۔،۔ ہم لے کے رہیں گے آزادی،ہے حق ہمارا آزادی۔ چوہدری اعجاز۔۔نذر حسین۔،۔
۔،۔ کمزور قومیں اپنا حق نہیں لے سکتیں۔سید انور حسین شاہ۔،۔
۔،۔خون کے بہا کے دریا ہم آزادی لینے آئے ہیں۔سید وجیع الحسن جعفری۔،۔
۔،۔ ہمیں اپنی معیشت کو مضبوط کرنا ہو گا۔ وقار عارف۔،۔
۔،۔ شہیدوں کے خون کی تابانی اِک روز اُفق پر چمکے گی۔شعیب منصور۔،۔

نذر حسین شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ ہار ہائیم۔،۔ پاکستان ایسوسی ایشن جرمنی فرینکفرٹ کے زیر اہتمام عید ملن،یوم آزادی اور یکجہتی کشمیر فرینکفرٹ ہارہائیمHarheim Burgerhaus میں بڑی سادگی سے منائی گئی،چوہدری محمد صادق پاکستان ایسوسی ایشن کے روح رواں۔وقار عارف منیجر نیشل بینک آف پاکستان،شعیب منصور قائم مقام قونصل جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ، سید وجیع الحسن جعفری صدر پاکستان ایسوسی ایشن، سید انور حسین شاہ نے سٹیج کو رونق بخشی۔ ہال میں پاکستانی جھنڈوں کے ساتھ ساتھ کشمیر کے جھنڈے اور بینر بھی لگائے گئے تھے جس سے اندازہ ہو چکا تھا کہ پاکستانی کمیونٹی عید ملن،جشن آزادی پاکستان اور یکجہتی کشمیر کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ پروگرام کی نقابت چوہدری اعجاز نے بڑے احسن طریقہ سے ادا کی تلاوت قرآن پاک کے بعد بچوں،بڑوں مرد وخواتین نے مل کر قومی ترانہ پڑھا اور ہال پاکستان زندہ باد اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونج اُٹھا، ہمیشہ کی طرح بچوں نے تلاوت اور ملی نغمے پیش کئے اس موقع پر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکٹری نے مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کشمیر پاکستان کا حصّہ تھا۔ ہے اور رہے گا انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو اپنے پیغام میں کہا کہ خان صاحب وقت ہے فیصلہ کریں اس سے پہلے کے دیر ہو جائے، اگر وقت پر فیصلہ نہ کیا گیا تو تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ڈاکٹر صباحت خان نے مسئلہ کشمیر پر بہت تفصیلی خطاب فرمایا ان کے خطاب کے درمیان اجانک خاموشی چھا گئی ان کا ایک ایک لفظ سننے کے قابل تھا ان کا کہنا تھا کہ ہم کشمیری بھائیوں کے لئے آوازبلند کرتے رہے ہیں اور آوازبلند کریں گے۔ ابراہیم ظفر۔اُس نے للکار للکار کر بتایا کہ مسئلہ کشمیر کب اور کیسے شروع ہوا اور حالات کا دھارا کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا لیکن مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نہیں نکلا اس کا بھی کہنا تھا کہ جلد سے جلد ٹھوس قدم اُٹھائے جائیں، سید انور حسین شاہ کا کہنا تھا کہ کمزور قومیں اپنا حق نہیں لے سکتیں اپنے اندر قوت اور تشخص بیدار کریں۔ عارف وقار کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان سفارتی۔معاشی استحکام اور معاشی طور پر مضبوط ہو گا تو ہم مدد کر سکتے ہیں۔ فوج نہیں۔ تعلیم اور ملک کی معاشی صورت حال کی دنیا قدر کرتی ہے ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جبکہ وہ قانونی طریقہ سے رقم پاکستان بجھوائیں۔ حافظ عبد الرحمن کا کہنا تھا کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن میں نظم و ضبط ہوا کرتا ہے۔ انڈیا جو چاہے کر لے وہ کشمیر پر قبضہ نہیں کر سکتا جس قوم کا بچہ بچہ،ہر نوجوان اور عورتیں زندہ ہیں اس وقت تک کشمیر کو بھارت نہیں چھین سکتا۔قائم مقام قونصل جنرل شعیب منصور نے اپنے خطاب میں کہا مقبوضہ جموں و کشمیر کے معصوم اور نہتے عوام پر بھارت کے سنگین مظالم نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیر دی ہیں انسانیت کی تذلیل کی تمام حدوں کو پار کر لیا ہے کشمیری بھائیوں کی حالت زار پر افسردہ ہیں اس کے باوجود پاکستان پر امن حل چاہتا ہے،مقبوضہ کشمیر کے بہادر اور غیور عوام کی حق خود ارادیت کے حصول کی منصفانہ جدوجہد کی سیاسی،اخلاقی اورسفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔پروگرام کے اختتام پر کمیونٹی کی پاکستانی کھانوں سے تواضع کی گئی۔
٭سید وجیع الحسن نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور خصوصی طور پرپاکستان جرمنی پریس اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا٭

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے