۔،۔اساتذہ کامقام ۔ چوہدری محمدالطاف شاہد۔،۔ پہلی قسط

آج ہم جوبھی ہیں،وہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت اورہمارے ماں باپ کی دعاؤں کے بعد ہمارے اساتذہ کی انتھک محنت اورمحبت کاثمر ہے۔جو انسان اپنے اساتذہ کامقام نہیں پہچانتا اوران کااحترام نہیں کرتا تاریخ اسے یاد نہیں رکھتی۔میں آج بھی اپنے اساتذہ سے قلبی عقیدت رکھتااوران کی صحت وتندرستی اورسلامتی کیلئے خصوصی دعاکرتاہوں۔”ہم نے اساتذہ کو ملک کے سرکاری ملازمین میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والا پیشہ بنایا ہے تاکہ بہترین اور قابل ترین لوگوں کو اس پیشے کی طرف راغب کیا جا سکے۔ اساتذہ پر سرمایہ کاری کرنے سے ہی تعلیمی معیار میں بہتری آسکتی ہے۔ ہم اس پر کام کر رہے ہیں بچوں کو درسی کتب اور امتحانات تک محدود نہ رکھا جائے ہماری تعلیم کا ہدف بچّوں کو معلومات اور چند مہارتوں تک کی رسائی دینا نہیں ہے ہم یہ یقینی بنا رہے کہ بچے کو اچھا انسان بنایا جا سکے جن کے اندر رحمدلی، ہمدلی اور ماحول کیلئے عزت جیسے احساسات ہو۔ ہم اپنے سکولوں میں ایسے اسباق متعارف کرا رہے ہیں جس میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق عملی اسباق ہو تاکہ ہر بچہ ماحولیاتی ماہر بن سکے۔”یہ بھوٹان کے و زیر اعظم کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہے گئے وہ الفاظ ہیں جو اس قوم کے روشن مستقبل کی نوید سنا رہے ہیں۔ 5اکتو بر کا دن ہر سال آتا ہے اور ہماری قوم سوشل میڈیا پر سلام ٹیچرز ڈے منا نے میں جس جوش و خروش کا مظاہرہ کرتی ہے وہ دیدنی ہوتا ہے جبکہ سال کے باقی دنوں میں اسی استاد کوکبھی ہتھکڑیوں میں جکڑا دکھایا جاتا ہے اور کبھی اس پر بچوں پر تشدد کے الزامات لگا کر سخت سزائیں سنانے کی نوید سنائی جاتی ہے۔کبھی کسی نے استاد کے نہ باطن میں جھانکنے کی سعی کی ہے اور نہ ہی اس کے مسائل کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے اور اگر میرے جیسا کوئی دل جلا کسی روحانی باپ کے حق میں آواز اٹھاتا ہے تو جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ کیا اساتذہ تنخواہ وصول نہیں کرتے۔کسی بھی معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے خدمات سر انجام دینے والے افراد اس قوم کے نہ صرف محسن ہوتے ہیں بلکہ ان کے مقام کا تعین بھی وہی معاشرہ کرتا ہے نہ کہ آسمان سے فرشتے اترتے ہیں۔ معّلم بھی معاشرے کا ایک ایسا کارآمد فر داور زمانہ شناس جوہری ہے جو ناکارہ اور کند ذہن افراد کو بھی قوم کا مفید فردبنا کر ہمیشہ زندہ و جاوید ہو جاتا ہے لیکن آج مجھے سرورکونین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے کی حقیقت کا اس وقت ادراک ہوا جب میں نے فہرست میں چین جیسے کمیونسٹ اور ملحد ملک کو پہلے نمبر پر برا جمان دیکھا اور اس کے بعد ایشیاء کے ٹائیگر ملائشیاء کو اس فہرست میں ددوسرے نمبر پر پایا تو مہا تیر محمد کی کامیابی کا راز بھی پا لیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اہل خرد صرف ٹائیگر بننے کا خواب ہی دیکھتے رہء جبکہ مہاتیر محمد نے اس حقیقت کو پا لیا کہ میری قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ اساتذہ کو سب سے زیادہ تنخواہیں نہ دے اور معاشرے کے اعلی سنگھاسن پہ نہ بٹھائے۔ اس فہرست میں موجود35 ممالک میں اپنے وطن عزیز کا نام نہ دیکھ کر پہلے تو مجھے جھٹکا لگا لیکن ساتھ ہی اپنے گریباں میں جھانکنے کا وقت ملا تو سوچنے لگا کہ شاید ہم وہ بدقسمت قوم ہیں کہ جہاں بھی ہم نے معاشرتی، معاشی اور صنعتی ترقی کا خواب دیکھا، ہمارے پالیسی ساز اور غدّار صفت افسران یوں آڑے آئے کہ “مار نہیں پیار” جیسے دلکش نعروں سے والدین کو بہلا پھسلا کر غلط سمت میں رہنمائی کرنے لگے۔ سلام ٹیچرز ڈے منانے والی قوم کے ٹیچرز کی تکریم کو ہی لے لیں، ہم تکریم اساتذہ میں پہلی 36اقوام عالم میں ہی نہیں ہیں اور ہم وہ قوم ہیں جس کے دین کی ابتداء ہی اقرا ء کے لفظ سے ہوئی۔ جس میں واضح طور پر علم رکھنے والوں اور جاہلوں کے مقام تعین کر دیا دیا گیا ہو آج اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ تعلیمی سہولیات کے لحاظ سے دنیا کے تمام ممالک میں ہمارادرجہ 94ہے۔ ہمارے دین اسلام نے جہا ں تعلیم کو اہمیت دی وہاں ہادی برحق نے خود کو بطور معلم کہہ کر ایک استاد کا درجہ اتنا بڑھا دیا ہے جس کی مثال کسی بھی مذہب میں نہیں ملتی۔ سورۃ آل عمران میں ارشاد ربانی ہے استاد اور معلم کی ہستی کس قدر عظیم خصوصیات کی حامل ہے،اس کااندزاہ ارشادات باری تعالیٰ سے لگایا جاسکتا ہے ِ”حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنین پربڑا احسان فرمایا کہ ان کے درمیان انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائے اور انہیں پاک صاف کرے اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے۔

 

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے