غیر ملکی میڈیا نے طالب علم اسرار احمد کی شہادت کو چھپانے کی کوشش ناکام بنا دی۔،۔

شان پاکستان مقبوضہ کشمیر۔ الجزائر میڈیا، برطانوی اخبار انڈی پنڈنٹ اور امریکی اخبار نیو یارک ٹائم کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز کشمیر میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہونے والا طالب علم اسرار احمد خان بھارتی فورسز کی پیلٹ گن کا نشانہ بنا اور اسی وجہ سے وہ شہید ہوا۔ جبکہ بھارتی فورسز کا کہنا ہے کہ طالب علم اسرار احمدسر پر پھتر لگنے کی وجہ سے مرا ہے تاہم غیر کلکی میڈیا نے پردہ فاش کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کر دی کہ کشمیری نوجوان کے سر اور چہرے پر متعدد چھرے لگنے کے واضح نشانات سے پتے چلتا ہے کہ طالب علم کی شہادت چھرے لگنے سے ہوئی ہے۔غیر ملکی میڈیا نے شہید کشمیری نوجوان اسرار احمد کے اہلخانہ سے بھی بات چیت کی۔ اسرار کے والد فردوس احمد نے بتایا کہ 6 اگست کو ان کا بیٹا محلے کے پارک میں دوستوں کیساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا، اس دوران بھارتی فوج نے بچوں پر پیلٹ گن سے فائرنگ کی، بھارتی فوج نے بنا کسی وجہ کےاسرار احمد کو نشانہ بنایا۔اسرار کی شہادت کی خبر سنتے ہی سری نگر میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کرتے ہوئے بھارتی فوج پرپتھراؤ کیا۔ بھارتی فوج نے اسرار کے گھر تک جانیوالی سڑک رکاوٹیں لگا کربند کردی جبکہ کرفیو اور دیگر پابندیاں بھی مزید سخت کردیں۔اسرار کے کزن عرفان نے الجزیزہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے جوان کو شہید کرنے کے بعد ہمارے سوگ منانے پر بھی پابندی ہے، یہ کیسی جمہوریت ہے۔برطانوی اخبار گارجین کے مطابق مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارتی فورسز کے ہاتھوں گزشتہ 30 روز میں 5 کشمیری شہری شہید ہوچکے ہیں۔ سینئر بھارتی فوجی افسر لیفٹننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھیلون نے ان پانچوں کشمیریوں کی شہادت کی تصدیق کی۔مودی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کردیا تھا۔ مودی حکومت نے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے وہاں مزید 70 ہزار فوجی بھی تعینات کردیے ہیں۔ایک ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور کاروبار زندگی مفلوج ہے جس کے باعث کشمیری سخت اذیت کا سامنا کررہے ہیں اور خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے