۔،۔قربانی:فکروفلسفہ۔ڈاکٹر ساجد خاکوانی۔،۔

دنیائے مذاہب میں دین اسلام کی پہچان عقیدہ توحیدہے۔توحید ”ایک ہونا“کو کہتے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ ذات باری تعاکی اپنی ذات میں ”ایک“ہی ہے لیکن اسکا بھیجاہوادین بھی اپنی تمام تر خصوصیات میں دنیا بھر میں اور کل انسانی تاریخ میں ایک اور اکیلاہی ہے۔دنیاکے کسی کونے میں دن میں پانچ دفعہ عبادت نہیں کی جاتی،پورامہینہ مشرق سے مغرب تک امت کاروزوں میں پرویاجاناکی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملے گی،محض ثواب کے لیے لاکھوں خرچ کردینااور پرصعوبت سفر اختیارکرنادنیامیں ناپید ہے،زکوۃ،عشر،خمس اور صدقات کا تصور سن کر تو دوسری دنیاؤں کے لوگ حیران ہی ہو جاتے ہیں اور صرف یہی نہیں کہ یہ امور کتابوں میں ہی درج ہیں بلکہ حالات کے عروج و زوال کا شکار اس امت نے کبھی بحیثیت مجموعی ان اعمال کو قضا نہیں کیا۔انسان کی حیات کل دراصل قربانی سے ہی مستعار ہے۔ماں باپ اولاد کے لیے قربانی دیتے ہیں۔ماں ایک طویل مدت تک ناروابوجھ کو قربانی سے کر برداشت کرتی ہے۔اسے اپنے آرام کی قربانی دینی پڑتی ہے،اپنی صحت کی قربانی دینی پڑتی ہے،اپنے خوردونوشت کی قربانی دینی پڑتی ہے،اسے اپنی جملہ معاملات و معمولات کی قربانی دینی پڑتی ہے یہاں تک کہ بوقت پیدائش ماں گویا موت کے منہ سے ہو کر واپس آتی ہے اور اتنی بڑی قربانی کے بعد ایک انسان اس دنیامیں جنم لیتاہے۔یہ تمام قربانیاں اگرچہ بہت سخت اور بعض اوقات ناقابل برداشت ہوتی ہیں لیکن بہرحال ایک ہی فرد”ماں“ سے متعلق ہوتی ہیں۔پیدائش کے بعد تو پہلے ماں باپ مل کر قربانی دیتے ہیں پھر پوراخاندان ایک بچے کے لیے قربانی دیتاہے اوراپنی محبت،توجہ اور وارفتگی اس کے لیے نچھاورکرتاہے اس کے بعد اگلے مرحلے میں پورامعاشرہ اس بچے کی تعلیم و تربیت کے لیے قربانی کے جاں گسل مراحل سے گزرتاہے۔گویا کل انسانیت اپنی تمام تراکائیوں کی حیثیت سے اور بالمجموع اس ایک فرد کے لیے قربانیوں کے مراحل سے گزرتے ہیں اور تب وہ فرد کارگر و ثمرآورو کارآمد ثابہت ہوتاہے۔جیسے ہی وہ فرد تیارہوتاہے تو اگلی نسل کے لیے قربانیوں کاایک اور سلسلہ چل نکلتاہے۔قربانیوں کی یہ مشق مسلسل ایک زمانے سے اس کرہ ارض پر تاشرق و غرب جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گی۔جو فرد جتنی قربانی دیتاہے وہ اتنا ہی قیمتی ہوتاہے اور قیمتی تر ہوتاچلاجاتاہے۔قربانی کے اعتبار سے قبیلہ بنی نوع انسان میں دو طرح کے مردو خواتین پائے جاتے ہیں۔ایک طرح کے وہ لوگ ہیں جن کی کل حیات قربانیوں سے مزین ہوتی ہے،وہ اپنی اور آنے والی نسلوں کے لیے اپنی زندگیاں تج دیتے ہیں۔یہ محسنین ہیں جن کے باعث انسانی نسل اس کرہ ارض پر افزائش پزیر ہے۔خاص طورپر وہ خواتین جن کی ساری زندگی اور کل صلاحیتیں انسانیت کی امانتوں کی نذر ہوجاتی ہیں،وہ اپنی آزادیاں،اپنے شوق اور جوانیاں بھی قربان کردیتی ہیں اور ذہنی و جسمانی و جذباتی و نفسیاتی طورپر صحت مند تر نسل کی بالیدگی کاباعث بنتی ہیں۔اپنی نسلوں اور پھران سے اگلی نسلوں کو دودھوں پالتی ہیں اور اپنے قیمتی تجربات منتقل کرنے کے بعد امر ہوجاتی ہیں۔عالم انسانیت کادوسراطبقہ دنیاسے اپنی جوانی کی قیمت وصول کرتاہے اور اپنی مسکراہٹ تک کے دام لگاتاہے۔یہ طبقہ قربانی نہیں دیتابلکہ اپنی خاطر انسانیت کو قربان کرتاہے۔یہ استحصالی طبقہ ہے جس نے کل انسانیت کو ناک تک سود میں جکڑ رکھاہے۔اس طبقے کے زن و مرد اپنی ہر صلاحیت،اپناوقت اور اپنی تمام مہارتیں بازارمیں لاکر زرتجارت کے طورپررکھ دیتے ہیں،اور جو بھی ان کی اچھی بولی دیتاہے اس کے ہاتھوں فروخت ہو جاتے ہیں۔ان کے اس کردار کے باعث دنیا دوزخ کا گڑھابن جاتی ہے اور زمین ظلم سے بڑھ جاتی ہے۔انبیاء علیھم السلام وہ طبقہ ہیں جنہوں نے انسانیت کی خاطر راہ للہ بے پناہ قربانیاں دیں اوران کاکچھ بھی صلہ انسانوں سے نہ مانگا۔قرآن مجید نے جگہ جگہ انبیاء علیھم السلام کایہ قول نقل کیاہے کہ ”میں تم سے کوئی بدلہ نہیں مانگتا،میرابدلہ توصرف اللہ تعالی کے ہاں ہی ہے“۔انبیاء علیھم السلام کے توسط و توصل سے جو طرز زندگی انسانوں کو میسر آیاہے وہ بھی سراسرقربانی سے عبارت ہے۔دن میں پانچ اوقات کی قربانی ہے،جس وقت،جہاں بھی اور جس بھی مصروفیت میں ہو ہر حال میں قربانی دے کر اللہ تعالی کے حضورپیش ہوناہے۔سال بھرمیں زکوۃ کے نام پر مال کی قربانی دینی ہے۔عمر بھرمیں ایک بار حج کرنے کے لیے جانا جس میں جان کی قربانی،مال کی قربانی،وقت کی قربانی،اپنے گھربارکے آرام کی قربانی اوروطن سے ہجرت کی قربانی اور ظالم نظام کے خاتمے کے لیے طاغوتی قوتوں سے ٹکرانا اور قتال و شہادت کے عنوان سے اپنی جان کو قربانی کے لیے پیش کرنا۔اس کے علاوہ قرآن کا ہر صفحہ ”صبر“کے حکم سے بھراہے اور تمام انبیاء علیھم السلام کی زندگیوں کواگرایک لفظ میں جمع کرنا چاہیں تو وہ بھی ”صبر“ہے۔جب کہ بادی النظر میں دیکھاجائے تو صبر بھی دراصل قربانی بلکہ سب سے بڑی قربانی کا نام ہے کہ انسانی رویوں کے نتیجے میں بدلہ،انتقام یاصدائے احتجاج کی بجائے اپنی ”انا“کی قربانی دیتے ہوئے انہیں برداشت کرنا اور اپنے ایمانی موقف پر ڈٹے رہنا۔انہیں قربانیوں میں سے ایک قسم سالانہ ذبیحے کی قربانی بھی ہے۔شریعت محمدیﷺمیں سال بھرمیں ایک قربانی کرنا ہر صاحب نصاب مسلمان مردوعورت پر واجب ہے۔سال کے کسی بھی حصے میں یہ قربانی کر لینے سے وجوب اداہو سکتاہے۔لیکن سنت رسول اللہ ﷺکے مطابق یہ قربانی سال کے آخری مہینے ”ذوالحجہ“میں کی جاتی ہے۔اس طریقے سے قربانی کرنے پر واجب اور سنت دونوں کاثواب ملے گا۔اگرکوئی صاحب نصاب ہوتے ہوئے بھی قربانی نہیں کرے گاتو عنداللہ گناہ گارہوگا۔جولوگ فوت ہوچکے ہوں ان کے ایصال ثواب کے لیے بھی قربانی کی جاسکتی ہے اس طرح اس قربانی کاثواب اللہ تعالی ان مرحومین کو عطاکرتاہے اور قربانی کرنے والا ببھی اجرپاتاہے۔آپ ﷺ کی ایک حدیث کے مطابق امت مسلمہ کو قربانی کاگوشت کھانے کی اجازت اللہ تعالی کے خصوصی انعامات میں سے ہے جب کہ گزشتہ امتوں کواس کی اجازت نہیں تھی۔قربانی کا عمل جس باقائدگی کے ساتھ اور جن جن شرائط کے ساتھ اور جن جن اثرات و نتائج کے ساتھ امت کے اندر جاری و ساری ہے اسکی مثال بھلا کہاں ملے گی؟۔سال خیریت سے گزر جانے پر کل دنیاکے صاحب نصاب مسلمان جن پر زکوۃ فرض ہوتی ہے شکرانے کے طور پر قربانی کرتے ہیں۔سب مسلمان اس عمل بابرکت میں یوں شریک ہوتے ہیں کہ صاحب نصاب قربانی کرتے ہیں اور جوصاحب نصاب نہیں ہوتے وہ قربانی میں سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور وہ لوگ جو غربت کی وجہ سے ساراساراسال گوشت جیسی نعمت سے محروم رہتے ہیں اب کی دفعہ وہ بھی پیٹ بھرکے اور دل سیر کر کے گوشت کھا لیتے ہیں اور رب تعالی کا شکر بجالاتے ہیں۔قربانی کا تصور گزشتہ امتوں سے جاری ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے ہابیل اور قابیل جب باہم اختلاف کا شکار ہوئے توانہیں حکم دیا گیا کہ اپنی اپنی قربانی پیش کریں،ہابیل بھیڑیں لے آیا اور قابیل جو کاشتکاری کرتا تھا،اپنے اگائے ہوئے غلے میں سے ایک حصہ لے آیا۔دونوں نے اپنی اپنی قربانی ایک میدان میں پیش کر دی۔گزشتہ امتوں میں قربانی کی قبولیت کا پتہ اس وقت چلتا تھا جب آسمان سے ایک آگ آکرتو اسکو جلا دیتی تھی۔دونوں کی قربانیوں میں سے ہابیل کی قربانی کو آسمانی آگ نے جلادیااور قابیل کی قربانی قبول نہ ہوئی اور یوں انکے اختلاف کا فیصلہ اللہ رب العزت کی طرف سے چکا دیا گیا۔گزشتہ امتوں سے بنی اسرائیل تک میں قربانی کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا۔بنی اسرائیل کو انکی ناشکریوں کی جو سزا ملی ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ انکی شریعت مشکل بنا دی گئی تھی۔چنانچہ ان کے ہاں قربان گاہ ایک مخصوص جگہ ہوتی تھی اور کہیں بھی قربانی نہیں کی جا سکتی تھی،وہ لوگ قربانی کاگوشت بھی کھا نہیں سکتے تھے،جس کی قربانی قبول ہو جاتی تو وہ جل کر راکھ کا ڈھیر بن جاتی اور جس کی قربانی قبولیت کے مقام پر نہ پہنچ پاتی تو ویسے ہی نادم اورخائب و خاسرہوجاتا کہ اللہ تعالی نے اسکی قربانی کو قبولیت کاشرف نہیں بخشا جبکہ ہماری شریعت میں قربانی کا وہی طریقہ رائج کیا گیاجو ملت ابراہیمی یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے جاری تھا۔محسن انسانیت ﷺنے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقے کے مطابق قربانی کا طریقہ دوبارہ رائج کیااور درمیان کی مدت میں جو خرافات و بدعات اس عمل میں داخل ہو چکے تھے انہیں ختم فرمادیا۔ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ وہ اپنی پیاری چیز اللہ تعالی کے راستے میں قربان کر رہے ہیں۔نبی کا خواب چونکہ وحی کا حصہ ہوتا ہے اس لیے وہ محض سچی پیشین گوئی نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالی کا حکم ہوتا ہے جسے پورا کرنا نبی کے لیے ضروری ہوتاہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی پیاری چیز اپنا بیٹا اللہ تعالی کے راستے میں قربان کردیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت حاجرہ سے فرمایا کہ بیٹے کو تیار کردیں کہیں جانا ہے،باپ بیٹا مکہ کی وادی سے نکلے اور منی کے میدان کی طرف چل دیے۔راستے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسمئیل علیہ السلام سے تذکرہ کیا کہ مجھے بیٹے کی قربانی کا حکم ہوا ہے،سعادت مند بیٹا قربان ہونے کے لیے تیارہوگیااور حضرت اسمئیل علیہ السلام نے فرمایاکہ باباجان آپ کو حکم ہوا ہے اسے پوراکر ڈالیے۔آسمان نے دیکھاکہ باپ نے اپنی اور اپنے بیٹے کی آنکھوں پر پٹی باندھی تا کہ حکم الہی کے پوراکرنے میں فرط محبت آڑے نہ آجائے اوربیٹے کی گردن پر چھری چلادی۔ اللہ تعالی نے اس قربانی کو”ذبح عظیم“کہ کریادکیاہے۔بیٹے کی جگہ جنت سے ایک مینڈھالاکررکھ دیاگیاجس کے ذبح کی یاد میں ہر سال قربانی کی جاتی ہے۔اس ذبح عظیم کی یاد میں اسلام نے مسلمانوں کو عید الاضحی کا تہوار دیاہے،یہ خوشی کے تین ایام جن میں روزہ رکھناحرام ہے اور کھانا پینامستحب ہے،پوری دنیاکے مسلمان اللہ کے نام پر قربانیاں کرتے ہیں اور گوشت کھاتے ہیں۔ان دنوں میں اللہ تعالی کو جانور ذبح کرنے سے زیادہ کوئی عمل پسند نہیں ہے کیونکہ یہی اس کے پیارے نبیوں کی سنت ہے۔روایات میں لکھاہے کہ یہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں،کھروں اور بالوں سمیت آئیں گے اور ان کے ایک ایک بال کے بدلے نیکی ملے گی۔قربانی کرنے والے کو چاہیے کہ اپنی حیثیت کے مطابق اچھااور صحت مند جانور خریدے کیونکہ پل صراط سے انہیں جانوروں پر سواری کرتے ہوئے گزاراجائے گا چنانچہ صحت مندجانور اپنے سوار کو بحفاظت اور سرعت کے ساتھ اس پار جا اتارے گا۔قربانی کے لیے ضروری ہے کہ بالغ اور بے عیب جانور خریداجائے،لنگڑا،لولااور نابالغ جانورکی قربانی سے منع کیاگیاہے۔قربانی کے جانور کی رقم کسی اورمقصد کے لیے استعمال کرنے سے قربانی کااجرحاصل نہیں ہوگااور قربانی کاوجوب بھی ادانہیں ہوگا۔تاہم اپنے سے دور قربانی کی رقم اس لیے بھیج دینا کہ وہیں قربانی کر دی جائے،جائزہے۔رشتہ داراس حسن سلوک کے زیادہ حق دار ہیں کہ جو لوگ امریکہ یا یورپ سمیت دنیاکے دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں اور انہیں وہاں قربانی کرنے میں دقت پیش آتی ہے یا نہیں آتی تو بھی وہ اپنے مادر وطن میں قربانی کی رقم ارسال کردیں اور یہاں انکے عزیزواقرباانکے نام کی قربانی کر دیں تو قربانی کاوجوب اداہوجائے گا۔ایک بکرے یا مینڈھے میں ایک فرد قربانی کرسکتاہے جبکہ گائے،بیل یااونٹ میں سات حصے دار اپنی قربانی کر سکتے ہیں۔بہتر ہے کہ قربانی کاجانور خود ذبح کیاجائے لیکن قصاب کی خدمات لے لینا بھی جائز ہے لیکن اس صورت میں کوشش کی جائے کہ گردن پر چھری چلانے کا عمل خود کیاجائے،یا پھر کم از کم اتناتو ضرور ہی کیاجائے کہ قصاب جب گردن پر چھری چلائے تو اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ دھر دیاجائے۔ذبح کرنے سے پہلے جانور کو پانی پلانا،بوقت ذبح جانور کا منہ قبلہ رخ کرنا،مسنون دعاپڑھنااور چھری کی دھارکو خوب تیزکرکے چھری چلانا پسندیدہ امور ہیں جن کی پابندی باعث ثواب ہے۔قصاب کو مزدوری کے طور پر کھال دینایاگوشت کا کچھ حصہ دیناجائز نہیں ہے،تاہم مزدوری اداکرچکنے کے بعد ہدیہ کے طورپریاصدقے کی نیت سے قصاب کو کچھ بھی دے دیناجائز ہے۔قربانی کی کھال ان اداروں کو دینی چاہیے جو شرعی پابندیوں کے ساتھ معاشرے میں غرباومساکین کی بھلائی میں کوشاں ہیں۔اگر کسی مجبوری کے باعث قربانی کے جانور کی کھال بیچ دی گئی ہوتوپھراس رقم کو ذاتی استعمال میں جائے۔آپ ﷺ کا طریقہ مبارکہ تھاکہ قربانی کے جانور کا گوشت پکنے تک کچھ نہیں کھاتے تھے اور دن کے کھانے کا آغاز قربانی کے گوشت سے ہی کرتے تھے۔یہ اس جانور کا احترام ہے کہ جو ہماری خاطراپنی جان سے گزر گیااور ہم کم از کم اسکے گوشت کے پکنے تک کاتوانتظار کریں۔عیدالاضحی کو بڑی عید کہتے ہیں کیونکہ اس کی عمر کم و بیش چار ہزار سالوں پر محیط ہے۔قربانی ان دس سنتوں میں سے ہے جن کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوا، انہوں نے سب سے پہلے بت خانے کی مورتیوں کو اپنی ٹھوکروں سے پاش پاش کیا اور جھوٹے خداؤں کی قربانی دی۔ہمارے لیے یہ سبق ہے کیا ہم نے اپنے سینے میں جمائے ہوئے ناجائزخواہشات کے بت توڑ ڈالے ہیں؟؟اولاد کا بت بہت بڑا بت ہوتا ہے جس کی گردن پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چھری چلا دی تو کیا آج ہم اپنی اولادکی ناجائز خواہشات کوقربان کرتے ہیں؟؟کیاہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت سے یہ سبق سیکھاکہ اولاد کی خاطر ہر جائزوناجائز،حلال و حرام اور صحیح وغلط کی پابندیوں کو توڑ دینا درست نہیں؟؟حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہر نبی کی طرح اپنے وطن کی قربانی دی اور دین کی خاطر اللہ تعالی کے حکم سے ہجرت کی کیاہم نے اپنے وطن کا بت توڑا؟؟”سب سے پاکستان“کا نعرہ لگا کر امت کو پس پشت ڈال کر اور اپنے وطن کا بت پوج کر ہمیں کیاملا؟؟۔قرآن نے واضع طور پر فرمایا کہ جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقے سے منہ موڑا اس نے گویا اپنے آپ کو دھوکا دیا۔سوقربانی کا سبق ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس طرح ایک نبی علیہ السلام نے اپنی محبتوں کا مجموعہ اللہ تعالی کے راستے میں پیش کردیاہم بھی اپنی خواہشات کو نبی ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کے تابع کر دیں،جانورکی گردن پر چھری چلانا دراصل اپنی ناجائز خواہشات پر چھری چلانا ہے جس کو تقوی کانام دیا گیاہے۔اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالی تک قربانی کا گوشت نہیں پہنچتا بلکہ تقوی پہنچتا ہے۔قربانی تو تمام تر شرعی قوائدوضوابط کے ساتھ کر ڈالی لیکن خواہشات نفسانی کے جانور کو بے لگام چھوڑ دیاتو پھر گویا قربانی چہ معنی دارد؟؟عملی زندگی ہر ہر قدم پر قربانی مانگتی ہے اور نبیوں کے طریقے کے مطابق ہر ہر قربانی کواللہ تعالی کے حضور پیش کیے جانا یہ سبق ہے جو ہر سال کے آغاز سے پہلے سنت ابراہیمی ہمیں یاد کراتی ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے