۔،۔ اللہ تعالی شیخ مظفر الحسن کی قبر پر ہمیشہ اپنی رحمتیں نازل فرماتے رہیں (آمین)۔نذر حسین۔،۔


٭جو رات بھاری تھی ٹل گئی،جو دن کڑا تھا گزر گیا۔صدا رہے نام اس کا پیارا سنا ہے کل رات وہ مر گیا٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ نذر حسین۔ مرحوم شیخ مظفر الحسن کا انتقال علمی و ادبی دنیا کا ایک سانحہ تھا،اس شخص نے عمر بھر ادب و صحافت کی خدمت کی تھی جس کی مثالیں کم ملتی ہیں، جن افراد سے اردو کی آبرو برقرار ہے وہ رفتہ رفتہ اٹھتے جا رہے ہیں مرحوم شیخ مظفر الحسن کی قد آور شخصیت ادب اور صحافت کی دنیا میں بے مثال تھی اس کی تلافی نا ممکن ہے وہ مرد مجاہد بغیر کسی تکلف کے ہر وقت سچ لکھنے کے عادی تھے اپنے عزیز سے عزیز دوست کو بھی اس کے سامنے کہہ دیتے تھے میاں یہ بات آپ نے غلط کہی۔پاکستان جرمن پریس کلب جرمنی کی بنیاد رکھنے والوں میں سے تھے آج بھی ان کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ حضرت ابن سماک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرا گزر قبرستان سے ہوا تو ایک قبرپر لکھا تھا ٭میری قبر سے میرے رشتہ دار گزر جاتے ہیں گویا میرے اقارب مجھے جانتے ہی نہیں ٭حضور اکرمﷺ کا فرمان ہے جب تم میں سے کسی کی موت جس زمین پر لکھی ہوتی ہے تو اسے اللہ تعالی کسی نہ کسی بہانے وہاں بھیجتا ہے اور اس کی روح وہاں نکلتی ہے تو بروز محشر زمین یہ کہے گی کہ یاا لہی۔یہ تیری امانت ہے۔میری دُعا ہے کہ ٭اے اللہ، اے یکتا اے کرم کرنے والے، اے بہت دینے والے اے بخشش کرنے والے اے بے پرواہ اے بے پرواہ کرنے والے،اے تمام چیزوں کے جاننے والے، آسمانوں اور زمین کے بلا نمونہ پیدا کرنے والے، اے بزرگی اور عظمت والے، اے بہت زیادہ مہربان،احسان اور اپنی طرف خوشبو عطا کرنے والے۔اے دوبارہ زندہ کرنے والے، اے عرش کے مالک، اے بہت زیادہ محبت کرنے والے، جس ذریعہ سے تو نے اپنے کلام کی حفاظت کی اسی طرح تو مرحوم شیخ مظفر الحسن کی قبر میں حفاظت فرمانا، اس کی قبر کو مرحوم شیخ مظفر الحسن کے لئے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دینا۔جس طرح تو نے اپنے رسولوں کی مدد فرمائی ایسے ہی مرحوم مظفر الحسن کی قبر میں مدد فرمانا تو ہر چیز پر قادر ہے۔آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک جتنے مسلمان بھی فوت ہو چکے ہیں سب کو اپنی امان میں جگہ عطا فرمانا۔آمین۔ثم آمین۔دُعا گُو۔ نذر حسین۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے