۔،۔کشمیر پرحملہ۔اے آراشرف بیورو چیف جرمنی۔،۔


۔۔۔۔۔دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف،۔۔۔۔۔،اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی۔۔۔۔
بھارتی افواج کے کشمیرمیں مظالم،سفاکی اور بربریت کی ایسی ایسی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جہنیں بڑے مضبوط دل و گردے کے حامل افراد ہی دیکھنے کی ہمت کر سکتے ہیں اگر کمزور دل کے افراد اُنہیں دیکھیں تو اُنکا زندہ رہنا معجزے سے کم نہ ہوگاویسے تو میں کمزور دل کا انسان ہوں مگر عید کے روز ایک ایسی ویڈیو دیکھنے کی جسارت کر بیٹھا جس میں ایک نوجوان کی پہلے زبان کو کاٹا گیا پھر جسم کے دوسرے حئصوں کو اسطرح کاٹا جا رہا تھا جسطرح قصائی گوشت کے ٹکرے کرتے ہیں اس حماقت کی سزا میں سارا دن بے چینی اور آنسو بہانے میں گذرا۔ میرے کانوں میں اس وقت مرحوم آیت اللہ روح اللہ حمینیؒ کے وہ تاریخی الفاظ گونج رہے ہیں جو اُنہوں نے اسرائیل کے فلسطینوں پر ظُلم و ستم اور سفاکی دیکھ کر مسلم اُمہ سے مخاطب ہو کر کہے تھے کہ۔اگر مسلم اُمہ متحد ہو کر ایک ایک لوٹا پانی کابھی پھنکے تو اسرائیل پانی میں بہہ جائے گا اور فلسطین آزاد ہو جائے۔کتنے افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ۔۔کشمیر جل رہا ہے۔۔اور بھارت نے کشمیر کی حصوصی حیثیت ختم کرکے بھارت کا حئصہ قرار دے دیا ہے اور بھارتی افواج کشمیریوں پر ظُلم و ستم اوردرندگی کی تمام حدیں عبور کر چکی ہیں مگرہمارے مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم۔او۔آئی۔سی۔سمیت عرب امارات اور سعودی عرب کا اس موقع پربے حس اورخاموش تماشائی بنے رہنا شرمناک ہی نہیں قابل مذمت بھی ہے۔اس دکھ کی گھڑی میں باوجود بھارت سے اچھے تعلقات کہ۔ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنائی کا کشمیر کے بارے میں بیان قابل صد تحسین ہے۔وہ تاریخ اسلام کا انتہائی مَنحُوس اورسیاہ دن تھاجب عرب و عجم اورفقہی و مسلکی اختلافات کو ہوا دیکر دشمنان اسلام اپنی سازشوں اور بہترین حکمت عملی کی بدولت مرکزِاسلام یعنی خلافتِ عثمانیہ کو ختم کر کے اُسے چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے میں کامیاب ہو گئے یعنی بقول شاعر۔۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔۔اتنی بڑی چوٹ کھانے کے بعد بھی ہم اتحاد بین المسلمیں قائم کرنے میں ناکام ہی رہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ ہم انتشار کا شکار ہو گئے اوراپنی آنکھوں کے سامنے لیبیا، مصر، شام،افغانستان،عراق اور یمن کو برباد ہوتا دیکھتے رہے بلکہ کچھ ہمارے ہی میرجعفر اور میرصادق دشمنان اسلام کی سازشوں کے سہولت کا ر بنے رہے اب اُنکی نظریں پاکستان اور ایران پر جمی ہوئی ہیں ایران کو تو۔ناگ دیوتا۔مسلسل جنگ کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے مگر اصل اُسکا ہدف پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو نقصان پہنچانا ہے مگر پاکستان کی بہادر افواج اُسے اُسکے مقصد میں کبھی کامیاب نہ ہونے دینگی۔ اب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی حصوصی حیثیت کو ختم کر کے اُسے بھارت کا حئصہ قرار دیکر کشمیریوں پر ظُلم و ستم کی انتہا کر دی ہے میں سوچتا ہوں کہ۔ کیااب مسلم اُمہ کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں،کیا جذبہ ایمانی اور شوق شہادت اب صرف کتابوں تک ہی محدود رہ گیاہے یا پھر دولت اور اقتدار کی ہوس نے۔غیرت۔کو بھی قبروں میں دفن کر دیا ہے،کیا مسلمان علامہ اقبال کے اس پیغام کو بھول گئے جس میں اُنہوں مسلم اُمہ کو وحدت کا درس دیتے ہوئے کہا تھا۔۔ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے،۔۔۔۔۔نیل کے ساحل سے لیکرتابخاک کاشغر،۔۔ یوں تو جہاں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں اُنہیں اپنی مذہبی عقائد کی ادائیگی میں حاصی مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے مگر بھارت نے کشمیر میں اوراسرائیل نے فلسطین میں نسل کشی اور ظُلم و ستم کی ایسی ایسی داستانیں رقم کی ہیں جہنیں دیکھ کر تو ہلاکو، چنگیزخاں اور ہٹلڑ جیسے جابراورسفاک حکمرانوں کی روحیں بھی قبروں میں کانپ رہی ہونگی اور یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ اسلام کے مرکز سعودی عرب اور عرب امارات کے حکمرانوں نے۔ناگ دیوتا امریکہ۔کی بیعت کر رکھی ہے اور اُسکی مرضی کے بناوہ سانس لینے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔ کتنے دکھ اورافسوس کی بات ہے کہ دنیا۔۔ بھر میں ڈیرھ ارب کے قریب مسلمان آباد ہیں اور پچپن کے قریب مسلمان ممالک ہیں اتنی بڑی قوت ہونے کے باوجود ہمیں۔مقبوضہ کشمیراورفلسطین۔جیسے سُلگتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے بھی اغیار کی مدد درکار ہوتی ہے جبکہ کتاب خدا چیخ چیخ کر مسلم اُمہ کو تنبیہ کر رہی ہے کہ یہ کفار اور مُشرکین تمارے کبھی دوست نہیں ہو سکتے مگر اللہ تعالیٰ کی واضیح تنبیہ کے باوجود ہمارے حکمرانوں نے اُنسے وفا کی اُمیدباندھ رکھی ہے جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہتے ہیں یعنی وہ منافقت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے دوسری جانب مسلم اُمہ میں بھی میر جعفروں اور میرصادقوں کی کمی نہیں اب بات سمجھ میں آرہی ہے کہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کوامریکہ کہ دورہ کے موقع پرامریکی صدر جناب دونلڈ ٹرمپ نے خود ہی کشمیر کے سنجیدہ مسئلے کے حل کیلئے ثالثی کی پیش کش کیوں کی تھی اور وزیراعظم پاکستان کو اس بار غیر معمولی پروٹوکول دینا بھی بھارتی ڈرامے کا ہی حصہ تھا لگتا یوں ہے کہ بھارتی وزیراعظم جناب نریندر مودی اورصدر ٹرمپ کے مابین پہلے ہی سے کشمیر کی حصوصی حیثیت کے خاتمے کا معاملہ طے پاچکا تھا اور ہمارے وزیراعظم کو ثالثی کا صرف لولی پوپ دیا گیا تھا تاکہ پاکستان خلوص نیت سے افغانستان سے امریکی افواج کی پُر امن واپسی کی راہ ہموار کرنے میں معاونت کرے جسے ہمارے وزیراعظم اپنی سادگی کی بنا پر بہت بڑی کامیابی تصور کر رہے تھے اور تحریک انصاف والے امریکی لولی پوپ کی خوشی میں میٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے جیسے اُنہوں نے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو یوں تو بھارت بہتتر سالوں سے نہ ہتھے اور مظلوم کشمیریوں پر اپنی سفاکی اور بربریت کے ذریعے کشمیریوں کو زیر کرنے کا ہر ہربہ استعمال کر چکا ہے مگر ناکام رہا اب اُسنے اپنی کمان کا آخری تیر آرٹیکل ۰۷۳ کشمیر کی حصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت سمجھتا ہے کہ وہ اسطرح کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبا لے گا یہ حسرت بھارت کی کبھی پوری نہ ہوگی اور جن میر جعفروں اورمیر صادقوں کو ساتھ ملا کر کشمیر کو ہڑپنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے وہ بھی تحریک آزادی کی سونامی میں عبرتناک موت کا نوالہ بنیں گے اور کشمیر پاکستان کا حئصہ بن کے رہے گا انشااللہ۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے