۔،۔ عراق میں حکومت مخالف احتجاج میں 44افراد ہلاک۔،۔

شان پاکستان بغداد عراق۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بغداد میں کرفیو کے نفاذ کے باوجود عراق میں اپوزیشن جماعتوں کے حکومت مخالف مظاہروں میں شدت فرقرار ہے متواتر کرفیو کے باوجود 3دن سے جاری احتجاج میں ہونے والی جھڑپوں کے درمیان رپورٹ کے مطابق ابھی تک 44 ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں۔مظاہرین یہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں کہ ہزیر اعظم مستعفی ہو جائیں۔عراق میں تیسرے روز بھی ہزاروں افراد نے مختلف شہروں میں حکومت کے خلاف مظاہرے کیے اور مطالبہ کیاکہ کابینہ مستعفی ہوجائے۔پولیس فائرنگ، شلینگ اور لاٹھی چارج میں مزید افراد مرگئے۔ 900سے زائد زخمی ہیں۔حکومت نے دارالحکومت بغداد، نجف، ناصریہ، امارہ،ھلا اور دیگر شہروں میں احتجاج کے بعد کرفیو لگادیاہے۔ایک ہفتے قبل کرپشن، بے روزگاری اور بدانتظامی کے خلاف ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے تھے تاہم مظاہروں میں شدت اس وقت آئی جب عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی المنتفكي نے کرفیو نافذ کر کے مظاہرین کو طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کی کوشش کی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کے استعمال کے ساتھ ساتھ فائرنگ بھی کی۔ادھر وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے مظاہرین سے کہا ہے کہ اُن کے مطالبات سُن لیے گئے ہیں اور اب وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ کرفیو کے نفاذ جیسے مشکل اور کڑے فیصلے ملک کی سلامتی کے تناظر میں کیے گئے جس کا مقصد مظاہرین سے سیاسی پرخارش نکالنا ہرگز نہیں تھا۔دوسری جانب سے مظاہرین نے کرپشن کے خاتمے، روزگار کی فراہمی اور کرپٹ وزرا کی برطرفی تک احتجاج ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مطالبات سُن لینا کافی نہیں، مطالبات کی منظوری تک سڑکوں پر احتجاج جاری رہے گا۔واضح رہے کہ پیشے کے لحاظ سے ماہر معیشت وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے گزشتہ برس اکتوبر میں منصب سنبھالا تھا وہ اس سے قبل عبوری حکومت میں وزیرخزانہ بھی رہے اور 2005 سے 2011 تک عراق کے نائب صدر اور 2014 سے 2016 تک وزیر تیل کی ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے