۔،۔مظلوم کشمیری،جہاد ضروری۔اے آراشرف بیورو چیف جرمنی۔،۔


عشق قاتل سے بھی،مقتول سے ہمدردی بھی،۔۔۔۔۔۔۔،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا،
سجدہ خالق کو بھی،ابلیس سے یارانہ بھی،۔۔۔۔۔۔۔۔،حشر میں،کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا،
ہم پاکستانی بھی عجب سادہ قوم ہیں جوخود فریبی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اورہر چمکتی شئے کو سوناسمجھ لیتے ہیں اورہر اسلامی ملک کواپنا برادراسلامی سمجھ کراُنکی مصیبت میں ہر ممکن امداد کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں اور پھرسعودی عرب سے۔ خانہ کعبہ۔اوررسول اسلام ﷺ کے مسکن یعنی گنبدِ حضرہ کی وجہ سے اُنسے روحانی اورایمانی رشتہ تصور کرتے ہیں مگر بقول شاعر۔۔ہمیں اُنسے وفا کی ہے اُمید۔۔جو نہیں جانتے وفا کیا ہے۔۔یا یوں سمجھیں ہاتھی کے دانت کھانے کے اور،دکھانے کے اور۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ دنیا بھر میں ۶۵اسلامی ملک ہیں مگر ان میں سے صرف دو ہی اسلامی ملک۔ایران اور ترکی نے ہی۔بانگ دُہل۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت اور درندگی کی پُرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور ایران نے تواپنی پارلیمنٹ باقاعدہ مذمتی قرارداد بھی پاس کی۔ مگر سعودی عرب اورمسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم۔او۔آئی۔سی۔اور عرب امارات کو تو مذمتی بیان جاری کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی میرے خیال میں۔۔اقوام متحدہ۔۔کی حثیت بھی اب ایک کٹھ پتلی ادارے کی بن چکی ہے جو صرف اور صرف بڑی قوتوں کے اشارے سے ہی عملی اقدام اُٹھانے کے بارے میں سوچتی ہے اگر کسی مسئلے کے حل کیلئے اتفاق ہوبھی جائے تو۔امریکہ،روس،چین،فرانس اور برطانیہ میں سے کوئی ایک بھی اُس معاملے پر۔ویٹو۔کر دے تو مسئلہ ہمیشہ کیلئے کھٹائی میں پرجاتاہے۔ایسا ہی کشمیر کے ایشو پر ہوا دنیا بھرمیں کشمیر کا مسئلہ ایک۔آتش فشاں۔کی صورت اختیار کر چکا ہے جو کسی وقت بھی پھٹ کردنیا کی بربادی کاباعث بن سکتا ہے۔کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی جوہری قوتیں ہیں اگر ان کے درمیاں جنگ چھڑ جاتی ہے تواسکے اثرات بہت بیانک ہونگے اورپوری دنیااسکی لپیٹ میں آ جائے گی اس وقت کشمیرجل رہا ہے ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں سربازارتاڑ تاڑ کی جا رہی ہیں ظلم و بربریت اور درندگی کی انتہا ہو چکی ہے آج میں نے سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو دیکھی جسمیں بھارتی افواج کے درندے ایک زندہ نوجوان کی اسطرح کھال اُتارہے ہیں کہ اسطرح گدھیں بھی مردار پرنہیں جھپٹتیں اُس مظلوم و بیکس کی مشکیں اورپاؤں کو کس کے باندھا ہوا تھا اور مُنہ میں کپڑا ٹھونسا ہوا تھا تاکے درد کی شدت سے اُسکی آواز بھی نہ نکل سکے میں کمزور دل کا انسان ہوں اورویسے بھی مریض قلب ہوں مزید ویڈیو کو دیکھنے کی مجھ میں ہمت نہ رہی بیالیس روز ہونے کوہیں بھارتی افواج نے نوے لاکھ کشمیریوں کویرغمال بنا رکھا ہے بلکہ کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر کے اُنسے تمام بنیادی حقوق چھین لئے گئے ہیں بچے اورخواتین بھوک اورپیاس سے بلک رہے ہیں اورادویات اور خوراک کی کمی کے باعث اموات میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے بھارتی افواج نے دنیا سے کشمیر کا رابطہ منقطع کر رکھا ہے میڈیا کو بھی کشمیر میں داخل ہونیکی اجازت نہیں دنیا بھر کی بنیادی حقوق کی علم بردار تنظمیں حصوصاََ یورپ کی وہ تنظمیں جو کسی جانور پر بھی ظُلم ہوتا دیکھ کر ایک طوفان کھڑا کر دیا کرتیں ہیں اُنہیں بھارتی افواج کی کشمیری عوام پرظُلم وستم اور اُن پر کی جانے والی درندگی اور دہشت گردی کیوں نظر نہیں آتی یہ تنظمیں اس موقع پر کیوں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں یہ کیوں بھرپور اختجاج نہیں کرتیں۔ مسلم اُمہ کے حکمرانوں کاضمیرکیا مُردہ ہو چکا ہے؟کیا وہ جذبہ اور وہ قوت ایمانی اب ماند پرچکی ہے جس پر ہم مسلمان فخرکیاکرتے تھے۔اس موقع پر تو سب سے بڑی ذمہ داری اورمرکزی کردار سعودی عرب اور عرب امارات کے حکمرانوں کا بنتا تھاکہ وہ اپنے دینی اور مظلوم کشمیری بھائیوں کی امداد کیلئے کوئی عملی اقدامات اُٹھاتے مگراقتدار کی ہوس نے اُنہیں قوت ایمان سے محروم کر رکھا ہے اور اسی خوف اور ڈرنے اُنہیں امریکہ اوراسرائیل جیسے دشمناں اسلام کی بیعت کرنے پرمجبور کر رکھا ہے اور اُنکے اشارے کے بغیر یہ نام نہاد حکمران زبان کو حرکت بھی نہیں دیتے یہ تو سب جانتے ہیں کہ تمام مسلمان خواہ اُنکاکسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق ہواُنکا قبلہ خانہ کعبہ ہی ہے اور سب کاایمان سردار انبیاﷺ اللہ کے آخری رسول ﷺ حضرت محمدﷺ پر ہے ہمارے ایک جید عالم نے اپنے ایک کالم میں بخاری شریف کی حدیث ۶۹۴۶میں نقل کی ہے کہ۔ساری کائنات کے آقا ومولا حضورﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ۔جب امانت ضائع کر دی جائے،تو قیامت کا انتظار کرو،صحابہ رضوان اللہ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ امانت کیسے ضائع ہوتی ہے تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اقتدار حکومت نااہلوں کے ہاتھ میں آ جائے تو پھر قیامت کے آ نے کا انتظارکریں۔کشمیر پراب قیامت برپا ہو چکی ہے اور بھارتی دجال نے مظلوم اور بے کس کشمیری بھائیوں کا ۲۴ روز سے محاصرہ کر رکھا ہے ایسے میں جبکہ۔اقوام متحدہ۔بھی کوئی عملی قدم اُٹھانے میں یا وہاں اَمن فوج بھیجنے میں بھی ناکام نظر آتی ہے تو پھر مسلمان حکمرانوں پر لازم ہے کہ بھارتی افواج کی درندگی اور بربریت کو روکنے کیلئے جہاد کا اعلان کر دیں پھر دیکھیں بھارت کو کشمیر کے ساتھ ساتھ دہلی سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے اور دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمان سروں پر کفن باندھکر شوق شہادت میں ایک دوسرے سے سبقت لیتے ہوئے کس طرح کشمیر کو بھارتی جارحیت سے نجات دلاتے ہیں حکومت پاکستان نے کشمیر کے ایشو پر بھارت کو باربار مذاکرات کی دعوت دی ہے مگر ہر بار وہ مذاکرات سے گریز کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اُسے بُری طرح مسترد کر دیں گے اس لئے وہ طاقت کے زور سے تحریک آزادی کو دبانے کیلئے ظُلم وبربریت کی داستانیں رقم کر رہا ہے مگرپیروکاران حسینؑ کی آزادی کی اس تحریک کو وہ کبھی دبا نہ پائے گا اور جلد وہاں ہلالی پرچم لہرئے گاانشاء اللہ۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے