۔،۔حج وعمرہ اور احرام۔ڈاکٹر ساجد خاکوانی۔،۔
حج اور عمرہ ایک بہت بڑی سعادت ہے جس کے لیے لاکھو ں فرزندان توحیدحجازمقدس کا سفرکرتے ہیں اور خانہ خدا کی زیارت سے قرب خداوندی حاصل کرتے ہیں۔تاریخی روایات کے مطابق خانہ کعبہ کی عمارت سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے تیار کی تھی،کیونکہ جب وہ زمین پر اترے تو انہوں نے اللہ تعالی سے پوچھا کہ کس طرف منہ کرکے تیری عبادت کروں؟؟اللہ تعالی نے حکم دیاکہ ایک کمرہ بنالیں اور ادھر منہ کر کے میری عبادت کریں۔طوفان نوح میں وہ کمرہ زمیں بوس ہوگیاجس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کمرے کی تعمیر نو کی۔فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وہ مقام دکھایا جو ٹیلے کی شکل اختیارکرچکاتھا،غالب گمان ہے کہ یہ وہی بنیادیں تھیں جنہیں حضرت آدم نے اپنے دست مبارک سے چناتھا۔حضرات ابراہیم اور اسمائیل علیہما السلام نے اس کمرہ کی تین دیواریں سیدھی رکھیں اور ایک دیوار گول بنائی جیسے ہمارے ہاں نماز کے لیے بنایا گیا تخت پوش ہوتاہے جس کا قبلے والا رخ گول اور تین رخ سیدھے ہوتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اس گھر کا حج کرنے والے پہلے انسان تھے جنہوں نے کائنات کی اس سنت کو زمین پر تازہ کیاکہ ہر چھوٹا جسم اپنے سے بڑے جسم کا طواف کرتاہے چنانچہ انسان اپنے رب کی کبرائی کو مانتے ہوئے اس کے گھر کا طواف کرتا ہے۔زمین سورج کے گرد طواف کرتی ہے اور چاند زمین کے گرد طواف کرتاہے اور یہ طواف گھڑی کی سوئیوں کے الٹے رخ ہوتاہے اسی طرح خانہ کعبہ کا طواف بھی گھڑی کی سوئیوں کے الٹے رخ ہی ہوتاہے۔اس طرح طواف کرنے والے کا دل جانب کعبہ رہتاہے۔خانہ کعبہ پر ایک خانہ بدوش قبیلے ”بنوجرہم“نے قبضہ کر لیااور زم زم فروخت کرنے لگے،آل اسمئیل نے اس پر غصہ کیااوروہ محسن انسانیتﷺ سے قبل کے قریبی دور میں ایک طویل جنگ کے بعد قریش نے خانہ کعبہ کی عمارت اورحرم شریف واگزارکرالیے اور اسکی تولیت وخدمت کو اپنے خاندانوں میں تقسیم کر لیا۔وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی بدعات اور شرکیہ رسوم اس عبادت حج میں دخیل ہو گئیں یہاں تک کہ خاتم الانبیاء ﷺکا زمانہ آن پہنچا۔خانہ کعبہ کاکمرہ انتہائی نشیب میں واقع تھااور دونوں طرف کی بلند و بالا چوٹیوں سے بارش کا پانی اس کی دیواروں کو زخمی کر دیتاتھا۔عمر مبارک جب پنتیس برس کی تھی تو قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیرجدیدکافیصلہ کیا،پرانی دیواریں ڈھادی گئیں اور بنیادوں سے پتھر بھی اٹھالیے گئے یہاں تک کہ پتھروں کی ایک ایسی تہہ آئی کہ جس پر کدال مارنے سے پورے مکہ میں زلزلہ آجاتا،انہیں پتھروں پر نئی دیواریں چنی گئیں ابھی تعمیرجاری تھی کہ سامان کم پڑ گیااور چوتھی گول دیوار بھی سیدھی کر دی گئی اور بقیہ حصہ ”حطیم“جو خانہ کعبہ کااندونی حصہ تھا اسے چندفٹ دیوار کے بعدکھلا چھوڑ دیاگیا۔محسن انسانیت ﷺ نے حج و عمرہ کی بدعات اور شرک و جہالت سے بھری رسومات کوختم کیااوور سنت ابراہیمی کے مطابق مناسک حج کی تاسیس نوکی۔بعثت کے بعد آپ ﷺ نے ایک ہی حج کیاجسے آخری حج کہتے ہیں،اب قیامت تک اسی طرح ہی حج کرنا درست رہے گااور اس میں کسی کی تبدیلی و ترمیم کی گنجائش نہیں ہو گی۔شریعت محمدی ﷺ نے حج وعمرہ کے لیے میقات کی حدود کا تعین کیا ہے۔ پس جو شخص بھی حج یا عمرہ کی نیت سے حرم جانا چاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ میقات کی حدود سے قبل ہی احرام باندھ لے۔احرام کے لباس میں میقات کی حدود میں داخل ہونے والے اللہ تعالی کے مہمان گردانے جاتے ہیں۔ پاکستان سے جاتے ہوئے یہ حدود سمندر کے اندر ہی شروع ہو جاتی ہیں چنانچہ جب حجاج کرام حج و عمرہ کے لیے بحری جہاز سے جایا کرتے تھے تو کم و بیش ایک ہفتہ کے اس بحری سفر میں جہاز کا کپتان بارہ گھنٹے قبل ہی اعلان کرنا شروع کر دیتاتھا کہ اتنے بجے ہم میقات کی حدود میں داخل ہو جائیں گے۔اب جبکہ ہوائی سفر کے ذریعے چند گھنٹوں میں منزل پرپہنچناآسان ہو گیاہے توراستے میں احرام باندھنابہت مشکل بلکہ اتنے زیادہ مسافروں کے لیے ہوائی جہازکے غسل خانوں میں احرام کے مرحلے سے گزرناناممکن سا ہوجاتاہے چنانچہ پاکستانی حجاج کرام احرام باندھ کرہوائی جہاز میں بیٹھتے ہیں جبکہ راستے میں کپتان اعلان ضرور کر دیتاہے کہ ہم میقات کی حدود میں داخل ہو رہے ہیں۔احرام باندھنے کے لیے پہلے غسل کیاجاتا ہے اسکے بعدمرد حضرات ایک ان سلی سفیدچادر نیچے اور ایک ان سلی سفید چادر اوپر لے لیتے ہیں جبکہ خواتین اپنے لباس کے اوپر ہی ایک سفید رومال سر پر اوڑھ لیتی ہیں،احرام کے لباس میں جوتی شامل نہیں ہے چنانچہ جوتی نہیں پہن سکتے یا کم از کم ایسی جوتی نہیں پہن سکتے جس میں پاؤں ڈھک جاتے ہوں تلووں کی حفاظت کے نقطہ نظر سے صرف ہوائی چپل پہننے کی اجازت ہے۔ اس طرح احرام بندھ جاتاہے اور شریعت کی اصطلاح میں کہاجاتا ہے اس فرد نے وقتی طور پر اپنے اوپر بہت سے جائز امور کو حرام کر لیاہے چنانچہ ان ممنوع امور میں سے کسی کا صدور ہو جائے تو حاجی کو جرمانے میں دم دینا پڑتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک قربانی کرنی پڑتی ہے،حج یا عمرہ کے بعد احرام اتار دینے سے یہ پابندیاں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔احرام باندھتے ہی زبان پر تلبیہ”لبیک اللھم لببک۔۔۔۔“ شروع کر دی جاتی ہے اور سارے سفر میں کثرت سے اسکا ذکر کیاجاتاہے،یہاں تک کہ خانہ کعبہ پر نظر پڑتے ہی تلبیہ کا ذکر بند کر دیاجاتاہے اور دعائیں مانگنا شروع کر دی جاتی ہیں۔حالت احرام میں جسم پر یا کپڑوں پر خوشبو لگانا،خوشبووالا صابن استعمال کرنا،زعفران کا استعمال اور تیزخوشبووالے کپڑے یا دوائیوں کااستعمال بھی منع ہے،شکار کرنا یا شکار میں مدد کرنا بھی ممنوع ہو جاتا ہے یہاں تک کی اپنے ہی جسم پر رینگنے والی جوئیں یا تنگ کرنے والے مکھی یا مچھروغیرہ کو مارنا بھی منع ہے،حالت احرام میں جنسی افعال اور جنسی گفتگو پر بھی سختی سے پابندی عائد کر گئی ہے اس کے علاوہ لڑائی جھگڑا اور نافرمانی کا کوئی بھی کام اس حالت میں سختی سے منع ہے۔احرام کی حالت میں منہ ڈھانپنایا سرڈھانپنا بھی منع ہے چنانچہ تیزدھوپ سے بچنے کے لیے چھتری تولی جا سکتی ہے لیکن سر کو ڈھانپنے کی اجازت نہیں ہے۔خواتین بھی اپنے چہرے کو نہیں ڈھانپ سکتیں تاہم بہت مجبوری کی حالت میں اسکی جزوی اجازت ہے۔احرام باندھاہواتوحدودحرم کے اندر کے درخت،پتے اور گھاس بھی توڑنے کی اجازت نہیں ہے نیزاپنے بال اور ناخن بھی نہیں کاٹ سکتے۔نقاب،دستانے اور جرابیں پہننے کی بھی اجازت نہیں اور احرام کی حالت میں اگر سو جائیں تو بھی چادر نہیں اوڑھ سکتے۔ان سب امور میں سے کچھ بھی ہو جائے تو جرمانے کے طور پر قربانی کرنی پڑتی ہے۔حالت احرام میں صابن سے غسل کیاجاسکتا ہے یاصرف سر بھی دھویاجاسکتاہے،تیل یا لوشن بھی استعمال کیاجاسکتاہے،خوشبو سونگھنے کی اجازت بھی ہے یعنی کوئی پھول یا کوئی اور خوشبودار چیز سونگھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔احرام باندھ کر انگوٹھی،عینک،گھڑی اور بیلٹ وغیرہ بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔احرام کی چادروں سے پسینہ یا لمبے سفر کے باعث بوآنے لگے تو اسکو تبدیل کر لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔سر اوربدن کھجایاجاسکتاہے اور اگر کوئی مچھر مکھی یاجوں تنگ کر رہی ہو تا انہیں پکڑ کر زمین پر ڈال دیاجائے۔احرام کی حالت میں دوائیاں کی استعمال کی جاسکتی ہیں اور آنکھوں اور کانوں میں دوائی ڈالی بھی جاسکتی ہے اورمرہم پٹی بھی کرانے میں کوئی حرج نہیں۔حالت احرام میں لڑنا اگرچہ منع ہے لیکن دوران تدریس بچوں کو سرزنش کے طور پر سزا دینے سے احرام میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔خواتین دواران احرام ہلکے پھلکے زیورات اور پھولدار کپڑے بھی پہن سکتی ہیں،خواتین کو بند جوتوں اور جرابوں کے پہننے کی بھی اجازت ہے اور احرام کا رومال دوران وضو سر مسح کے لیے کھول لیاجاتا ہے اور وضو کر کے پھر بطور احرام باندھ لیاجاتاہے۔عمرہ اور حج،ایسی عبادات ہیں جن کے مقامات مخصوص ہیں۔یہ عبادات صرف حرمین شریفین میں ہی اداکی جاسکتی ہیں۔عمرہ ساراسال جاری رہتاہے۔عمرہ کے لیے جانے والے حجاج کرام میقات کی حدود سے پہلے ہی احرام کی پابندیاں میں داخل ہوجاتے ہیں۔عمرہ کرنے لیے حرم مکہ میں داخل ہوکرحجراسودکو بوسہ دیتے ہیں جسے اصطلاح میں ”استلام“کہتے ہیں،اگربوسہ دیناممکن نہ ہوحجراسودکی طرف اشارہ کرکے اپنے ہاتھوں کو یاچھڑی سے اشارہ کرکے چھڑی کو بوسہ دیتے ہیں۔اس طرح طواف کاعمل شروع ہوجاتاہے۔ہر دفعہ جب حجراسودکے سامنے گزریں تو”استلام“کرتے ہیں۔اس طرح خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگانا ایک طواف کہلاتاہے جس کے دوران آٹھ دفعہ استلام کیاجاتاہے۔تکمیل طواف کے بعدپیٹ بھرکرآب زم زم پیاجاتاہے اور مقام ابراہیم پر دونوافل اداکیے جاتے ہیں۔مقام ابراہیم وہ پتھرہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ تعمیر کیاتھا۔یہ پتھرخانہ کعبہ کے بہت قریب دھراہے۔اگر وہاں طواف کرنے والوں کارش ہوتو جتنا پیچھے ممکن ہو وہیں دو نفل اداکرلینے چاہیں اور کسی کو تکلیف نہیں دینی چاہیے۔طواف کے بعد سعی بین الصفاوالمروہ کی جاتی ہے۔صفاکی پہاڑی سے یہ چلت شروع کی جاتی ہے اور مروہ پر ساتواں چکر ختم ہوجاتاہے۔اس طرح عمرہ تکمیل پزیر ہوچکا۔اس دوران اگروضوٹوٹ جائے تودوبارہ وضو کرکے مناسک کو وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے وضوٹوٹاتھا۔احرام کی پابندیوں سے آزاد ہونے سے قبل حلق یا قصرکرانا ضروری ہے۔خواتین اپنے سر کے بالوں کی دم ایک انگلی کے گرد لپیٹ کرجتنے بال کاٹ لیتی ہیں۔مرد حضرات اگر سارے سر کے بال اتروالیں تویہ حلق کہلاتاہے جس کے لیے آپ ﷺ نے دو دفعہ دعا فرمائی ہے اور اگر کوئی چاہے تو سر کے تھوڑے سے بال کاٹ لے تو یہ قصرکہلاتاہے جس کے لیے آپ ﷺ نے ایک بار دعا فرمائی ہے۔حلق یاقصرکے بعداحرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں جسے اصطلاح میں کہاجاتا ہے کہ حاجی اب ”حلال“ہو گیاہے۔ حج کے لیے 8ذوالحجہ کو تمام حجاج کرام حالت احرام میں منی میں پہنچ جاتے ہیں۔یہ خیموں کی بستی ہے۔رات یہاں گزارکر9ذوالحجہ کو زوال آفتاب سے قبل میدان عرفات میں پہنچناضروری ہے۔زوال آفتاب سے غروب آفتاب تک میدان عرفات میں قیام کرنا حج کا”رکن اکبر“ہے۔اس دوران جو بھی حج کی نیت سے گزربھی جائے اس کا جزوی حج ہوجاتاہے۔جولوگ بیمارپڑجاتے ہیں توسعودی حکومتی اہلکار انہیں مریض گاڑی میں ڈال کر زوال آفتاب سے غروب آفتاب کے دوران میدان عرفات سے گزاردیتے ہیں اورانہیں بیدارکرکے کہتے ہیں حج کی نیت کرلو،اس طرح ان بیمارلوگوں کا بھی حج اداہوجاتاہے۔حجاج کرام میدان عرفات میں ظہراورعصر کی سفری نمازایک ساتھ اداکرلیتے ہیں،کیونکہ آپﷺنے اسی طرح کیاتھا۔”وقوف عرفات“سے مراد عرفات کے میدان میں نمازوں کی ادائگی کے بعدقبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوجانااور دعائیں مانگناہے۔اس کے بعد غروب آفتاب کاانتظارکیاجاتاہے،لیکن مغرب کی نماز وہاں ادانہیں کی جاتی۔آپﷺ نے غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ کے میدان میں مغرب اورعشاء اکٹھی اداکی تھیں۔سب حجاج غروب آفتاب کے فوری بعد، پیدل یاسوار،مزدلفہ پہنچ کر دونوں قصرنمازیں اداکرتے ہیں۔ آپ ﷺ کایہ دن بہت مصروف گزراتھااوربے پناہ تھکاوٹ بھی ہوچکی تھی،چنانچہ مزدلفہ قیام کی ساری رات آپﷺ نے آرام کیااورتہجدکی نماز بھی نہیں پڑھی۔چنانچہ اللہ تعالی کو پسندہے کہ سب حاجی سوجائیں اور کوئی بھی نیم شب اٹھ کرتہجد بھی نہ پڑھے۔اسی میدان سے تمام حجاج کرام شیطانوں کے مارنے کے لیے کنکریاں بھی چنتے ہیں۔اگلے دن 10ذوالحجہ ہے اور ساری دنیامیں عید قربان منائی جاتی ہے۔حاجی بھی قربانی کرتے ہیں اور حلق کرواکے احرام کھول دیتے ہیں اور بڑے شیطان کو کنکربھی مارتے ہیں۔اس کے بعد طواف زیارت کے حرم مکہ جاتے ہیں اور واپس منی میں آجاتے ہیں۔اگلے دن تینوں شیطانوں کو کنکرمارتے ہیں اورعصرسے قبل منی سے روانہ ہوجاتے ہیں۔اس طرح شریعت کاحج مکمل ہوگیا لیکن عشق کا حج مکمل ہونے کے لیے مدینہ منورہ جاتے ہیں،گنبدخضراکادیدارکرتے ہیں،خدمت اقدس میں سلام عرض کرتے ہیں اورچالیس نمازیں بھی مسجد نبوی میں اداکرتے ہیں تاکہ روزمحشر شفاعت رسولﷺکے مستحق ہوسکیں۔حج کی تین اقسام ہیں۔حج افراد،حج قیران اور حج تمتع۔اگر عمرہ کیے بغیر براہ راست 8ذوالحجہ کو منی پہنچ کر مناسک حج اداکیے جائیں تویہ حج افرادکہلاتاہے۔اگرعمرہ کرنے کے بعد احرام نہ اتاراجائے اوراسی احرام میں حج بھی اداکرلیاجائے تو یہ حج قیران کہلاتاہے۔اوراگرعمرہ کرکے احرام کی پابندیوں سے آزادہوجائیں اور حج کے لیے الگ سے احرام باندھیں تویہ حج تمتع کہلاتاہے۔آپﷺ نے حج قیران کیاتھااورفرمایاتھا کہ اگراگلی دفعہ حج کیاتوحج تمتع کریں گے۔تینوں اقسام میں آسانی والا حج تمتع ہے۔اسی لیے حجاج خرام کی بہت بڑی اکثریت حج تمتع ہی کرتی ہے۔قرآن مجید نے حاجیوں کے لیے تقوی کوبہترین زاد راہ بتلایا ہے،احرام کے دوران اگر جملہ امور کی پابندی کر بھی لی لیکن تقوی اختیار نہ کیاتو حج و عمرہ کا صحیح فائدہ نہیں ہوا۔اتنالمباسفر اور بے پناہ اخراجات کے بعد زندگی میں کوئی واضع تبدیلی آنی چاہیے،رزق کے ذرائع اگر حلال نہیں تھے یا مشکوک تھے اب اس سفر سعادت کی برکت سے ان سے توبہ تائب ہو جانا چاہیے،حج یا عمرہ سے پہلے زبان پر مکمل کنٹرول نہیں تھا اور وقتا فوقتااول فول اور اخلاق بافتہ گفتگو زبان سے نکلتی رہتی تھی تو اب اس سے احترازکرنا چاہیے،حج و عمرہ کے سفرسے قبل اگر رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ ناچاکیاں چل رہی تھیں اور تعلقات میں وسیع خلیج اور شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں در آئی تھیں تو اس مقدس عبادت سے واپسی پر سب سے تعلقات میں واضع اور خوشگوار تبدیلی آ جانی چاہیے،اگر حج و عمرہ پر جانے سے پہلے جھوٹے مقدمات دائر کیے ہوئے تھے اور محض دوسروں کو پریشان کر نے کے لیے پرچہ بازی رچائی جایاکرتی تھی تو اب اتنے اچھے اچھے مقامات کی زیارت کر کے اس عمل بد کو ہمیشہ کے لیے خیرآباد کہہ دینا چاہے اورحج و عمرہ سے قبل فرائض کی ادائگی میں سستی رہ جاتی تھی،زکوۃ وعشرکی ادائگی میں دل تنگ ہواجاتاتھاتو اب اس کی پابندی میں وہم کی حد تک احتیاط کی جانی چاہیے۔المختصر یہ کہ جہاں اللہ تعالی کے ہاں حاجی کا حج لکھا جائے وہاں اس دنیاکے معاملات میں بھی اس حاجی کے عمل و کردار اور گفتگوسے پتہ چلے کہ اس حاجی کی زندگی میں ان مقدس مقامات کی زیارت اور اس سفر سعادت نے خوب خوب اپنی حسن رنگت گھول دی ہے اور یہ حاجی اب خالصتاََاللہ تعالی کے رنگ میں رنگا گیاہے اورآخری نبی ﷺکی سنتوں سے اسکی زندگی آراستہ و پیراستہ ہو چکی ہے۔ان تبدیلیوں کے ساتھ حج و عمرہ اپنی حقیقت میں بھی حج و عمرہ ہو ں گے اور اپنے اثرات کے اعتبار سے بھی حج و عمرہ ہوں گے۔اللہ تعالی حاجیوں کے حج و عمرہ کو قبول فرمائے اور انہیں اس عبادت کے عملی تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطافرمائے،آمین۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے