۔،۔تقریراورتدبیر ۔ چوہدری محمد الطاف شاہد۔،۔


عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جوحالیہ شہرہ آفاق تقریرکی اسے اندرون وبیرون ملک خوب سراہا گیا مگر کشمیر کی آزادی کیلئے تقریر کافی نہیں بلکہ ریاست کو درست اوردوررس تدبیر کرناہوگی،اگرہم تدبراورتدبیرکی بات کریں توجنرل(ر) پرویزمشرف نے کارگل کی صورت میں کشمیر کی آزادی کیلئے جوانتہائی موثرتدبیر کی تھی اس کی تاثیرکاضیاع نوازشریف کے ہاتھوں ہواتھا،شنید ہے پرویزمشرف نے قومی سیاست میں اپنامتحرک اورموثرکرداراداکرنے کافیصلہ کرلیا ہے،ہماری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔اقوام متحدہ سے واپسی کے بعد سے عمران خان کشمیر ایشوپرخاموش ہیں،ان کی خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے۔ عمران خان نے اپنے حامیوں کواپناگرویدہ بنالیا مگر مقتدرقوتوں کے سینے میں دل نہیں پتھر ہیں ہماری موم بتیوں سے ان کے پتھر نمادل موم نہیں ہوں گے۔عمران خان کی تقریر دنیا بھر میں غور سے سنی گئی، قوتوں کو مخاطب کیا جا رہا تھا ا ن کے چہروں سے دردعیاں تھا۔یقینا اس تقریر کو امریکہ اور بین الاقوامی میڈیا نے نمایاں جگہ دی ہوگی۔ اس تقریر سے اسلام فوبیا میں کمی آ ئے گی یامزید شدت اس امرکافیصلہ وقت پرچھوڑدیتے ہیں۔اسلام فوبیا کی اصطلا ح کے موجد مہذب دنیا کے دانشور، یونیورسٹیوں کے پروفیسر اور تھینک ٹینک شدید دماغی اضطراب سے دو چار ہیں۔ عمران خان نے ایٹمی جنگ کے بارے میں ذکر کیا ہے اور کہا دنیا بھارت کے ساتھ تعلقات محض تجارت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اخلاقیات اورانسانیت کی بنیادوں پر استوار کرے۔ جس میں بھارت کا ریکارڈ کبھی اچھا نہیں رہا۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، میں عمران خان کی اس بات کی حمایت کرتا ہوں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی دنیا میں ایران، ترکی، ملائشیا کے سواکوئی ملک دوٹوک اندازمیں کشمیر کے حوالے سے ہمارے قومی موقف کی حمایت نہیں کر رہا ہے۔عمران خان سے قبل بھی ان کے پیشرووزرائے اعظم نے تحریک ساز تقریر یں کی ہیں،پاکستان کے منتخب حکمرانوں میں سب سے ذوالفقار علی بھٹو تقریرپاکستانیوں کوآج بھی یاد ہے،انہوں نے کاغذات پھاڑے اوروہ اجلاس چھوڑ کر چلے آئے مگر اس کاکوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ جنرل ضیاء الحق نے تقریر کی جس کو پاکستان کے میڈیا نے تاریخ ساز قرار دے دیا اور کہا گیا کہ موصوف نے عالم اسلام کی ترجمانی کی اور اقوام متحدہ اور مغرب کو آئینہ دکھا دیا ہے، بینظیر بھٹوکی دانش اور لیاقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا،انہوں نے 1996ء میں اقوام متحدہ کے اندر کشمیر کے موضوع پر انتہائی پراثرخطاب کیا مگر بے نتیجہ رہا۔ ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد اور ترکی صدر جب طیب اردوان جدید عالمی اسلام کے درخشندہ ستارے ہیں دونوں نے اپنے ملکوں کی معاشی اور معاشرتی حالت بہتر کی ہے۔ عمران خان نے ان سے ملاقات میں مشترکہ طور پر اسلامی چینل شروع کرنے کے بارے میں بات کی جس سے اسلام فوبیا بارے میں مغربی تعصب کو دور کرنے کیلئے متبادل بیانیہ تیار کیا جا سکے، یہ ذمہ داری تو او آئی سی کی تھی اس کے چارٹر میں یہ اقدام شامل تھا، ایک اسلامی یونیورسٹی بھی قائم کی گئی تھی اس کے بعد مشترکہ ریڈیو اور ٹی وی کی طرف جانا تھا مگر عرب دنیا اس سے علیحدہ ہو گئی جس نے اسلام سے سب سے زیادہ سیاسی اور مالی مفادات حاصل کیے تھے 9/11کے بعد اسلام فوبیا زیادہ تیز ہوا جس میں عرب ملکوں کے نوجوان پیش پیش تھے ان میں کوئی ترک، کوئی افغان، کوئی ملائشیائی یا پاکستانی شامل نہیں تھا لیکن اس کا سب سے زیادہ خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑا آج مغربی میڈیا کا جواب دینے کیلئے ہمارے پاس کوئی تھینک ٹینک موجود نہیں ہے جو نظریات اور مسلک سے بالا تر ہو کر اپنی غیر جانبدارانہ رائے سے اسلام کے فطری تشخص کو اجاگر کر سکے، آج اٹھارہ سال کے بعد اس ٹیلی ویژن کی ضرور محسوس ہو رہی ہے سوال یہ ہے کیا اسلام فوبیا کا مقابلہ صرف ٹیلی ویژن سے کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ٹیلی ویژن پر جس معیار کے پروگرام پیش کیے جاتے ہیں جن کو دیکھ کر قاری کو ندامت ہونے لگتی ہے ایسے میں ایک متحرک چینل کا انعقاد خاصا کٹھن محسوس ہوتا ہے یاد رہے ایسے بین الاقوامی چینلز کیلئے خبریں، رپورٹیں، تجزیے اور پروگرام تیار کرنے کیلئے تجربہ کار افراد اور جہاندیدہ شخصیات کی ضرورت ہے جن کا امریکہ اور یورپ کے سماجی تاریخی اورتبدیل ہوتے ہوئے عالمی امور بارے درست تجزیہ کرنے کی صلاحیت ہو اور وہ سنجیدہ تحقیقات کر سکیں۔ پاکستان ملائشیا اور ترکی کی یونیورسٹیوں کے سکالر کے درمیان مطالیاتی رابطوں بلکہ دوروں کی ضرورت ہوگی، مسلمان ملکوں کے علاوہ یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں جید اسلامی سکالر زموجود ہیں۔ اسلام فوبیا پر یورپ اور امریکہ میں تحقیقات ہو رہی ہے زیادہ تر اسے ذہنی مرض قرار دے رہے ہیں اس کا باقاعدہ نفسیاتی علاج تجویز کیا جا رہا ہے۔تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو کفار میں اسلام کا خوف ظہوراسلام کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا لیکن اسلامی تعلیمات اور اس پر عملدرآمد نے خوف کو دور کیا لوگ جوق درجوق اسلام کے دامن میں داخل ہوتے رہے۔ اسلامی ممالک اس ضمن میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھا رہے بھارت کے اسلام فوبیا کے حوالے سے نفرت انگیز پرو پیگنڈے کا بھرپورجواب دینا ہے۔ عمران خان نے اسلام فوبیااورمسئلہ کشمیر پر جو کچھ کہا وہ انتہائی جراتمندی اورآبرومندی کے ساتھ کہا، ان سے کوئی اس طرح دبنگ تقریرکا تصور نہیں کر سکتا تھا، انہوں نے انسانی حقوق کی خوفناک خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے ہندو توا کی انتہا پسندی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جس سے بظاہر سیکو لرازم کا نقاب اوڑھ رکھا ہے عمران خان نے کسی گھس بیٹھیے کی سرحد پر در اندازی کو کشمیریوں اور پاکستان سے دشمنی کے مترادف قرار دے کر دوہرے معیار والے بیانیہ سے اپنے دامن کو بچا لیا ہے جس پر کسی کو اعتماد نہیں تھا عمران خان نے کشمیریوں کی ممکنہ مزاحمت، بھارتی افواج کے ہاتھوں آئندہ کشمیریوں کے قتل عام، پلوامہ طرز کے ڈرامے، ممکنہ جنگ اور نیو کلیئر تباہی کے خدشات کا اظہار کیا اور عالمی برادری کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف مبذول کروائی ہے۔ ویسے بات چیت کیلئے عمران خان نے شرائط تو حقیقت پسندانہ رکھی ہیں کہ وادی کشمیر سے کرفیو اور پابندیوں کو اٹھایا جائے اور گرفتار شدگان کوفوری طورپر رہا کیا جائے تو پھر ڈائیلاگ ہوسکتا ہے۔ اس بات کو امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا ء ایلس ویلز نے بھی دوہرایا ہے۔ ہماری دعاؤں اوروفاؤں کامحوراہل کشمیر ہیں،آؤاللہ رب العزت کی پاک بارگاہ میں دست دعادرازکریں ہمارے معتوب کشمیری بھائی بہنوں کو آزادی،سربلندی،سرفرازی،سروری،برتری،عزت،عظمت اور سکھ کا سانس نصیب ہو۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے