کاوش پیش کی،انہوں نے حضرات ابراہیم اوراسمائیل علیھماالسلام کی زندگی کے واقعہ ذبح سے چھوٹے چھوٹے نکات نکال کر انہیں حالات حاضرہ پر منطبق کیا۔ڈاکٹرصاحب کی تحریر انتہائی دلپزیرتھی جس کے دوران شدت جذبات سے وہ متعدد بارآبدیدہ بھی ہوئے۔تحریرپر تبصرہ کرتے ہوئے جناب ساجد حسین ملک نے کہاکہ وہ زندگی میں بہت کم لوگوں سے متاثرہوئے جب کہ ڈاکٹرعطااللہ خان ان میں سے ایک ہیں،انہوں نے کہا کہ حضرت اسمئیل علیہ السلام سے شروع ہونے والی داستان عزم وابتلا بالآخرحضرت امام حسین پر آن کر منتج ہوتی ہے،انہوں نے خاص طورپر بی بی حاجرہ کے دوڑنے کاذکرکیااوربتایاکہ کس طرح اللہ تعالی کوان کی یہ اداپسندآئی اوراب تاقیامت کل حجاج کرام ایک مامتاکی یاد میں سعی بین الصفاوالمرہ کے ذریعے قرب خداوندی حاصل کرتے ہیں۔جناب شاہد منصور نے آج کے مقالے پراپناتحریری تبصرہ کیااور کہاکہ اس واقعہ ذبح عظیم کے ایک ایک موڑ پر امت مسلمہ سمیت پوری انسانیت کے لیے بہت سے پوشیدہ اسباق موجود ہیں۔کمانڈر(ر)محمود اقبال نے کہاکہ حج کے سارے مناسک کم و بیش چار ہزارسالوں نے جاری و ساری ہیں،انہوں نے آب زم زم کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ یہ اللہ تعالی کے ہاں سے زندہ نشانیوں میں سے ایک ہے۔اس کے بعد صدرمجلس کی خصوصی اجازت سے وادی کشمیرکی تازہ ترین اوراندوہناک صورت حال پرمیرافسرامان نے اپنالکھاہوا اخباری کالم حاضرین کو سنایا۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹرساجد خاکوانی نے کہاکہ دنیامیں ہزارہا زبانیں بولی جاتی ہیں ان میں سے ایک زبان ایسی ہے جوہرقوم سمجھتی ہے اور وہ طاقت کی زبان ہے،جس دن مسلمانوں کی قیادت نے ایٹمی قوت کی زبان اپنے حلق سے نکالی توکشمیرسمیت امت مسلمہ کے کل مسائل حل ہوجائیں گے۔جناب طارق خٹک نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک قرارداد پیش کی جسے شرکاء نے اتفاق رائے سے منظورکرلیا۔ آخرمیں صدر مجلس نے اپنے صدارتی خطبے میں امت کی زبوں حالی پر بہت افسوس کااظہارکیا اور دوتجاویز دیتے ہوئے کہا کہ نبی ﷺ کی طرح تجارت سے اپنی معاشی حالت بہتربنائیں اور عربی سیکھ کر قرآن س سنت سے براہ راست راہنمائی حاصل کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان تکمیل تعلیم پرملازمت کے متلاشی ہوتے ہیں،جب دوسری دنیاؤں نے اپنے کثیرالقومی و کثیرالملکی کاروبارہائے تجارت سے ساری دنیاکواپنی مٹھی میں بندکررکھاہے اور تجارت و کاروبار اور معاشی پالیسیوں کی آڑمیں وہ سیاست میں نقب لگاتے ہیں اور اخلاقیات کو شکار کرکے قوموں کو بانجھ کردیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ عربی سیکھ کر ہم اپنی علمی و معاشرتی حیثیت بحال کرسکیں گے اور غلامی سے آزادی مل جائے گی۔صدارتی خطبے کے ساتھ آج کی ادبی نشست اختتام پزیرہوگئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے