۔،۔مدینے کا بابا (پارٹ 02)۔:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔


میری دعاؤ ں کا ثمر تھا۔ میری راتوں کے نوافل میں کو ئی سعد گھڑی قبولیت کی ایسی آئی تھی جو بارگاہ الٰہی میں قبولیت کے چبوترے پر فائز ہو ئی اور میری نو کری سعودی عرب میں لگ گئی‘میں خوشی سے نڈھال ہو کر سعودی عرب آگئی تھی میری نوکری مدینہ شریف سے کچھ دور ہسپتال میں لگی تھی ہسپتال میں ایک پاکستانی میاں بیوی ڈاکٹر بھی تھے جو عشق ِ رسول ﷺ اور عشق ِ مدینہ کی وجہ سے وہاں نو کری کر رہے تھے میری جلد ہی اُن سے دوستی ہو گئی جو ہر چھٹی پر مدینہ شریف جاتے جہاں پر وہ برسوں سے مقیم بابا رحیم سے ملتے‘ بابا جی کا اصل نام تو کچھ اور تھا لیکن اپنے حلقے میں بابا رحیم کے نام سے مشہور تھے‘ بابا جی مزدوری کر نے مدینہ شریف آئے تھے ایک بار گنبد خضرا کو پینٹ کر نے کا موقع کیا ملا کہ دل کی دنیا ہی بد ل گئی اشکوں سے دھو دھو کر گنبد خضرا کو پینٹ کیا چوم چوم کر باوضو رنگ کیا لیکن دل کی دنیا میں ایمانی رنگوں کے فوارے پھوٹتے چلے گئے‘ دل کی دنیا کیا بدلی کہ دنیا کی ساری سرگرمیاں تر ک کر دیں‘ آپ کاکام صرف عبادت نوافل اور مسجد نبوی ﷺ کی صفائی تھی سعودی کفیل بھی خدا ترس تھا اُس نے بابا جی کی یہ تبدیلی دیکھی تو کہا آج سے تم عبادت کرو اور میرے خاندان کے لیے دعائیں کرو‘ اب بابا جی کاکام شب و روز صرف اور صرف عبادت اور گنبد خضرا کو لگاتار تکنا تھا دن رات کی عبادت اور گنبد خضرا کا مراقبہ ایسا کیا کہ ظاہر و باطن کے تمام تضاد ختم ہو تے چلے گئے کثافتیں دھل کر لطافتوں میں بدلتی چلی گئیں بابا جی کا جب دل کر تا مکہ شریف جا کر عمرے کی سعادت کر آتے باطن میں نور الٰہی ٹھاٹھیں مارنے لگا تو حالت کن فیکون کا مقام ملتا چلا گیا جو دعا منہ سے نکلتی قبول ہو جاتی اِسطرح حلقہ احباب بھی بنتا چلا گیا اب بابا جی کے چند جانثار چاہنے والے بھی پیدا ہو گئے تھے‘ میرے ہسپتال میں کام کر نے والے یہ دونوں میاں بیوی بھی اُن چاہنے والوں میں سے ہی تھے بابا جی کے بارے میں یہ ساری باتیں ان دونوں میاں بیوی نے مجھے بتائیں تو بابا جی سے ملنے کا اشتیاق میرے اندر ٹھاٹھیں مارنے لگاکہ کب جاکر بابا جی کے قدموں کو چھونے کی سعادت حاصل کروں گی آخر کار جمعہ کے دن میں اُن میاں بیوی کے ساتھ مسجد نبوی سبز گنبد کے نیچے بابا رحیم کے سامنے دامن مراد پھیلائے بیٹھی تھی بابا جی کی عمر ستر سال سے زائد تھی‘ بڑھاپے کثرت عبادت اور مسلسل اندو فاقہ کشی کی وجہ سے بابا جی بہت کمزور لگ رہے تھے بابا جی نے مُجھ جنموں کی پیاسی کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا تو لگا برسوں آگ برساتے صحرا میں ننگے سر ننگے پاؤں چلنے کے بعد ٹھنڈے چھاؤں بھرے نخلستان میں آگئی ہوں باطن کے نہاں خانوں کے عمیق ترین بعید ترین گوشوں میں برفیلے کستوری مشک و عنبر میں لپٹے خوشبوؤں کے قافلے سر گرداں نظر آئے ٹھنڈک اور آسودگی کا نشاط انگیز احساس کہ جیسے منزل مل گئی ہو باطن کی ویران ہجر کی تلاش کھوج بے قراری بے چینی بے صبری قرار میں ڈھلتی چلی گئی میرے جسم کا رواں رواں آسودگی کی بارش میں بھیگ رہا تھا اور میں سر شاری کے نقطہ عروج پر تھی یہ میری بابا جی سے پہلی ملاقات تھی پھر ملاقاتوں کا نہ ختم ہو نے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ میری منزل مجھے مل گئی تھی میری صدیوں کی مسافت اب ادھورے پن سے مکمل پن میں ڈھل گئی تھی جب بھی بابا جی سے ملاقات ہو تی تو وہ سبز گنبد سے نظریں ہٹا کر سیدہ کائنات حضرت فاطمہ ؓ کی طرف منہ کر کے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کر تے پھر دعاؤں کی پو ٹلی کھول کر سیدہ کائنات ؓ کے وسیلے سے شہنشاہ ِ مدینہ سرکار دو جہاں ﷺ کے حضور پیش کر تے پھر بابا جی اورہم حضرت حمزہ ؓ کی قبر مبارک پر جاتے‘ بابا جی کے بقول آقاکریم ﷺ حضرت حمزہ ؓ سے بہت زیادہ پیار کر تے تھے اِس لیے ہمیں بھی حضرت حمزہ ؓ سے بہت پیار کر نا چاہیے‘ مہینے دو مہینے کے بعد جنگ بدر کے قریب ابوا کے مقام پر شہنشاہ ِ دو عالم ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ ؓ کی قبر مبارک پر پہاڑی کے اوپر جاکر عرق گلاب پھولوں کے ہار اور چادر چڑھا کر دعا کر تے‘ آنسوؤں کا نذرانہ پیش کر تے‘ مدینہ شریف میں حضرت عثمان غنی ؓ کے باغات اور حضرت فاطمہ ؓ جگر گوشہ رسول ﷺ کے گھر جاکر دعاکر تے‘دیدار کر تے‘ بابا جی کو مدینہ شریف کے تمام مقدس مقامات کا پتہ تھا ہمیں بھی اپنی نگرانی میں اُن مقدس مقامات کی زیارت کراتے معلومات کا خزانہ تھے بابا جی ہر جگہ اور مقام کے بارے میں ایمان افروز گفتگو کرتے‘ بابا جی کے زیادہ مرید نہیں تھے اوپر سے سعودی گو رنمنٹ کا بھی اپنا خاص مزاج ہے ا ِ س لیے بابا جی محتاط بھی تھے اور ہم دس سے بارہ لوگوں کا قافلہ کبھی غارِ حرا پر جا پہنچا جہاں پر بابا جی صحت مند ہو تے تو اوپر غار میں تشریف لے جاتے ورنہ وہ نیچے بیٹھ جاتے ہم غار حرا میں جاکر نوافل کی سعادت حاصل کر تے‘ غار حرا کے درودیوار پتھروں کو چومتے کہ یہاں پر آقا کریم ﷺ کی نظر پڑی ہو گی آ پ ﷺ کے جسم مبارک نے چھوا ہو گا پھر ہم غار ثور کی طرف نکل جاتے‘ وہاں پر یار غار حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی وفا کی اداؤں کو یاد کر تے‘ نذرانہ عقیدت پیش کر تے‘ میں جو بچپن سے کسی ولی کامل کی تلاش میں تھی وہ میری منزل مجھے مل گئی تھی بابا جی تھے اورہم ان کے دیوانے تھے بابا جی مثنوی روم کے حافظ تھے جب وہ مثنوی روم کے اشعار خدا کے ہجر کی باتیں کرتے تو ہماری آنکھوں سے بھی حق تعالیٰ کی یاد کے آبشار آنسوؤں کی شکل ابل پڑتے‘ مجھے بچپن سے بزرگوں کے حالات زندگی اور تعلیمات پڑھنے کا دیوانگی کی حد تک شوق تھا پاکستان سے جو بھی آتا میں فرمائش کر کے بزرگان دین کی کتابیں منگواتی پھرجو چیز اُن کتابوں میں سمجھ نہ آتی بابا جی سے جاکر پوچھ لیتی‘ بابا جی اُس روحانی نقطے کی وضاحت اتنی شاندار کر تے کہ دل باغ باغ ہو گیا بابا جی کے پاس ہندوستان حیدر آباد سے ایک حکیم بزرگ آیا کر تے تھے جن کی ساری عمر غلام محی الدین ابن عربی کی کتابیں فتوحات مکیہ اور فصوص الحکم پڑھنے اور سمجھنے میں گزری تھی وہ جب بھی آتے تو ابن عربی کی مشکل ترین کتابوں پر کھل کر بیان کر تے‘ ابن عربی کے مشکل ترین نقطوں کو حکیم صاحب جس طرح آسانی سے بیان کرتے روح سیراب ہو جاتی۔ پھر امام غزالی ؒ کی کیمیائے سعادت مکاشفتہ القلوب احیائے العلوم ابن خلدون کا مقدمہ پڑھ کر روح جھوم جھوم جاتی کتاب رعانیہ الحقوق۔ کتاب اللمع، کتاب التصرف، قوت القلوب، رسالہ قیشیریہ، کشف المعجوب، طبقات الصوفیہ، فتوح الغیب، غنیہ الطالبین، الفتح الربانی، تذکرہ الاولیا، عوارف المعارف، بابا بلھے شاہ ؒ، میاں محمد بخش‘ ؒبابا فریدؒ‘ شاہ حسین ؒ‘ سلطان باہوؒ اور بے شمار تصوف کی کنیت تھیں جو میری ذاتی لائبریری کی زینت بن چکی تھیں میں جن کتابوں کو بار بار پڑھ کر نہ سمجھ پائی تھی اب باباجی نے مجھے وہ سمجھائی تھیں وہ نقطے یا مشکل مقامات جن کی سمجھ نہیں آتی تھی وہ بابا جی مجھے لمحوں میں سمجھا دیتے تھے‘ بابا جی کے سنگ ہم خاک مدینہ کو آنکھوں کا سرمہ لگاتے ماتھوں پر لگاتے‘ مدینہ کی ہواؤں میں لمبے لمبے سانس لیتے خو دکو دنیا کے خوش قسمت ترین لوگ سمجھتے جو جب چاہتے تھے گنبد خضرا کو دیکھ سکتے تھے اُن ہواؤں کو اپنے سینوں میں بھرتے تھے جو روضہ رسول ﷺ کی جالیوں کو چھو کر سبز گنبد کے بوسے لے کر آئی ہو تی تھیں مجھے تین سال بابا جی کی صحبت میں گزارنے کا حق تعالیٰ نے موقع دیا میں نے بابا جی کی زیر نگرانی ہر لمحہ جنت کی طرح گزارا‘میں پاکستان اور یہاں کے رشتے داروں کو بھول چکی تھی مجھے کوئی یاد نہ تھا میں بابا جی کی عقیدت کے نشے میں گم تھی پھر چھ ماہ پہلے بابا جی ہمیں چھوڑ کر حق تعالیٰ کے پاس چلے گئے تو میں خواب سے بیدار ہو ئی، بابا جی نے جنت البقیع کی مٹی کی مقدس چادر اوڑھ لی تو میری زندگی ویران ہو گئی لیکن پھر میں سنبھل گئی بابا جی کی باتیں مجھے زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں پاکستان تین سال بعد آئی تو آپ کی کتاب پر نظر پڑی تو مطالعہ کے بعد آپ سے ملنے کا شوق پیدا ہوا اور آج آپ کے پاس ہوں میرے بابا جی تو آسودہ خاک ہو گئے ہیں کیا میں آپ کو اپنا بابا جی کہہ سکتی ہوں اس کے ساتھ ہی دعا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لکیریں اُس کے رخساروں کو بھگونے لگیں میرے اندر ایمان کا دریا ٹھاٹھیں مارنے لگا میں نے دعا کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولا بیٹی میں نے زندگی میں کوئی نیکی کی ہے جو اللہ نے آپ جیسی نیک بیٹی کا بابا بننے کا موقع دیا جب بھی پاکستان آؤ تو اپنے اِس بابا سے ملنے ضرور آنا اور خاک مدینہ کو چوم کر میرے لیے دعا کر تے رہنا۔(جاری ہے)

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے