۔،۔ خدا کی نصرت ۔طا رق حسین بٹ شانؔ۔،۔

کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جو پچھلی سات دہائیوں سے متنا زعہ بنا ہوا ہے لہذا کشمیر پر کسی بھی ملک کا حق ِ حکومت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔اکتوبر ۷۴۹۱؁ میں بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل ہوئیں تو قائدِ اعظم نے جنرل گریسی کو کشمیر میں فوجیں بھیجنے کے احکامات جاری کر دئے لیکن جنرل گریسی نے قائدِ اعظم کے حکم نامے پر عمل پیرا ہونے سے انکار کر دیا۔اس وقت پاکستان کی فوجی اور مالی حالت انتہائی کمزور تھی اور اس کے پاس اسلحہ کے ذرائع بالکل ناپید تھے لیکن اس کے باوجود بھی قائدِ اعظم بھارت کے فوجی اقدامات کو فوجی طاقت سے ہی شکست دینا چاہتے تھے کیونکہ انہیں اس بات کا علم تھا کہ لوہے کو لوہا کاٹتا ہے۔بڑے قائد کا کمال یہی ہوتا ہے کہ وہ خوف کے تخت نہیں بلکہ زمینی حقائق کے مطابق فیصلے صا در کرتا ہے۔اکتوبر ۷۴۹۱؁ میں ہندوستانی افواج کی دخل اند ازی اور عوامی ردِ عمل سے کشمیر میں جو ابتری در آئی اس سے جان چھڑانے کیلئے بھارت نے سیکورٹی کونسل سے رجوع کیا جس کے نتیجہ میں سیکورٹی کونسل نے کشمیر میں استصوابِ رائے کی قرار داد منظورکی۔اب یہی قرار داد پاکستانی سیاست کی محور بنی ہوئی ہے۔کوئی مسئلہ در پیش ہو ہم اسی قرار داد کی اوڑہ میں پناہ لیکر خود کو طفل تسلیاں دے لیتے ہیں۔ جب تک دشمن کے آہنی پنجے کو آہنی پنجے سے نہیں روکا جائے کا کشمیر کا مسئلہ لا ینخل ہی رہیکا۔کیا یہ ممکن ہے کہ بھارت کھلے عام کشمیریوں کا قتلِ عام کرتا رہے لیکن ہم استصوابِ رائے کی راگنی الاپتے رہیں۔ سیکورٹی کونسل کی قرار دادوں کا حوا لہ مستخسن ہی سہی لیکن کیا اس سے مسئلہ کا حل نکل آیا ہے۔ہم پچھلے ستر سالوں سے یہی نسخہ آزما رہے ہیں لیکن اس سے آفاقہ نہیں ہو رہا لہذا ہمیں اپنی حکمتِ عملی پر از سرِ غور کرنا ہو گا تا کہ ہم کسی ایسی راہ کی جانب پیشقدمی کر سکیں جس سے کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کی امید پیدا ہو سکے۔پاکستان ایٹمی قوت ہے اور اس کی افواج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔دنیاپاک فوج کی مہارت، چابکدستی، بہادری، دلیری،شجاعت، جرات اور قربانیوں کی معترف ہے۔ جس فوج کا ہدف شہادت قرار پائے اسے شکست دینا ممکن نہیں ہوتا۔ انسانیت کے لئے خدا کا حسین ترین تخفہ اعلانِ شہادت ہے۔شہادت سچائی کی خاطر،حق کی خاطر،انسانی عظمت کی خاطر،مظلوموں کی داد رسی کی خاطر، کمزوروں کی ڈارس کی خاطر،محکو موں کی آزادی کی خاطر،اور جبر یت کے شکارکچلے ہوئے عوام کی خاطر۔ہمارے سامنے بھارت نے کونسا ظلم ہے جو کشمیریوں کے خلاف نہیں روا نہیں رکھا؟ لیکن ہم اس کے باوجود خاموش ی کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔ہم سب کچھ کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود بھارت کا سامنا کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہیں۔بھارت اپنی فوجی برتری کے زعم میں کسی کو در خورِ اعتنا نہیں سمجھ نہیں رہا۔ ہم اپنی کمزور مالی، معاشی، تجارتی اور سفارتی پوزیشن کی وجہ سے ہندوستان کو کرارہ جواب دینے سے عاری ہیں۔بہت سی مجبوریاں ہمارے پاؤں کی زنجیر بنی ہوئی ہیں۔ہم نے اپنے چاروں طرف ایسا ہا لہ تعمیر کررکھا ہے جس سے ہم باہر نکلنا نہیں چاہتے۔حکمران کسی انجانے خوف کا شکار ہیں لہذا بر وقت اقدام کرنے سے قاصر ہیں۔بھارت کشمیر کے متنازعہ علاقے میں فوجیں اتار رہا ہے،اس کی خصوصی حیثیت ختم کر رہا ہے لیکن ہم بیانات کا سہارا لے کر خود کوطفل تسلیاں دے رہے ہیں۔سیکورٹی کونسل کے اجلاس سے حکومت نے سر پر آسمان اٹھایا ہوا ہے۔وہ اپنی جیت کا علان کر رہی ہے حالانکہ اس اجلاس سے کوئی نتیجہ ہی بر آمد نہیں ہوا۔ بھارت ہمیں للکار رہا ہے لیکن ہم خوابوں کے اسیربنے ہوئے ہیں۔ہم عالمی حمائت سے مسئلہ کا حل چاہتے ہیں لیکن وہ عالمی حمائت ہے کہاں پر جس کا ہم دنڈورا پیٹ ر ہے ہیں؟دنیا کی کسی سپر پاور نے ہندوستان کی مذمت نہیں کی اور،اس پر آرٹیکل ۰۷۳ کو واپس لینے کا دباؤ نہیں ڈالا۔کسی نے اسے اس کے حالیہ جارحانہ اقدام پر نتائج کی دھمکی نہیں دی،اسے عواقب سے خوف زدہ نہیں کیا اور نہ ہی اسے عالمی پابندیوں کا ڈرھاوا دیا ہے۔سب اسے ہندوستان کا داخلی معاملہ قرار دے کر گلو خلاصی کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم عالمی حمائت کا دعوی کر نے سے باز نہیں آ رہے۔ ہم ایک ایسی راہ پر نکل چکے ہیں جس کا کوئی منطقی نتیجہ بر آمد نہیں ہو نے والا۔جو کل ہوتا تھا وہی آج ہو رہا ہے اور ایسا کل بھی ہو گا۔عالمی حمائت کے چلمن میں پناہ لینے سے کشمیر کا مسئلہ خل نہیں ہو سکتا۔یہ قوتِ بازو سے ہی حل ہو گا۔یاد رکھو (ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات)قومیں ہمیشہ سچائی پر ڈٹ جانے سے عظیم بنتی ہیں۔جب یہی سچ ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے تو پھر وہاں بھارت اپنی فوجیں کیسے اتار سکتا ہے؟کیا ہم اتنے کمزور ہیں کہ ہم ہندوستان کا سامنا نہیں کرسکتے؟کیا ہم اتنے بے حس ہیں کہ بھارت کو قتلِ عاااام کی کھلی چھٹی دے رہے ہیں؟بھارتی فوجیں ہماری ماؤں بہنوں کی آبروریزی کررہی ہیں،ان پر کلسٹر بموں کا استعمال کررہی ہیں، ان کا اغوا اور قتلِ عام کر رہی ہیں اور ہم سفید رومال ہلانے پر اکتفا کر رہے ہیں۔کیا حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اس نے بھارتی جارحیت پر خاموش رہنا ہے۔اسلام کاپیغام بڑا واضح ہے کہ جہاں کہیں ظلم کو جاری و ساری دیکھو اس کا پنجہ مروڑ دو۔اسلامی تعلیمات کا نقطہ ماسکہ انسانیت کو آزادی کی نعمت سے سرفراز کرنا ہے لیکن کشمیر میں نہتے مسلمان ظلم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور حکومت امن کی دہائی دے رہی ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے (کہ کیا تمہیں مظلومین کی صدائین سنائی نہیں دے رہیں جو تمیں مدد کے لئے پکار رہے ہیں۔)ریاستِ مدینہ کے دعویدار اتنی معمولی سی بات نہیں سمجھ پا رہے کہ حق و باطل کا فیصلہ مذاکرات کی میز پر نہیں بلکہ میدانِ کارزار میں ہوا کرتا ہے۔ایک ہزار انسانوں پر بھاری مرہب سے مقابلہ کیلئے جب شیرِ خدا نے اپنی شمشیر ہوا میں بلند کی تو اس نے نخوت و تکبیر سے منہ پھیر لیا۔وہ کسی نامور سردار سے مقابلہ کرنے کا متمنی تھا لیکن اس کا آخری فیصلہ ابو تراب کی شمشیر نے ہی کیا اور یوں حق و صداقت کوشیرِ خدا کی ضرب نے ضرب المثل بنادیا۔ضربِ حید ری اب جرات و بہادری کا استعارہ ہے جس سے ہر مسلمان خود میں حرا رتِ ایمانی محسوس کرتا ہے۔میدانِ کارزار میں کون نامورہے، کون بہادر ہے،ِ کون بڑاہے،کون قوی ہے، کون جی دار ہے، کون بے خوف ہے، کون نڈر ہے، کون بزدل ہے، کون ڈرپوک ہے، کون قائر ہے اور کون جانباز ہے اس کا فیصلہ بڑے بڑے ناموں سے نہیں بلکہ انسانی اوصاف،سچائی اور نظریہ کی صداقت سے ہوتا ہے۔مروجہ معنوں میں ایک عام مسلمان کی ضرب تب ضربِ حیدری بنتی ہے جب اس کے وار سے باطل کا ہر بت مرہب کی طرح دو ٹکرے ہو جاتا ہے۔بادی النظر میں یہ انہونی سی بات لگتی ہے لیکن سچ یہی ہے کہ اسدا للہ کی ایک ہی ضرب نے مرہب کو جہنم واصل کر دیا تھا۔یہی ہے وہ جذبہ جو اسلام کے شیدائیوں کا اثاثہ ہے جس سے وہ دشمن کا نام و نشان مٹاتے اور اسے خاک چاٹنے پر مجمور کردیتے ہیں۔اسلام کا علم ایسے ہی تو سربلند نہیں ہوگا۔اے ارضِ خدا داد کے پاسبانو اپنی کمانوں میں تیر سجا لو،اپنی توپوں کو آتشیں اسلحہ سے لیس کر لو،اپنے جہازوں کو فضاؤں سے آشنا کر لو،اپنی شمشیروں کو میانوں سے باہر نکال لو،اپنے میزائلوں کا ہدف مقرر کر لو، اپنی تلواروں کو چمکدار بنا لو،اپنے جوتوں کے تسمے کس لو اور اپنے یونیفارم میں سرخی کی امید زندہ کر لو کہ ظلم کو مٹانے کا یہی آخری طریق ہے۔یقین کرو تمہارے فیصلہ سے دشمن کا دل کانپ جائیگا،اس کا ٹانگیں اس کا ساتھ نہیں دیں گی،اس کی سانسیں اکھڑ جائیں گی،اس کے اوسان خطا ہوجائیں گے کیونکہ جب شیر میدان میں اترتے ہیں تو ایسے ہی ہوا کرتا ہے۔ شیروں کی للکار سے بڑے بڑے سورماؤں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے۔ بتوں کے پجاری تو حید پرست قوم کا مقابلہ نہیں کر سکتے لہذا تم لا الہ اللہ کا ورد کرتے ہوئے ظلم و جبر کے خاتمہ کی خاطر کشمیر میں اپنی افواج اتار دو۔ خدا کی نصرت خودبخود تمہارے دامن کو روشن کر دے گی اوریہی روشنی کشمیر کی آزادی کا اعلان ہو گی۔،۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے