۔،۔ڈاکٹر عاصمہ راؤ۔اے آراشرف۔،۔


بھارت کے ڈاکٹراجیت سنگھ سکند نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی خرابی کی وجوحات بیان کرتے ہوئے کہا اسکی سب سے بڑی وجہ بے۔جے۔پی۔کی حکومت ہے انہیں جبب بھی اقتدار ملتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی شروع ہو جاتی ہے ویسے بھی بھارت کے وزیراعظم جناب نریند مودی انتہائی متصب، ظالم اور مکار ہیں وہ بھارت میں تمام اقلیتوں کو جبر و تشدد کے ذریعے ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کررہے ہیں گجرات میں پہلے بھی وہ معصوم مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیل چکا ہے اسکا کشمیر کی حصوصی حثیت ختم کرنے کا اقدام قابل مذمت ہے وہ مخترمہ ڈاکٹر عاصمہ راؤ کے اعزاز میں دئیے گئے اعشایہ میں بھارت اور پاکستان کے مابین خرابی کی وجہ بیان کر رہے تھے جس کا اہتمام جرمنی میں مقیم معروف شاعر جناب طاہرمجید نے اپنے گھر پر جرمنی کے لکھاریوں کی ایک نثری نشست رکھ کر کیا تھا اس موقع پر اردو زبان کو فروغ دینے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مہمان حصوصی مخترمہ ڈاکٹر عاصمہ راؤ نے کہا کے ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی جد وجہد کا عملی مظاہرا کرنا چاہیے ڈاکٹر عاصمہ راؤ نے مزید کہا کہ میں اردوکے حوالے سے بہت اُداس ہوتی ہوں کہ ہم اس کے فروغ کیلئے اتنا کچھ نہیں کرپا رہے جتنی اسکی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے شاگردوں کو اکثر کہتی رہتی ہوں کہ آپ ڈاکٹر،انجینئراور صحافی سب کچھ بنو مگر اردو زبان سے اپنا ناتاکبھی نہ توڑنا۔اُنہوں کہا۔پبلک سروس کمشن۔میں انٹرویو کے دوران مجھ سے سوال کیا گیا کہ ایک اُستاد کی کیا خوبی ہونی چاہئیں تو میں کہا کہ ایک اچھے اُستاد کیلئے ضروری ہے کہ وہ سال میں کم از کم ایک ایسے طالبعلم کو ایسی تربیت دے جو ملک و ملت کیلئے باعث فخر ہو۔ڈاکٹر عاصمہ راؤ ان دنوں لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی میں اردو کی پروفیسراورایچ۔ای۔سی۔کی سپروائزر بھی ہیں،ایم فل اورپی۔ایچ۔ڈی کے طلبا کواسی یونیورسٹی میں درس دیتی ہیں اُنکی قابلیت اور ذہانت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُنہوں نے۔پاکستان پبلک سروس کمشن۔کی پچاس سالہ تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم کیا کہ ایک سال کے اندرہی گریڈ۷۱ سے گریڈ۹۱میں ترقی کر کے سب کو حیران کر دیاوہ بہت ساری کتابوں کی مصنف بھی ہیں جن میں خوشبو۔تیری یادیں۔کلیات باقر۔کلیات نثر باقر۔مکالمات سلیم۔جدید اردو غزل میں نرگسیت کا نفسیاتی مطالعہ اور بہت سارے تدریسی۔تحقیقی،تنقیدی،ادبی اورنفسیاتی مضامین ا ور ٹی۔وی اورقومی اخبارات میں تبصرے اُنکی تخلیقی سرگرمیوں کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں اُنہوں نے کہا جب اردو ادب کی محفلیں گھر گھر میں سجنا شروع ہو جائیں تو اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا کہ۔ اردوزبان۔کا مستقبل تاریک نہیں بلکہ درخشاں اور روشن ہے پھراردو لکھنے پڑھنے اور بولنے کے عمل میں تیزی کیساتھ ساتھ اُنکی اردو زبان سے عشق کی کفیت کا بھی بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اُنہیں دیار غیر میں بھی اپنی ثقافت اورزبان سے کس قدر محبت ہے آج کی اس شاندار اور پُر وقار ادبی شام میں میزبان معروف شاعر جناب طاہر مجید نے ۵۹۹۱ میں لکھا گیا ایک مضمون۔تیسرا سردار کون۔پڑھ کر سُنایا جس میں ایوبی دور کے ظُلم وستم کے خلاف آواز اُٹھانے والے۔پہلے سردار۔ اُنکے نزدیک ممتاز اور ہر دلعزیز شاعر مرحوم فیض احمد فیض ہیں جنہوں نے ایوبی دور کی آمریت کے خلاف بھرپور جد وجہد کی اور ہر دور کی آمریت کیخلاف اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے یہ شعر کہا تھا جو امر ہوگیا اورجو ہر دور کے ظالم کے مُنہ پر طمانچہ ہے۔۔نثار میں تیری تیری گلیوں کے،اے وطن کے جہاں،۔۔چلی ہے رسم کہ،کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے،۔۔جناب طاہر مجید کے نزدیک جناب فیض احمد کے قبیلے کے۔دوسرے سردار۔مرحوم حبیب جالب تھے جہنوں اپنی نظم میں کہا تھا کہ۔۔اصول بیچ کرمسند خریدنے والو،۔۔نگاہِ اہل وفا میں بہت حقیر ہو تم،۔۔وطن کا پاس تمہیں تھا،نہ ہوسکے گا کبھی،۔۔کہ حرص کے بندے ہو،بے ضمیر ہو تم،۔۔پھر ایک اور نظم میں کہا کہ۔۔سچ کہہ کے کسی دور میں پچھتاے نہیں ہم،۔۔کردار پر اپنے کبھی شرمائے نہیں ہم،۔۔زنداں کے در و بام ہیں دیرینہ شناسا،۔۔پہنچے ہیں سردار تو گبھرائے نہیں ہم،۔۔جناب طاہر مجید کو اب تیسرے سردار کی تلاش ہے ہماری دعا ہے وہ بھی انہیں مل جائے۔اُنہوں نے اپنی رہائش گاہ پر پاکستان سے آئی ہوئی مہمان ڈاکٹر عاصمہ راؤ کے اعزاز میں ایک نثری نشست انعقاد کیا تھاجو اس تقریب کی مہمان حصوصی تھیں اور نظامت کے فرائض میزبان جناب طاہر مجید نے ادا کئے اس تقریب میں جرمنی میں مقیم معروف اہل قلم کے علاوہ جرمنی کے معروف جج جناب ہورسٹ شیفرجودوکتابوں کے مصنف بھی ہیں اُنہوں نے ایک جج کی حثیت جرمنی سیاسی پناہ گزینوں کے مسائل بارے میں گفتگو کی برلن سے جناب سید انور ظہیر نے اپنا افسانہ۔۔سرد خانے میں۔۔ جناب حیدر قریشی نے۔خاکہ پسلی کی ٹیرھ۔ڈاکٹر عشرت معین سیما۔۔جرمنی میں اردو نثر۔۔جناب اسحاق ساجدنے۔۔جدید ٹیکینالوجی کے اثرات۔۔مخترمہ ہما فلک نے۔۔افسانہ۔۔جناب وحیداحمد قمر نے۔۔افسانہ اور مخترمہ امتہ المنان طاہرنے۔۔یورپ میں اردو کا مستقبل۔۔پڑھا۔س پُروقارشام میں جرمنی میں ادبی اور ثقافتی محفلوں کے رُوحِ رواں معروف شاعر،ادیب،صحافی،دانشور اور کئی کتابوں کے مصنف سید اقبال حیدر اپنی غیر ملکی مصرفیات کی بنا پراس محفل میں شرکت نہ کر سکے۔کالم میں اتنی گنجائش نہیں کہ سب لکھاریوں کے افسانوں اور مضامین کی تفصیل بیاں کر سکوں –

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے