۔،۔محفلِ مسالمہ طرحی نشست۹۱۰۲ء۔اے آراشرف۔،۔


۔بیادسیدالشہداامام حسینؑ۔مصرح طرح،حسینؑ آیہ تطہیر کی جوانی ہے۔
شاہ است حسین،بادشاہ است حسینؑ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دین است حسینؑ،دین پناہ است حسینؑ،
سرداد نہ داددست، کہ، در دست یزید،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حقا کہ بنائے لا الہ ، است حسینؑ،
مسلم اُمہ کی بیٹی مخترمہ مثال ملک چیخ چیخ کردنیا اسلام کے بھائیوں سے دردمندانہ اپیل کر رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر اب کربلا کا منظر پیش کر رہا ہے اورامام حسینؑ کی وہ آواز جو اُنہوں نے یزیدی شکریوں کے درمیان بلند کی تھی کہ،۔کوئی ہے جو مجھ غریب کی مدد کرے۔وہ اب کشمیر کے قریہ قریہ میں گونج رہی ہے لیکن صد افسوس کہ وہ عرب ممالک جو اسلام کی علمبرداری کو دعویٰ کرتے نہیں تھکتے وہ کشمیری بھائیوں کی مددکرنے کیبجائے مسلمانوں کے جانی دشمن یزیدثانی نریندر مودی کوخون کی ہولی کھیلنے کے انعام میں اعلیٰ ترین ایوارڈ دیکر کشمیریوں کے زحموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ کچھ قدرت کے ایسے کام ہوتے ہیں جو وہ اپنے مخصوص بندوں کے ذمہ لگا دیتا ہے امربلمعروف اور نہی عَنِ اِلمنکرکو دین اسلام میں بہت ہی اہمیت دی گئی ہے اوراسے دین کا لازمی جُز بھی قرار دیا گیاہے تاکے مسلم اُمہ میں جو فتنے سر اُٹھاتے ہیں اُنکا قلع قمع کیا جاسکے اور اُنہیں اتحاد و یکجہتی کی ترغیب دی جا سکے اور ا سی جذبے اور مقصد کے حصول کیلئے شاید ہیومن ویلفیر ایسوسی ایشن کے چیرمین سید اقبال حیدر نے ہمیشہ کی طرح اس سال بھی مولانا مقبول حسین علوی کی زیر صدارت امام عالی مقام علیہ السلام کی یاد میں محفلِ مسالمہ اور طرحی مشاعرہ کا اہتمام کیا جس میں تمام مکتبہ فکرکے جید علما اکرام اور اُنکے مقلدین کو پرچمِ حسینیؑ تلے جمع ہو کر تمام فقہی اختلافات بُھلا کر حسینیؑ اسوہ حسنہ کو مشعل راہ بنا کر مقبوضہ کشمیر جیسی دیرینہ تحریک آزادی میں اپنا اپنابھر پور کردار ادا کرنے کی دعوت دی ہے۔دین اسلام میں اس شق کے نفاذ کا مقصد ہی معاشرہ میں پھیلی بُرائیوں کو روکنا اوراچھے اعمال کی دعوت دینا ہے۔حدیث قدسی ہے کہ بُرائی کو ہاتھ سے روکو اور ضرورت پڑے تو تلوار استعمال کرو اگر یہ نہ کر سکو تو کم ازکم دل میں ہی بُرائی کوبُرا ضرور جانو اور یہ ایمان کا کم ترین درجہ ہے۔امام عالی مقامؑ نے جب دیکھا کہ فاسق و فاجر یزید پلید احکام خدا و رسولﷺ اوردین اسلام کے زریں اصولوں سے منحرف ہو کر اُنکا کھلم کھلا مذاق اُڑا رہا ہے اور طاقت کے نشے میں کسی کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے جید اصحابہ کو اُسکی بیعت نہ کرنے کے جرم میں موت کے گھاٹ اُتار رہا ہے توآپؑ نے حق کے پرچم کو بلند کرکے فاسق و فاجر یزید پلید سے ہاتھ ملانے کی بجائے اپنی اور اپنے عزیز و اقربا کی قربانی دیکر ناناﷺ کے دین کو بچا لیا۔ جیسا کے ہم سب جانتے ہیں کہ بھارت کے یزیدنریندر مودی نے دہشت گردانہ اور جارحانہ انداز سے مقبوضہ کشمیر کی حصوصی حثیت ختم کرکے اُسے اپنی ریاستی دہشتگردی سے بھارت کا حئصہ قرار دینے کی ناکام کوشش کی ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے اُسنے ۲۵ روز سے واد ی ِکشمیر میں کرفیو لگا رکھا ہے اور اس دوران مظلوم و بیکس کشمیریوں پرظُلم وستم، درندگی اور بربریت کی ایسی ایسی مثالیں رقم کر رہا جسے دیکھ کر ہٹلڑ اور ہلاکو خان کی روحیں بھی قبروں میں کانپ اُٹھی ہونگی ہماری ماؤں،بہنوں اور بہو بیٹیوں کی عزتیں پامال کی جا رہی ہیں مگر افسوناک امر یہ ہے کہ ابھی تک نہ تو اقوام متحدہ ۔اور نہ ہی اقوام عالم کی بڑی قوتوں نے مظلوم کشمیریوں کی حمائت میں کوئی عملی اقدام اُٹھایا ہے اور نہ ہی اقوام عالم نے بھارتی دہشت گردی کیخلاف کوئی مُثبت قدم اُٹھایا ہے۔اقوام متحدہ کو اگر مظلوم کشمیریوں کی مدد کا کچھ خیال ہوتاتوکم از کم کشمیریوں کی داد رسی کیلئے امن فوج ہی بھیج دینی چاہیے تھی تاکہ بھارت خون کی ہولی کھیلنے سے تو باز آتا۔جہاں تک امام عالی مقامؑ کی ذات گرمی قدرؑ کی سیرت کا تعلق ہے اُس طاہر ومطاہرہستی کے بارے میں انسان کیا لب کشائی کرنے کی جسارت کر سکتا ہے جسے رب ذوالجلال اپنا نفسِ مطمعنہ کہے اور کائنات کا مرسل اعظمﷺیہ کہے کہ۔حسینؑ مجھؑ سے ہے اورمیں ؑ حسینؑ سے ہوں۔جو عین سجدہ کی حالت میں پشت رسولﷺ پر سوار ہو جائے توآقاؑ ذکر کو طویل کر دیں اور جبتک امامؑ پشت مبارکہ سے نہ اُتریں حضورﷺ سجدے سے سر نہ اُٹھائیں۔جن پاک و پاکیزہ نفوس کیلئے عرش سے پوشاکیں آئیں جو۔ راکبِ دوش رسولﷺ ہوں جوسرداراں جنت ہوں جس کیلئے ہمارے ہادی و مولاﷺ اپنے بیٹے کو فدیہ کر دیں بھلا اُسکی شان و عظمت کو ہم جیسے کم فہم خاک سمجھ پائیں گے اُس کے بارے میں ہم جیسے لکھاریوں کی کیابساط ہے بلکہ کائنات میں کون ہے جو حسینؑ کی ذات کو سمجھ سکتاہے۔ جان سکتا ہے۔لکھ سکتا ہے۔بیان کر سکتا ہے۔ہم جیسے قلم کار قیامت تک لکھے جائیں،پڑھے جائیں اور سُنے ج جائیں توبھی حسینؑ کی عظمت کے باب اول کی ایک فصلِ بہار بھی مکمل نہ کر پائیں گے آج کی تقریب کے مہمان حصوسی جناب ناصر ناکا گاوا نے کہا کہ حسینؑ نے اپنی اور اپنے عزیز و اقربا کی قربانی دیکر اپنے ناناﷺ کے دین کو بچایا۔ ادارہ منہاج القران فرانکفرٹ کے امام سید فرحت حسین نے کہا کہ خدا نے امام حسینؑ کو اپنا نفس مطمعنہ کہا اور آقاﷺ نے فرمایا میرا حسینؑ سفینہِ نجات اور چراغ ہدائت ہے۔مولانا مقبول حسین علوی نے کہا جن نفوس مقدسہ پر اللہ تعالیٰ اور اُسکے فرشتے درود بھیجتے ہیں اور ساتھ میں سب ایمان والوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ بھی محمدﷺو آل محمدﷺ درود بھیجیں تو ایسی طاہر و مطاہر ہستیوں کی عظمت و توقیر کی معرفت عام انسان کے بس کی بات نہیں انہوں نے کہا علامہ اقبال نے اپنی ایک نظم میں اعتراف کیا ہے کہ میں نے قرآن پاک کے گہرے راز حسینؑ ابن علیؑ سے سیکھے ہیں حسینؑ نے کربلا میں حریت کے ایسے نقوش چھوڑے ہیں جن کو مشعل راہ بنا کر ہر دور کے یزید کا سر کچلا جا سکتا ہے۔تقریب کی دوسری نشست منقبت خوانوں اور جرمنی کے معروف شعرا کی تھی۔کالم میں اتنی گنجائش نہیں کہ شعرا کا کلام نقل کیا جا سکے جن شعرا نے طرحی مصرع پر قلم اُٹھائی اُن میں سید اقبال حیدر۔جناب طاہر عدیم۔مخترمہ فوزیہ مغل۔جناب شفیق مراد۔جناب امجدشاکر،جناب افضل قمر۔سیدزاہد عباس زاہد۔مولانا فرحت عباس۔جناب سلیم بھٹی اور عطاالرحمان اشرف شامل ہیں بزرگ شاعر سید مشیر کاظمی مرحوم نے کیا خوب کہا تھا۔حسینؑ تیرا،حسینؑ میرا،۔۔حسینؑ سب کا،حسینؑ رب کا،۔پھر جناب جوش مرحوم کا صد بہار شعر حسینؑ کی عظمت کی دلیل اوراتحاد مسلم اُمہ کا ضامن ہے۔۔انسان کو بیدار تو ہو لینے دو،۔۔ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ،۔۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے