۔،۔ فرینکفرٹ میں سکھ،پاکستانی،کشمیری کمیونٹی اور پاکستاان جرمنی پریس کلب نے کامیاب ریلی کا اہتمام کیا۔نذر حسین۔،۔

نذر حسین شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ نہ صرف جرمنی بلکہ پوری دنیا میں بسنے والی سکھ کمیونٹی ہمیشہ بھارت کی آزادی کے دن یوم سیاہ مناتی چلی آئی ہے،امسال بھی گور چرن سنگھ گورایا نے بھارتی قونصل خانہ کے سامنے احتجاج اور یوم سیاہ منانے کے لئے اجازت نامہ حاصل کر لیا تھا،انہی دنوں بھارت نے کشمیریوں پر اپنا ظلم و ستم اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے٭ آرٹیکل 370اور35A٭کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ کشمیری رہنماء علی اکرم نے پاکستان جرمن پریس کلب کے سینیئر نائب صدر نذر حسین سے باہمی مشورہ کیا۔جس پر پاکستان جرمن پریس کے تعاون سے ہمیں ریلی کی اجازت مل گئی۔ پاکستان جرمن پریس کلب نے تمام سیاسی،مذہبی،سماجی اور کاروباری حضرات سے ریلی میں شرکت کی اپیل کی، سکھ کمیونٹی کے افراد نے بھر پور شرکت کر کے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کی مثال قائم کر دی۔پاکستانی کمیونٹی کے مذہبی،سیاسی،سماجی اور کاروباری حضرات نے بھی اپنے قیمتی وقت کے باوجود ریلی میں حصّہ لے کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ریلی فرینکفرٹ کے مرکزی ریلوے سٹیشن سے شروع ہوئی جس میں سیکڑوں افراد نے حصّہ لیا۔ریلی میں خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی ان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ جب کشمیری بچے بولنا سیکھتے ہیں تو لفظ ماں کی جگہ پہلے آزادی بولتے ہیں مودی حکومت کی حالیہ صدارتی غنڈہ گردی نے فرزندان اسلام کے سینوں میں چھپی چنگاری کو ہوا دے کر بھڑکا دیا ہے جو آزادی تک بجھنے نہیں دی جائے گی۔ریلی کا بچہ بچہ آزادی کے نعرے لگا رہا تھا عورتوں کی زبان پز بھی صرف ایک ہی نعرہ تھا ہم کیا چاہتے ہیں آزادی۔ مردوں اور نوجوانوں نے سر پر کالی پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔50پولیس اہلکار ریلی کی حفاظت کے لئے آگے۔پیچھے۔ دائیں اور بائیں موجود تھے پولیس کی 15گاڑیاں بھارتی قونصل خانہ کی حفاظت کے لئے مامور تھیں ریلی کے نعروں کی گونج بینکوں کی بلند بالا عمارتوں سے ٹکراتی گونج رہی تھی۔ہم کیا چاہتے ہیں آزادی۔ بھارت سے لیں گیں۔ آزادی۔ کفن پہ لکھا آزادی، جب دفن کرو گے آزادی، ہے حق ہمارا آزادی۔ سکھوں کا بھی یہی نعرہ تھا کے ہم لے کے رہیں گے آزادی۔ کشمیر بنے گا پاکستان۔ پنجاب بنے گا خالستان مرکزی ریلوے سٹیشن اور قونصل خانہ کے سامنے مقررین نے پر جوش خطاب کئے۔ جن میں خصوصی خطاب گورچرن سنگھ اور کشمیری کمیونٹی کے اکرم علی سار بروکن سے محمد زاہد۔ یوسف بٹ۔ بشیر احمد نے کیا۔ پاکستان جرمن پریس کلب، سکھ کمیونٹی اور کشمیری کمیونٹی ریلی میں تشریف لانے والے تمام حضرات کا ایک بار شکریہ ادا کرتے ہیں اور میں اپنی طرف سے خصوصی طور پر توقیر بُٹر کا شکریہ ادا کرتا ہوں کے ان کی محنت اور لگن۔پی۔ٹی۔آئی۔ کے کارکنوں کی شمولیت سے یہ ریلی کامیاب ہوئی۔بھارت کی حالیہ صدارتی غنڈہ گردی بھارت کی بربادی کا پہلا قدم ہے اب کشمیر اور کشمیریوں،خاستان اور سکھوں ککی آزادی تک بھارت بند گلی سے باہر نہیں نکل سکتا پوری دنیا بھارتی غنڈہ گردی کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے