-,-اساتذہ کا مقام۔چوہدری محمد الطاف شاہد۔دوسری قسط -,-


سنا ہے کہ ایک بار مشہور یو نانی فلاسفرارسطواوراور اس کا شاگرد سکندراعظم سفر کر رہے تھے کہ راستے میں ایک بڑا برساتی نالہ آیا جو سیلاب کی وجہ سے بپھرا ہوا تھا۔سکندر نے کہا کہ اس طوفانی نالے کی دوسری طرف پہلے وہ جائے گا لیکن ارسطو بضد تھاکہ پہلے میں نے اسے پار کرنا ہے آخرکار ارسطو نے ہار مان لی اور سکندر نے بپھری ہوئی ندی میں چھلانگ لگائی اور اسے بحفاظت عبور کرلیا، جب معّلم اور متعّلم نے نالہ پار کرلیا تو ارسطو نے غصہ سے سکندر سے پوچھا کہ “کیا مجھ سے پہلے یہ نالا پار کرکے میری بے عزتی نہیں کی؟”سکندر نے انتہائی ادب سے جواب دیا، “استادِ محترم! دراصل ندی میں شدید سیلاب تھا اور میں یہ تسلی کرنا چاہتا تھا کہ کہیں آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے، کیونکہ ارسطو زندہ رہے گا تو ہزاروں سکندرِ اعظم وجود میں آ جائیں گے لیکن سکندر اپنے استاد محترم جیسا ایک بھی ارسطو نہیں بنا سکتا” بات یہیں ختم نہیں ہوتی ذرا تاریخ کا سفر کر کے اسلامی دور میں داخل ہوتے ہیں، عباسی خلیفہ ہارون الرشید کا زمانہ ہے، نماز جمعہ اختتام پذیر ہوتی ہے شہزادے بھاگ کر استاد کے جوتے اٹھاتے ہیں اور اس کے پیروں میں رکھتے ہیں، خلیفہ کی آنکھ اشکبار ہے اور وزیر سے سوال کرتے ہیں “اس وقت دنیا کا خوش نصیب شخص کون ہوگا؟” وزیر با تدبیر جواب دیتا ہے ” ظل الہیٰ، خلیفہ وقت سے زیادہ خوش نصیب کو ئی نہیں ہو سکتا “۔ امیر المومنین جو اب دیتے ہیں کہ” نہیں برمکی! اس وقت دنیا کا خوش نصیب شخص وہ ہے جس کے جوتے خلیفہ وقت کے بچے اٹھانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔” اب ذرا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے موجودہ معماران ِ ملّت کی تضحیک اور بد حالی کا احوال بھی سن لیں، گزشتہ دنوں مظفر گڑھ کے اعلی افسر نے جب سکول کے باتھ روم اور لیٹرین گندے دیکھے تو سزا کے طور پر اس سکول کے ہیڈ ٹیچر سے وہ لیٹرین صاف کروا ڈالے اور صلاح الدین جیسے ایک مجرم کے لئے زمین آسمان ایک کرنے والے سوشل میڈیا کے سقراطی و بقراطی طبقہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ کبھی اساتذہ میگا فون ہاتھ میں اٹھائے بچوں کو گلی محلوں سے جمع کر رہے ہیں اور کبھی کسی اعلی افسر کے کلرک کی منت سماجت کر ہے ہوتے ہیں کہ میری گلو خلاصی کروا دیں تو کبھی انٹی کرپشن والے 2000رشوت کے الزام میں اس معزز استاد کو پا بہ جولاں لے کر جا رہے ہوتے ہیں جس نے زندگی میں کبھی رشوت کا نام نہیں سنا ہو گا۔صرف محکمہ صحت کی ہیلتھ سپر وائزر پرائمری سکول کے اساتذہ پہ حکم نہیں چلا رہیں بلکہ فوج سے ریٹائر ایک سپاہی بھی معلمین کی مانیٹرنگ پہ ایسے تعینات ہے جیسے منی لانڈرنگ کرنے والے چوروں میں ان کا شمار ہوتا ہو۔ اس پہ طرّ ہ یہ کہ میٹرک پاس فوجی مانیٹرنگ افسر نے ایم فل یا ایم ایس سی پاس ہیڈ ٹیچر کا حاضری گیپ ڈال کر کسی بھی ضلعی ہیڈ کوارٹر سے 60 یا 70کلو میٹر دور رہنے والے، قوم کے معمار کو اپنے ضلعی افسر کے حضور جرمانہ کروانے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لینا۔ مانیٹرنگ افسر نے یہ نہیں دیکھنا کہ شاید ہمسائے میں کسی کی مرگ ہو گئی ہو اور ایک چوتھائی سکول کے بچے اس وجہ سے نہ آئے ہوں یا پھر ہو سکتا ہے کہ دیہات میں کسی شادی کی تقریب ہو جہاں دلہن اور دلہا کے خاندان کے بچے سکول نہ آئے ہوں اس نے حاضری گیپ ڈالنا ہے اور یہ جا وہ جا، یا پھراگر لیٹرین صاف نہ ہوں تو اس نے یہ نہیں دیکھنا کہ صفائی والا شاید آج چھٹی پر ہو، بس اس نے ایک مشین کی طرح اپنا کام کرنا ہے اور اپنی رپورٹ لاہور میں موجود اپنے اعلی افسران کو بھیجنے میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہیں کرتے۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے یہ سب کچھ صرف اور صرف پرائمری اساتذہ کے ساتھ ہو رہا ہے، ایلمنٹری اور ہائی سکول کے اساتذہ ان مانیٹرنگ افسران کو زیادہ گھاس نہیں ڈالتے اور نہ ہی ان کے پاس ملازمین کی کمی ہوتی ہے کہ صحت و صفائی کی حالت ناقص ہو۔ایک لمحے کے لئے آپ فرض کریں کہ آپ ایک خاتون معلم ہیں اور اپنے گھر سے 40کلومیٹر دور ایک پرائمری سکول کے ہیڈ ٹیچر ہیں جہاں آپ کے پاس درجہ چہارم کا ایک بھی ملازم نہیں اور نہ ہی نزدیک کوئی مزدور لیٹرین کی صفائی کے لئے مہیا ہے تو آپ کیا کریں گے؟ میں نے اکثر سوشل میڈیا پہ چیخ و پکار سنی ہے کہ فلاں سکول کی بچیاں صفائی کر رہی ہیں تو کیا معّلمین خود یہ کام کرتے ہمارے معاشرے کو اچھے لگتے ہیں؟وہ زمانہ کتنا اچھا تھا اور کیسے کیسے نادر و نایاب ہیرے اساتذہ نے تراشے جن کا نام آج بھی تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے لکھا ہوا ہے جن کی تراش خراش میں سب سے زیادہ حصہ معزز اساتذہ نے ہی ڈالا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ کمرہ جماعت میں صرف نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لئے میرے اساتذہ نے کئی بار مجھے اور میرے دوستوں کو بغیر قصور کے مرغا بھی بنایا اور بانس کے مضبوط ڈنڈے اپنے نازک ہاتھوں پہ میں نے بھی کھائے لیکن مجال ہے جو والدین کو کبھی شکایت کی ہو کیونکہ پھر ہمیں گھر سے بھی مار کھانی پڑتی تھی کہ قصور تمھارا ہی ہو گا۔ یہ میرے اساتذہ اور والدین کی تربیت ہی ہے کہ میں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کے کورس ورک کے دوران بھی اپنے استاد کی ٹانگیں دبائی ہیں اور میرے ہاتھوں میں قلم کی شکل میں مضبوط ہتھیار بھی میرے اساتذہ کی محنت کی بدولت ہے بلکہ گزشتہ ماہ میرے معلّم پروفسیر منور صا بر کا پیغام واٹس ایپ پہ موصول ہوا کہ تم ایک عدد قلم جیسے بہت بڑے انعام کے مستحق ہو تو خوشی کے مارے میری آنکھیں چھلک پڑیں کہ آج میں اس مقام پر ہوں کہ مجھ سے بہت سینئر قلم کار اور صحافی استاد مجھے اس کا حق دار قرار دے رہے ہیں ورنہ میرے کئی دوست ابھی تک گمنامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔دنیائے مغرب اگر آج اخلاقی اور خاندانی انحطاط کا شکار ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اساتذہ کو کمر شل بنیادوں پہ ایک مزدور ہی سمجھا ہے اور معاشرے میں وہ عزت نہیں دے سکے جس کے وہ حق دار ہیں اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک ایسا نظام لایا جائے جس میں اساتذہ کو زیادہ سے زیادہ عزت دینے کے ساتھ اس پیشہ کو سب سے زیادہ کمانے والا بنایا جائے تا کہ مستقبل قریب میں کوئی بھی معزز استاد اپنی غربت کا رونا نہ رو سکے اور نہ ہی مردم شماری، الیکشن اور محکمہ صحت کے غیر ضروری بوجھ کو اٹھانے پہ مجبور ہو کیونکہ میرے مشاہدات کے مطابق آج بھی اگر کسی محکمے یا این جی او کو اضافی ورکرز کی ضرورت ہوتی ہے تو ان کی نظر انتخاب اساتذہ پر ہی ٹھہرتی ہے مجھے یاد ہے کہ سابقہ دور حکومت میں ڈینگی مکاؤ مہم کے دوران اساتذہ کی ہی ڈیوٹی لگائی جاتی تھی کہ عوام کو آگاہی دیں اور اس مقصد کے لئے ان کو اتوار کی چھٹی بھی نہیں دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ مجھ ناچیز کی رائے میں اساتذہ کی بہترین مانیٹرنگ مقامی افسران ہی کر سکتے ہیں جن کو افسران اعلیٰ نے سوائے ڈاک لانے اور لیجانے کے کوئی خاص خدمت نہیں لے سکے۔ ڈاک بھی ایسی جو ہر ماہ باقاعدگی سے بھیجی جاتی ہے لیکن جب بھی گریڈ 19یا 20کے افسران کو اسی ڈاک کی ضرورت پڑتی ہے تو بجائے اپنے کلرک بادشاہ کو حکم دینے کے اے ای اوز صاحبان کو کہا جاتا ہے کہ سکولوں سے فوراً سے بیشتر فلاں ڈیٹا منگوا کر لاہور بھجوائیں اور اساتذہ کولہو کے بیل کی طرح 15دن پہلے والا ڈیٹا دوبارہ بھیجنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اس کے علاوہ خواتین اساتذہ کا سب سے بڑا مسئلہ ان کید ور دراز مقامات پر تعیناتی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کا ہے جن کو گھر میں سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوتا اور وہ اپنی جائے تعیناتی پر 6ماہ کے شیر خوار کو ساتھ لے جانے پر مجبور ہو جاتی ہیں اگر حکومت وقت ان بچوں کے لئے الگ سے نرسری ہوم بنا دے تو اکثر خواتین کا یہ مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ جیسے سب سے کمزور پر ہی برق گرتی ہے اسی طرح سب سے زیادہ دباؤ اور بے عزتی بھی پرائمری سکول کے اساتذہ کی جاتی ہے حالانکہ یہی وہ اساتذہ ہے جو بچے کی اوائل عمری میں ہی اس کی کردار سازی میں ا ہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور سب سے زیادہ تنخواہ کے مستحق بھی ہیں۔ جب اساتذہ کو تنخواہ اور مراعات اچھی دی جائیں گی اور ان کے پاس کچھ اختیارات بھی ہوں گے تو ناممکن ہے کہ اس ملازمت کے حصول کے لئے بھی مقابلہ کی فضا پیدا ہو جائے اور ڈاکٹر اور ا نجینئر بننے کے خواب دیکھنے والے طلباء و طالبات معلم بننے کے خواب دیکھنے لگ جائیں۔ اگر ایک ملک میں ایک میٹرک پاس پولیس اور فوج کے سپاہی کی تنخواہ 25ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے تو کیا ایک ماسٹر یا ایم فل ڈگری ہولڈر اس سے دوگنا یا تین گنا تنخواہ کا حق دار نہیں ہو سکتا۔ اس لئے حکومت وقت اگر واقعی اس بھیڑوں کے ریوڑ کو ایک قوم بنانا چاہتی ہے تو اساتذہ کو معاشرے میں سب سے اعلیٰ مقام دینے کے لئے ٹھوس منصوبہ سازی کرے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے