۔،۔قلم کاروان،اسلام آباد۔ڈاکٹرساجدخاکوانی ۔،۔

منگل مورخہ 17ستمبر2019 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر1اسٹریٹ 38،G6/2اسلام آبادمیں منعقد ہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں ”عزم نفاذاردو“کے عنوان سے مشاعرہ طے کیاگیاتھا۔جڑواں شہروں کے بزرگ شاعرجناب نسیم سحر نے صدارت کی اورانجینئر(ر)نصراللہ رندھاوا،امیرجماعت اسلامی ضلع اسلام آبادمہمان خصوصی تھے۔نشست کے آغازمیں قاری عبدالواجد نے تلاوت قرآن مجیدکی،جناب احمدمحمودالزماں نے اپنی ایک نعت سنائی،ریڈیوپاکستان کی معروف نعت خوان وریشہ اظہر نے بھی اپنی خوبصورت آواز میں ہدیہ نعت شریف بحضورسرورکونین ﷺ پیش کیا،نوجوان طالب علم عبدالرحمن خان نے مطالعہ حدیث نبویﷺپیش کیااورجناب پروفیسرعاقل شہزاد نے سابقہ نشست کی کاروائی پڑھ کرسنائی۔باقائدہ مشاعرے سے قبل صدرمجلس کی اجازت سے جناب کوکب اقبال ایڈوکیٹ(سپریم کورٹ)،رفیق قریشی صدر تحریک نفاذاردوراولپنڈی اورعطاالرحمن چوہان،صدر تحریک نفاذاردوپاکستان نے بھی خطاب کیا۔مقررین نے پاکستان میں قومی زبان کے نفاذپراپنے خیالات کااظہارکیااور بتایا کہ کس طرح سے پاکستان کی عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے سے قومی زبان کے نفاذکی راہ آسان کی۔مقررین نے بتایا کہ وطن عزیز کی پست ترین تعلیمی حالت کی وجہ یہی ہے کہ یہاں قومی زبان کی بجائے غلامانہ بدیسی زبان میں تعلیمی دی جاتی ہے جس سے نسل نو کی تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہیں،انہوں نے مطالبہ کیاکہ پاکستان مین مقابلے کے تمام امتحانات صرف قومی زبان میں لیے جائیں۔مشاعر کی نظامت سیدمظہرمسعود نے کی جب کہ مشاعرے میں طاہرفاروق بلوچ،پروفیسرعاقل شہزاد،شہزادمنیراحمد،عبدالرازق عاقل،تمناشیراز،ڈاکٹرمظہراقبال،پروفیسرسبیل یونس،فرحانہ علی،جیاقریشی،پروفیسرناصرعلی ناصر،اکرم الوری،بشری حزیں،نعیم اکرم قریشی،احمدمحمودالزماں،عبدالقادرتاباں اوراسلم ساگرنے اپنااپناکلام سنایا۔شعرانے بڑے جوش و خروش سے عزم نفاذاردوپر اپنے اپنے کلام سنائے اور بعض شعرانے اپنے جذبات کے اظہارکے لیے مختصرتقاریربھی کیں اور اپنی تقاریرمیں انہوں نے کہاکہ قائداعظم کے فرمان،دستوری تقاضے اور عدالت عالیہ کے فیصلوں کے احترام میں پاکستان میں فوری طورپر قومی زبان کوتعلیمی و دفتری و عدالتی وجملہ سرکاری و نجی امورمیں نافذ کردیناچاہیے۔جناب احمد محمودالزماں نے نفاذاردوپر اپنالکھاہواایک ترانہ بھی پیش کیا۔متعدد شعرانے کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم پر بھی اپنے اشعاراورنظمیں پیش کیں۔مشاعرے کے اختتام سے قبل پروفیسرآفتاب حیات نے قلم کاروان کے تحت ہونے والے تحریری مقابلے کی تفصیلات بتائیں جن کے مطابق نویں اوردسویں کے بچوں کے درمیان سیرت النبیﷺ کے موضوعات پر یہ مقابلہ کرواناطے پایاہے جس میں جیتنے والوں کوانعامات بھی دیے جائیں گے۔صدر مجلس جناب نسیم سحرنے اپناکلام سنانے سے پہلے قلم کاروان کے ذمہ داران کوایک اچھوتے قومی وملی موضوع پر اتنے کامیاب مشاعرہ کے انعقادپرمبارک بادپیش کی،انہوں نے شعراکی بھی تعریف کی جنہوں نے مختصروقت میں روایتی موضوعات سے ہٹ کے ایک نئے موضوع پراتنے شاندارکلام پیش کیے۔انہوں نے اپنی نظم سنائی جسے شرکاء نے بے حد پسند کیا۔اس کے بعد صدرنشین قلم کاروان ڈاکٹرساجدخاکوانی نے تمام شرکائے نشست کا عمومی و خصوصی طورپر شکریہ اداکیا اوراس کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیرہوگئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے