۔،۔زخم زخم کشمیر ۔ چوہدری محمد الطاف شاہد۔،۔


ہمارا کشمیر اورضمیر زخم زخم ہے،دنیا والے جورسمی طورپربھارت کی مذمت کررہے ہیں مودی سرکار کواس کی ہرگز کوئی پرواہ نہیں بلکہ جموں وکشمیرمیں بھارتی بربریت مزید بڑھ گئی ہے۔عالمی ضمیر کی منافقت نے بھارت کوبھیگی بلی سے باگڑبلے میں تبدیل کردیا ہے۔ ماہ اگست میں جنوبی ایشیائی ملک اپنااپنا یوم آزادی مناتے ہیں وہی آزادی جس کیلئے غیور کشمیری پنی بے مثال جد و جہد سے نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ وہی آزادی جس کے لئے نہرو اور گاندھی جد و جہد کریں تو ” ہیرو ” جبکہ بزرگ سیّد علی گیلانی، یٰسین ملک،آسیہ اندرابی اور میر واعظ عمرفاروق جہدمسلسل کریں کریں تو جرم گردانا جاتا ہے۔یہ وہی آزادی ہے جس کیلئے چی گویرا اور فیدل کاسترو ہتھیار اٹھائیں تو ہیرو اور یہی راہ اگر وادی کشمیر کے نوجوان اپنائیں تو ان کو سر عام پیلٹ گنوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ یہی آزادی کا ہی مہینہ تھا کہ ریاست گجرات کے مسلمانوں کے قاتل کی فاشسٹ سرکار نے وادی کشمیر، جموں اور لداخ کے 60 تا 70فیصد مسلم اکثریت والی آزاد اور خود مختار ریاست کو متنازع آرڈیننس کے بل پرغلام بنا لیا۔ وادی جنت نظیر یعنی مقبوضہ کشمیر کو زخموں سے چور ہوئے بائیس دن گزرگئے ہیں۔ بین الاقوامی امن کے داعی اور ان کے حواریوں کی زبانیں ہی گنگ نہیں بلکہ ان کے دل بھی عالمی دہشت پسند بھاری وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہیں۔ ہمیں ایٹمی جنگ شروع ہونے کے ڈراوے اور ثالثی کی پیشکش جیسے منافقانہ بہلاوے دیئے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہماری حکومت او ر عوام نہ صرف بے چینی، خلفشاراور غم و غصہ کا شکار ہے بلکہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے۔حکومت مختلف تجاویز پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ بھارت کو دباؤ میں لانے کے لئے مختلف اقدامات توکر رہی ہے لیکن دیکھا جائے توموجودہ کابینہ سوائے زبانی جمع خرچ اور بڑھکیں مارنے کے بین الاقوامی برادری کو مسئلہ کشمیر کی طرف متوجہ کرنے میں ناکام ہوتی دکھا ئی دے رہی ہے۔بات صرف ٹیلی فونک گفتگو اور پریس کانفرنسیں کرنے تک ہی محدود ہے۔ گو ہم ایٹمی جنگ چھیڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن سابقہ 72سالہ کار کر دگی کو دیکھیں تو ہمارے دفتر خارجہ نے سوائے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں مذمتی بیانات کے کوئی خاص کارکر دگی نہیں دکھائی اور اگر کسی کو یقین نہیں تو کرامت اللہ غوری کی کتاب بار شناسائی کا مطالعہ ضرور کر ے جس میں مصنف نے سابقہ کشمیر کمیٹی کے چئیرمین حضرات کی کارکردگی کا پول کھول کر دکھ دیا ہے۔ ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں یرغمال کشمیری بچے، خواتین اور بوڑھے ہمیشہ پاکستان اور امتِ مسلمہ کی طرف پر امید نظروں سے دیکھتے رہے لیکن ان کی داد رسی کو پہنچنا تو درکنار ہمارے مسلم امراء نے آج تک ہمدردی کے دو بول بھی نہیں بولے۔اب جہاں ہمارے وزراء قومی میڈیا میں اپنے بیانات دینے اور پاکستانی عوام کو طفل تسلیاں دینے کے لئے بیانات کے میزائل داغ رہے ہیں،وہاں بھارت کے وزیر اعظم دبئی سے اس ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ وصول کرنے کے ساتھ بحرین کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ یورپی تنظیم جی۔ سیون کے اجلاس میں امریکی صدر ٹرمپ کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر جیسے دونوں اصحاب ہنس رہے ہیں اس منظر نے ہماری خارجہ پالیسی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ہم پاکستانی عوام مظلوم کشمیری عوام کے لئے سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹ شئیر کرنے اور عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے والے مودی کو عورتوں کی طرح کوسنے، بدعائیں دینے اور طعن و تشنیع کے کیا کر سکتے ہیں؟کیا پاکستانی صرف یہ سوچ کر ہر پوسٹ شئیر کر رہے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ مارک زکر برگ حل کرے گا؟ یا ہم اپنا غم و غصہ نکالنے اور ذہنی کتھا رسس کے لئے سوشل میڈیا کا سہار ا لے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں یہ وہ وقت ہے جب ہر پاکستانی صرف پاکستانی نہ بنے بلکہ ہر پاکستانی اپنے ملک کا وزیر خارجہ بن کر مظلوم کشمیری عوام کی حالت زار دنیا کے سامنے پیش کرے۔ سوشل میڈیا ایک ایساس ہتھیار ہے جس کو پوری دنیا کے مفکر اور محقق تسلیم کر چکے ہیں اور یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ سپر پاورز عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر نے کے لئے آج کل سوشل میڈیا کا سہارا لیتی ہیں۔کہتے ہیں کہ یہ دنیا اب ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے اگر ہم سب پاکستانی بین الاقوامی فورم پر صرف یہ سوچ کر اپنے تبصرے کریں کہ ہم گاؤں کی چوپال میں بیٹھے ہیں جہاں کشمیر کی صورت حال پہ تبصرہ ہو رہا ہے تو میرے خیال میں ٹوئٹر، فیس بک، واٹس اپ اور سوشل میڈیا کی تمام ویب سائٹس کے صارفین کو کم از کم وادیِ چنار کے بھڑکتے شعلوں کی اصل صورت حال کا ادراک تو ہو جائے گا۔ میرے مشاہدے میں ہے کہ فیس بک انتظامیہ نے اکثر پاکستانیوں کی آئی ڈیز اور اکاؤنٹ صرف ان کے قوانین کی خلاف ورزی اور شکایت پر بلاک کر چکی ہے کیونکہ ہماری اکثریت بغیر تحقیق کئے جذباتی ہو کر ہر پوسٹ صرف شیئر کر دیتی ہے لیکن بہتر ہو گا اگر قومی اور بین الاقوامی میڈیا سے تصدیق کر لیں کہ واقعی یہ پوسٹ سچی ہے۔ایک اور نکتہ جو میرے ذہن میں آتا ہے کہ ہماری اکثر پوسٹ اور تبصرے اردو میں ہوتے ہیں جو ہماری قومی زبان ہے لیکن اگر اردو کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات کو ہم انگریزی،چینی اور یورپی زبانوں میں ترجمہ کر کے پوسٹ کریں گے تو ہماری تحریریں اور تبصرے پوری دنیا کے لوگوں کو متوجہ کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہم گوگل ٹرانسلیٹر کی مدد لے سکتے ہیں۔ کسی بھی ملک کے افراد اس ملک کے نظریات اور کردار کے امین ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے بہترین سفیر بھی ہوتے ہیں اس لئے اب ضرور ت اس امر کی ہے مختلف ممالک کو فون کرنے کی بجائے دنیا میں موجو دپاکستان کے تمام سفارت کار اور سفارتی عملہ اپنے ملک میں رہائش پذیر پاکستانیوں کو نہ صرف فعال کریں بلکہ مسئلہ کشمیر عالمی ممالک کے سامنے رکھنے کے لئے وہاں موجود پاکستانیوں کی ہر ممکن امداد کریں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت 9ملین سے زیادہ پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ہیں جن میں سے 4 ملین یعنی چالیس لاکھ افراد مشرق وسطیٰ میں، 15لاکھ انگلینڈ میں رہائش پذیر ہیں، اس کے علاوہ کویت، جرمنی، فرانس اور سپین میں بھی لگ بھگ ایک ایک لاکھ پاکستانی افراد قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو دنیا کا کوئی بھی ایسا بڑا ملک نہیں ہے جہاں آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے لوگ آباد نہ ہوں لیکن اب وقت ہے کہ ہم متحدہو کر مسئلہ کشمیر پر یکسو اور متحد ہو کر اقوام عالم کے سامنے اپنا موقف پیش کریں جس کے لئے ہفتہ وار احتجاجی جلوس اور جلسے منعقد کرنے میں مقامی سفارت خانے ان افراد کی ہر ممکن امداد کریں ہم نہ صرف اپنی تحریروں کے ذریعے کشمیر ی عوام کے لئے آواز بلند کر سکتے ہیں بلکہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے بھی عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کا کام بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔ دیکھا جائے تو پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا اپنے فرائض بخوبی سر انجام دے رہا ہے جس کے گواہ ہر قومی اخبار کے ادارتی صفحات اور الیکٹرانک چینلز کے ٹاک شوز ہیں جہاں بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔ لہٰذاء موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے 22کروڑ پاکستانی ہم آواز اور متحد ہو کر کشمیر کی آزادی کی آواز بن جائیں اور بھارت کا تاریک اور سیاہ چہرہ اقوام عالم کے سامنے لا کر اللہ تعالی کی بارگاہ میں سر خرو ہو جائیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے