۔،۔مقبوضہ کشمیر میں نماز جمعہ کے بعد کشمیریوں کا کرفیو توڑ مظاہرہ۔،۔

شان پاکستان مقبوضہ کشمیر۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے بی۔بی۔سی۔BBCکے مطابق مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں نماز جمعہ کے بعد بھارتی فورسز اور آزادی پر مٹنے والوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں،بھارتی فورسز نے پیلٹ گنوں کا بے دریغ استعمال کیا جس کی وجہ سے بے شمار کشمیری زخمی ہوئے،پیلٹ گن سے جب ایک مسافر بس کو نشانہ بنایا گیا تو گن کے چھرے لگنے سے ڈرائیور بس پر قابو نہ رکھ سکا اور بس اُلٹ گئی۔ بھارتی فورسز اپنے اوسان کھوتی نظر آ رہی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں،خار دار تاریں بچھا کر گاڑیوں اور راہگیروں کی نقل و حرکت ناممکن بنا رکھی ہے۔ قابض انتظامیہ نے کارگل میںبھی دفعہ 144 نافذ کر دی، وہاں بھی ،مواصلات کے تمام ذرائع معطل ہیں جس کے باعث علاقے کابیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے جبکہ انٹرنیٹ کی بندش کے باعث اخبارات 4اگست سے اپ ڈیٹ نہیں ہو سکے۔یورپی پارلیمنٹ کے کئی ارکان نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کے نام خط میں یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے دیرینہ تنازع کے حل کیلیے خطے کے تمام ملکوں کے ساتھ روابط شروع کرے۔انھوں نے دفعہ 370کو منسوخی کرنے کے بھارتی غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام اورآزاد جموںوکشمیر میں شہری آبادی پر کلسٹر بموں کے استعمال کی شدید مذمت کی۔واضح رہے وادی میں کرفیو پانچویں روز میں داخل ہو گیا۔ 24حریت رہنماؤں کو سری نگرسے آگرہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو ان کے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے۔جگہ جگہ بھارتی فورسز نے چوکیاں بنا رکھی ہیں۔کشمیریوں کو مجبوری کے تحت آمد و رفت کے دوران بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں ، موبائل، لینڈ لائن، انٹرنیٹ اور مواصلات کے تمام ذرائع معطل ہیں۔تعلیمی ادارے ، دفاتر اور بازار بند ہیں اور سڑکوں پر ہُو کا عالم ہے۔دوسری جانب مقبوضہ وادی میں تعینات اضافی فوج کو گھر والوں سے رابطہ کرنے کے لیے 3سو موبائل فون مہیا کرنے کا اعلان کیا گیاہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے