۔،۔ بسلسلہ سید الشہدا،نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ محفلِ مسالمہ(طرحی نشت) کا اہتمام۔نذر حسین۔،۔
۔،۔وقت حاضر کے یزید نے کشمیر کو کربلا کا میدان بنا دیا۔،۔

نذر حسین شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ ہیومن ویلفیئر ایسوسی ایشن فرینکفرٹ کے زیر اہتمام بسلسلہ سید الشہدا،نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ محفلِ مسالمہ(طرحی نشست) نوری نشست زیر صدارت مولانا مقبول حسین علوی سجائی گئی جو خصوصی طور پر انگلینڈ سے تشریف لائے تھے،محفل کی رونق مولانا سید فرحت حسین شاہ جن کا تعلق ادارہ منہاج القرآن سے ہے،ناصر ناکا گاوا بانی و مدیر آن لائن اخباراُردو نیٹ جاپان،ڈپٹی ڈائریکٹر پاسپورٹ امیگریشن آفیسر فواد انور بھٹی سٹیج کی زینت بنے۔نظامت بڑی امتحان کی گھڑی ہوتی ہے، خصوصاََ جب کہ اہل علم و دانش کا مجمع سامنے ہو،اہلبیت کی محفل ہو۔محرم الحرام کا مہینہ ہو اور سیدلشہدا نواسہّ رسول حضرت امام حُسینؑ کی محفل ہو ایسی محفل کی نظامت صرف سید اقبال حیدر ہی کر سکتے ہیں نے نظامت سنبھالی شہدائے کربلا کا منظوم پرسہ پیش کیا،مولانا اسد اللہ اکبری جو کسی اور مسجد میں خطاب کے لئے بلائے گئے تھے انہوں نے اپنا وائس میسج پہنچایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ حُسین رسولﷺ کی نشانی ہیں،حُسین واعظ قرآن ہے، حسین محافظ دین ہے،حسین نگہبان شریعت ہیں، حسین شاہ ہے،حسین اسلام کی دوبارہ حیات ہے،رسول اللہ ﷺکا فرمان گرامی و قول نورانی سید الشہداحسینؑ کے متعلق کہ حُسینؑ ہدایت کے چراغ اور نجات کی کشتی ہیں ،حسین سب سے عظیم ہستی ہے ناصر ناکا گاوا نے شہدائے کربلا پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حُسینؑ نے اپنے نانا کے دین کی خاطر اپنا سارا کنبہ اللہ کی راہ میں شہید کروا دیا اور اسلام کو دوبارہ زندگی عطا فرمائی، مولانا سید فرحت حسین شاہ ان کا فرمانا تھا کہ واقعہ کربلا کا غم آج بھی اس طرح ترو تازہ ہے کہ جیسے یہ واقعہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا ہے۔یہ واقعہ جب بھی بیان ہوتا ہے آنکھیں نم ناک ہو جاتی ہیں،دل تٹرپ جاتا ہے، انسان کا جسم و روح واقعہ کربلا سن کر کانپ جاتا ہے،اس کی وجہ کیا ہے یوں تو ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو سیکڑوں دکھ ہیں،پریشانیاں ہیں۔کیا دنیا میں سارے لوگ دکھی اور پریشان ہوتے ہیں نہیں قرآن کو پڑھ کر دیکھ جائے تو پتہ چلتا ہے کہ باری تعالی نے کچھ ہستیاں ایسی بھی بنائیں ہیں کہ ان کے پاس دُکھ،غم،بیماری،بھوک،پیاس،پردیس آئے،ان کے سامنے لاشیں گریں وہ معصوموں سے لے کر جوانوں تک اپنے بڑھاپے تک سب کو قربان ہوتے دیکھیں لیکن اندر جھانک کر دیکھیں تو اطمینان نظر آئے گا،اے ایمان والے نفس، مولا ہم تو تھوڑی سی پریشنانی برداشت نہیں کر سکتے یہ تیرے کیسے بندے ہیں ان کو اطمینان کیسے دیتا ہے فرماتا ہے اللہ کا ذکر ہے جو دلوں کو اطمینان دیتا ہے۔اللہ کا ذکر کیا ہے اللہ کا ذکر قرآن ہے جو قرآن والے ہوتے ہیں وہ ذکر والے ہوتے ہیں و۔تلواریں چل جائیں تیر برس جائیں نیزے کمان سب کچھ چل جائے لیکن اندر دیکھا جائے تو اطمینان ہی اطمینان نظر آئے۔ مولانا مقبول حسین علوی نے اپنے خطاب میں فرمایا ان کے گھرانے کو سلام پیش کرنا حقیقت میں حکم پروردگار ہے،کار خُدا سنت پروردگار کی ایک ادائیگی بھی ہے،آیت میں ارشاد پرور دگار ہوتا ہے۔اللہ اور اللہ کے ملائکہ اہل بیت پر درود بھیجتے ہیں،اے صاحب ایمان آپ بھی درود بھجیئے آپ بھی سلام کا حق ادا کیجیئے۔قرآن مجید میں 43 جگہ پر وقت سلام آیا ہے۔سلامُُ،سلامِن۔ سلامُن، اللہ تعالی نے سلام کو دو معانی کے لئے استعمال کیا ہے۔ایک لفظ ہے سلام۔سَرِ تسلیم خم کرنا۔ آسان اردو میں پیارا ترجمعہ بیان کیا گیا ہے،اپنے آپ کو کسی کے سپرد کر دینا۔جب جناب ابراہیم اور اسمائیل نے رب کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا لفظ ہے سلِما۔ابراہیم ہم آپ پر سلام کرتے ہیں۔اس کائنات میں کچھ ایسی ہستیاں ہوتی ہیں جن کو خُدا بھی سلام پیش کرتا ہے۔سلام کسی سے رابطہ کا ذریعہ ہوتا ہے۔علم و دانش ور حضرات تشریف فرما ہیں سلام دوسرے انسان سے ربط کا لنک کا طریقہ ہوتا ہے جو سنت مصطفی ہے۔اپنے ان روابط کو ایسے ممالک میں سے زیادہ بڑھائیئے ایسے پروگرام آپ کا ذریعہ بننا چاہیئے یہ عین مطابق اسلام ہے،آپ کو معلوم ہے پاکستان کس نازک وقت سے گزر رہا ہے،کیا مسائل رونما ہو رہے ہیں اور دشمن پاکستان کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے۔ستمبر اور پاکستان کا خصوصی تعلق ہے علامہ اقبال کی دو نظمیں ہیں بالخصوص اقبال حیدر کو بتا رہا ہوں کہ یہ ہمارے قومی سرمائے ہیں وہ مفکر پاکستان جس کی سوچوں سے ہم ایک آزاد مملکت کے مالک ہوئے ہیں اس اقبال کے ان اذہان سے نکلے ہوئے اور ان کے افکار کو دنیا والوں تک پہنچائیئے،علامہ اقبال کا جرمنی سے خصوصی تعلق ہے۔ ایک نظم قرآن علامہ محمد اقبال اور شہداء کربلا کو دیکھیئے اقبال سِرِ کربلا میں فرماتے ہیں۔ہم نے جو قرآن کے گہرے راز ہیں وہ کہیں سے سیکھے ہیں تو حسین ابن علی سے سیکھے ہیں ۔اگر حسین ابن علی نے کربلا میں حُر یت کے لئے کچھ شعلے بلند کئے تھے تو ہم مسلمانوں کا فرض یہ ہے کہ ہم ان شعلوں سے لے کر کسی دور میں بھی اگر کوئی ظالم کہیں ظلم کرتا ہے تو شعلے بن کر ان ظالموں سے ٹکراوُ کریں اور ان کا مقابلہ کریں۔اس وقت آپ جانتے ہیں کشمیر میں کیا گزر رہا ہے میں یہاں یاسین ملک کی زوجہ کا ایک جملہ نقل کر رہا ہوں۔ کوئی ہماری مدد کے لئے آئے یا نہ آئے لیکن ہم یہ اعلان کر چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کربلا بن چکا ہے اسی کربلا سے ہمیں یہ جرآت ملتی ہے کہ حسین نے سر کٹا کر دین پروردگار کو بچاتا ہے تو زینب کوفہ شام جا کر وقت کے حکمرانوں کو للکار کے۔ کہتی ہے تو اپنا کر خکومت اور تخت اور غرور استعمال کر دے ہمارا سارا کچھ اللہ کے لئے تھا یزید تو ہمیں مٹا کے دیکھ اللہ ہمیں بچا کر سامنے لائے گا۔حسین وہ ہے جو عشق کے کاروان کا سالار ہے۔رمز قرآن بھی حسینؑ سے سیکھی ہے،رمز دین بھی حُسین ابن علی ؓ سے سیکھی ہے،علامہ اقبال مکتبہ حسینی کے شاگرد ہیں۔جس نے کربلا کا سبق سب سے بہتر پڑھا ہے۔محفل کی دوسری نشست منقبت اور شاعری تھی جس میں سر فہرست سید ساجد نذیر نے منقبت کے اشہار۔ بغور سن لے زمانہ حسین ایسے تھے ،بقا فنا کو بنایا حسین ایسے تھے۔ مستجاب احمد نے بھی منقبت پڑھ کر خوب داد حاصل کی۔ آل نبی نے لکھدیا سارا نصاف لکھ دیا۔۔زبیر ترمزی نے بہت ہی پیاررے انداز میں منقبت پڑھ کر حاضرین کے دل موہ لئے۔جیسی پڑھی حسین نے تیروں کی چھاوں میں۔ایسی نماز پھر نہ ہوئی کربلا کے بعد۔ محمد سلیم بھٹی نے اپنا کلام پیش کیا۔۔ عطا الرحمن اشرف نے اپنا کلام پڑھ کر خوب داد حاصل کی۔حسین آئینہ سیرت محمدﷺ ہے۔حسین صبر قناعت ہے جاں فشانی ہے۔،پرویز زیدی نے اپنے قبیلہ کا تعارف کچھ اس طرح کروایا۔ہمارے عشق کا تعلق ہے اس قبیلے سے،جہاں کٹے ہوئے سر بھی سلام کرتے ہیں۔ اس کے بعد فوزیہ مغل،امجد شاکر،افضل قمر،سید زاہد عباس زاہد،شفیق مراد،سید اقبال حیدر،طاہر عدیم،مولانا فرحت حسین نے بھی اپنے اپنے کلام سنائے اس طرح محفل مسالمہ اپنے اختتام کو پہنچی،شرکاء محفل کو لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔ ،٭محفل کے اختتام پر ناصر ناکا گاوا بانی و مدیر آن لائن اخباراُردو نیٹ جاپان نے اپنی کتابوں کا مجموعہ پریس کلب کے ارکان کو پیش کیا٭

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے