۔،۔ اجتماعی نماز عید الاضحی زیر اہتمام منہاج انٹرنیشنل نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کی گئی۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ ہار ہائیم۔ادارہ منہاج انٹرنیشل فرینکفرٹ کے زیر اہتمام نہایت عقیدت و احترام سے اجتماعی نماز عید الاضحی ادا کی گئی،نماز ہارہائیم کے بُرگرہاوُسBurger House میں ادا کی گئی تھی۔بُرگر ہاوُس کے اونر حاجی عبد القدوس جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ممتاز کاروباری شخصیت عرصہ دراز سے بُرگرہاوُس ہارہائیم ان کی نگرانی میں ہے جو اس وقت شادی ہال کے طور پر جانا جاتا ہے نے ہمارے ساتھ پورا پورا تعاون کیا۔ جب محمد اقبال خان اور چوہدری اظہر فاروق میرے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اُن کے پوچھنے پر جب انہیں بتایا گیا کہ ایک شخص نے نارتھ ویسٹ سینٹرم والا ہال بُک کروایا ہوا ہے تو انہوں نے کہا کوئی مسئلہ نہیں یہ ہال آپ استعمال کر سکتے ہیں یہاں پڑی ہر چیز آپ استعمال کر سکتے ہیں اور ریفریشمنٹ بھی آپ کو میں دوں گا یہ ان کا بڑا پن تھا ادارہ منہاج انٹرنیشل فرینکفرٹ اور اُس کی انتظامیہ حاجی عبد القدوس کے مشکور و ممنون ہیں۔ادارہ منہاج واحد ادارہ ہے جو ہمیشہ سے مسجد سے باہر بڑے ہال میں اجتماعی نماز کا اہتمام کرتا ہے اس بار بھی باوجود مشکلات کے پاکستانی کمیونٹی نے بھرپور تعاون کیا ہال میں تقریباََ 700کے قریب مرد حضرات تھے اور تقریباََ 350کے قریب خواتین بھی تھیں جو اجتماعی عید ادا کرنے پہنچے تھے۔ ہال میں اور ہال کے باہر عید کا سا سماء تھا،بچے بچیاں ہال کے باہر تتلیوں کی طرح اُڑتے پھرتے نظر آ رہے تھے۔ بابر چشتی نے تلاوت قرآن پاک سنائی،ملک خضر حیات نے نعت رسولﷺ سنائی اور علامہ سید فرحت حسین شاہ نے قربانی پر مکمل خطاب فرمایا۔ان کا کہنا تھا قربانی کا تصور گذشتہ اُمتوں سے جاری ہے۔حضرت آدم ؑ کے بیٹے ہابیل اور قابیل جب باہم اختلاف کا شکار ہوئے تو انہیں حکم دیا گیا اپنی اپنی قربانی پیش کرو۔ہابیل بھیڑیں لے آیا،قابیل جو کاشتکاری کرتا تھا اپنے اُگائے ہوئے غلے میں سے ایک حصّہ لے آیا جب دونوں نے اپنی اپنی قربانی ایک میدان میں پیش کر دی۔گذشتہ امتوں میں قربانی کی قبولیت کا پتہ اس وقت چلتا تھا جب آسمان سے ایک آگ آ کر اس کو جلا دیتی تھی۔ہابیل کی قربانی کو آگ نے جلا دیا قابیل کی قربانی قبول نہیں ہوئے۔ گذشتہ امتوں سے بنی اسرائیل تک قربانی کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا۔محسن انسانیت ﷺ نے حضرت ابراہیم ؑ کے طریقہ کے مطابق قربانی کا طریقہ دوبارہ رائج کیا۔حضرت ابراہیمؑ نے خواب دیکھا اپنی پیاری چیز اللہ کے راستے میں قربان کریں،نبی کا خواب وحی ہوتا ہے جسے پورا کرنا نبی کے لئے ضروری ہوتا ہے چنانچہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنی پیاری چیز اپنا بیٹا اللہ تعالی کے راستے میں قربان کر نے کو تیار ہو گئے اپنی زوجہ حضرت حاجرہ سے فرمایا اپنے بیٹے کو تیار کر دیں کہیں جانا ہے،باپ بیٹا مکہ کی وادی سے نکلے اور منی کے میدان کی طرف چل دیئے۔راستے میں بیٹے اسمائیلؑ سے تذکرہ کیا کہ مجھے بیٹے کی قربانی کا حکم ہوا ہے،سعادت مند بیٹا قربان ہونے کے لئے تیار ہو گیا نبی کا بیٹا کہتا ہے بابا جان حکم پورا کر ڈالیئے۔آسمان نے جب دیکھا باپ نے اپنی اور اپنے بیٹے کی آنکھوں پر پٹی باندھی تا کہ حکم الہی کے پورا کرنے میں فرط محبت آڑے نہ آ جائے اور بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی اللہ تعالی نے اس قربانی کو٭ ذبح عظیم٭کہہ کر یاد کیا ہے۔ بیٹے کی جگہ جنت سے ایک مینڈھا لا کر رکھ دیا گیا جس کے ذبح کی یاد میں ہر سال قربانی کی جاتی ہے۔نماز و خطبہ کے بعد پورے عالم اسلام کے لئے دُعا فرمائی گئی فرط جذبات سے علامہ سید فرحت حسین شاہ کی آواز بھر آئی تھی۔ نماز عید کے بعد تمام خواتین و مرد حضرات کو ریفریشمنٹ پیش کی گئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے