۔،۔کشمیر اورزنجیر ۔ چو ہدری محمدالطاف شاہد۔،۔

ٰٓایک طرف انسان کائنات کوتسخیرکر نے کیلئے کوشاں ہے دوسری طرف دنیا کے مقتدر انسان کمزورانسانوں کوزنجیر پہناکراپناغلام بنانے کے درپے ہیں لیکن اہل کشمیر نے سات دہائیوں قبل بھارتی غلام کی زنجیرتوڑدی تھی،وہ اپنے خون اورجنون سے اپنی آزادی کی تاریخ رقم کررہے ہیں۔بھارت کی مودی سرکار نے ایک آئینی ترمیم کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت پرشب خون مارا،کرفیو کی آڑ میں کشمیریوں کویرغمال بنالیااوروہاں کشت وخون کابازارگرم کردیا۔ نوجوان کشمیریوں کے جنازوں اورضمیر کے قیدی سیّدعلی گیلانی کے بیانات کے باوجود عالمی ضمیر بیدارنہیں ہورہا۔مسلمان حکمران چاہیں توایک پل میں کشمیریوں کیلئے آسانیاں پیداکی جاسکتی ہیں مگر وہ کسی بیرونی قوت کے دباؤپر مودی کی پذیرائی کررہے ہیں۔دنیا کی چندمقتدرقوتوں نے انسانیت کامفہوم بدل دیاہے،کہاں سانحہ گجرات کے بعدامریکا نے نریندرمودی کواپناویزہ دینے سے انکار کردیا تھا اورکہاں اب عرب ملک جموں وکشمیر میں نہتے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے نریندرمودی کواعزازات سے نوازرہے ہیں۔ عہدحاضر میں طاقتورطبقہ کمزورطبقات کواپناغلام سمجھتا ہے۔آج بھی دنیابھرمیں انسانیت اورانصاف نہیں بلکہ طاقت کی بنیاد میں فیصلے ہورہے ہیں۔انسانوں کی آبادی بڑھنے کے باوجود انسانیت ناپیدبلکہ نابودکیوں ہوگئی ہے۔زمینی مخلوقات میں اشرف ہونے کے باوجودابن آدم نے زندگی بچانے سے زیادہ موت کابازارگرم کرنے کیلئے ہتھیاروں کی ایجادات پرفوکس کیا، اعدادوشمارگواہ ہیں کرہ ارض پر بیماریوں یابھوک کے مقابلے میں بارود سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔کچھ اسٹیٹ وہ ہیں جہاں کا انسان پانی کی بوندبوند کیلئے ترستااورپیاس کی شدت سے ایڑیاں رگڑرگڑ کرمرجاتا ہے جبکہ پاکستان سمیت بعض ملک اپنا سونے سے زیادہ قیمتی پانی سمندروں میں گرا رہے ہیں۔ایک کتادوسرے کتے کاگوشت نہیں کھاتا توپھرانسان ایک دوسرے کی بوٹیاں کیوں نوچ رہے ہیں۔بھارت میں کوئی مسلمان گائے قربان نہیں کرسکتامگرانتہاپسندہندومسلمانوں کاقتل عام کرسکتے ہیں۔انسانوں نے کیوں درس انسانیت فراموش کردیا،کیوں روزمحشر کاانتظار کئے بغیر دنیا کوجہنم بنالیا۔جنگلات میں حیوان بھوک مٹانے کیلئے روزانہ کی بنیادپرشکارکرتے اوراپناپیٹ بھرجانے پرباقی دوسروں کیلئے چھوڑدیتے ہیں مگرانسان کی ہوس دیکھیں وہ ا ن کیلئے بھی دوسروں کے وسائل چھین کراپنے قبضہ میں کرنے کے درپے ہے جوابھی دنیا میں نہیں آئے۔حیوانوں کے حقوق کیلئے جس مغرب نے کئی بار آسمان سرپراٹھایا وہ مشرق میں انسانوں کے حقوق کی پامالی کیخلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتا۔ طاقتورطبقات کوکمزور انسانوں کے بنیادی حقوق روندنے کا استحقاق کس نے دیا۔انسانوں کی بھوک،بندوق اوربارود سے موت کے پیچھے بھی انسان ہے جبکہ ہزاروں گودام گندم سے بھرے ہوتے ہیں جبکہ چوہوں سمیت دوسرے حشرات کی موج لگ جاتی ہے۔ عالمی ضمیر صرف مغربی معاشروں میں کسی پرتشدد واقعہ سے بیدار جبکہ امن پسندمسلمانوں سے بات بات پر بیزار کیوں ہوتا ہے۔فلسطین اورمقبوضہ کشمیر میں کئی دہائیوں سے تشدد،کشت وخون اور بدترین بربریت کے باوجودمقتدرقوتیں کیوں آنکھیں موندے ہوئے ہیں۔ پرندے بھی پنجروں کی بجائے آزادفضاؤں میں پروازکرتے اورگنگناتے ہیں توپھر کشمیریوں اورفلسطینیوں کوکیوں جدوجہد آزادی کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتاردیاجاتا ہے۔کشمیراورفلسطین میں بربریت کاسورج سوانیزے پرکیوں ہے۔کشمیری،روہنگیائی اورفلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کے بعد ”اقوام متحدہ ”کانام ”اقوام مردہ” کیوں نہیں رکھ دیاجاتا۔کشمیراورفلسطین کی گلیوں میں بچے گیندبلے سے کیوں نہیں کھیلتے، وہاں شاہراہوں پر مقتل گاہیں کس نے بنائی ہیں۔مسلمانوں کے آنگن سے کیوں پل پل قیامت کاگزرہوتا ہے۔اسرائیلی درندے بیچارے فلسطینیوں جبکہ بھارتی سورما نہتے کشمیریوں کی روحوں پرزخم کیوں لگارہے ہیں، فلسطینیوں اورکشمیریوں کے زخم کامرہم کس کے پاس ہے۔بھارت نے معصوم بیٹوں اوربیٹیوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کی دنیا اندھیر کردی مگردنیا بھر کے روشن خیال خاموش ہیں۔ بھارت کشمیریوں کو بصارت سے محروم کرسکتا ہے مگران سے اسلامیت، پاکستانیت، بصیرت،ہمت اورحمیت نہیں چھین سکتا۔بصارت رہے نہ رہے مگربزدل بھارت کی جارحیت کیخلاف کشمیریوں کی مزاحمت صبح آزادی تک جاری رہے گی۔ باضمیر لوگ قومی و عالمی سیاست اورہرمصلحت سے بالاترہوکراپنے قلم کواہل کشمیر کیلئے شمشیر بناتے رہیں گے۔کشمیرکے پرعزم اورپرجوش نوجوانوں کی قربانیاں کایاپلٹ دیں گی،وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی تقدیرلکھیں گے۔شہیدوں کے خون کاسیلاب بھارت کوبہالے جائے گا۔ بھارت اوراس کے بھگت اپنے گناہوں کی سزاضرور بھگتیں گے۔ہم بچپن سے پچپن کی دہلیز تک آگئے ہیں مگر ہمارے کشمیری بھائیوں کو بھری جوانی میں شہیدکردیاجاتا ہے۔معصوم کشمیری بچے آزادی کے خواب نہ دیکھیں اسلئے Pellet Gunsسے ان کی چمکتی آنکھیں چھلنی کردی جاتی ہیں۔کشمیری پچھلی سات دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق کی پامالی کی دوہائیاں دے رہے ہیں مگر ”اقوام مردہ ”کی قراردادوں کے باوجود بھارتی ارادوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔راقم نے اپنے ہوش میں ایسا کوئی دن نہیں دیکھا جس روز وادی کشمیر سے کسی شہید کا جنازہ نہ اٹھا ہو۔کشمیر میں شہیدوں کے ساتھ ہربار عالمی ضمیرکا جنازہ بھی ضرور اٹھتا ہے۔ کشمیری حق آزادی کیلئے شاہراہ شہادت بلکہ شاہراہ بہشت پرگامزن ہیں،ان کے شوق شہادت اور جذبہ خودداری سے بھارت بری طرح خوفزدہ ہے۔مقبوضہ کشمیر میں ماہ صیام اورعیدین کے ایام بھی بھارتی انتقام کی نذرہوجاتے ہیں مگر وہ اپنے شہیدوں کا ماتم نہیں کرتے بلکہ انہیں دولہا بناکرسپردخاک کیاجاتا ہے۔ بلاشبہ کشمیری ماؤں کی ممتا بھی دوسری ماؤں سے بہت منفرداورممتاز ہے۔آپ وادی کشمیر میں شہیدوں کے جنازوں پرکسی ماں کے بین نہیں سن سکتے بلکہ ان بینظیر ماؤں کی زبانوں پراپنے نڈربیٹوں کی شجاعت کے گیت ہوتے ہیں۔ یوں توجس گھر میں میت ہووہاں خوشی کا دن بھی سوگ میں گزرتا ہے مگر وادی کشمیر میں شہیدوں کے جنازے جلوس بن جاتے اوران میں آزادی کے نعر ے بلندہوتے ہیں،کشمیر میں شہیدوں کے ورثا کومبارکباد پیش کی جاتی اوراظہارعقیدت کیلئے ان کی پیشانی کوچوماجاتا ہے۔ جوان بیٹوں کے جنازوں کوکندھا دے دے کر ضعیف کشمیریوں کے کندھے ضرور جھک جاتے ہیں مگر کسی باپ یابھائی کا سر نہیں جھکتا۔ بھارت کی بدترین قیدوبندکے باوجودبزرگ سیّدعلی شاہ گیلانی، نڈریٰسین ملک،نصرت عالم،باحیاء اورباصفاآسیہ اندرابی،میرواعظ عمرفاروق اورشبیراحمدشاہ سمیت آج تک کشمیر یوں میں سے کسی ضمیر کے قیدی نے سرنڈر یاسمجھوتہ نہیں کیا۔دنیا کے بااثرحکمرانوں کادوہرامعیار کسی سے ڈھکاچھپا نہیں،وہ فلسطین سے کشمیر تک معتوب،مغلوب،مضروب،محکوم اورمظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی نہیں کرتے لیکن ہرقوم کے اندرسے باضمیر ان کیلئے کلمہ حق ضرور بلندکرتے ہیں۔برطانیہ،ترکی،امریکہ،یورپ اورکینیڈا میں مقیم اوورسیزپاکستانیوں نے پوری توانائی کے ساتھ روہنگیائی،فلسطینی،کشمیری اورشامی مسلمانوں پرہونیوالے ظلم وستم کیخلاف آوازاٹھا رہے ہیں،ان کادم غنیمت ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے