۔،۔ ترک افواج کسی بھی وقت شمالی شام میں داخل ہو سکتی ہیں۔طیب اردوگان۔،۔

شان پاکستان واشنگٹن۔انقرہ۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ترک صدر طیب اردوگان Recep Tayyip Erdoganکا کہنا ہے کہ ترک افواج کسی بھی وقت شمالی شام میں داخل ہو سکتی ہیں جس پر شام کی سرحد پر موجود امریکی افواج کے دستوں کو وائٹ ہاوُس White Houseنے رکاوٹ نہ بننے کا حکم جاری کر دیا خبر کے مطابق حکم کی تعمیل میں امریکی فوجیوں نے شام اور ترکی کی سرحد سے اپنی فوجیں واپس بلا لی ہیں،سرحد کو خالی کر دیا۔وائٹ ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ترک فوج شمالی شام میں کرد علیحدگی پسند عسکری جتھے ’وائی پی جی‘ کے زیر تسلط علاقے میں کارروائی کرنے جا رہی ہے۔ امریکا نے ترک اور کردوں کے درمیان جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے اس لیے اپنے فوجی دستوں کے جانی نقصان کے پیش نظر اہلکاروں کو سرحد سے واپس بلالیا ہے۔ترک صدر طیب اردگان نے امریکا کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ اس سے قبل ترک صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں ترکی اور شام کی سرحد سے فوجی دستوں کو واپس بلانے کی درخواست کی تھی۔واضح رہے کہ ترک سرحد کے قریب شام میں کرد باغیوں کی حکومت ہے جہاں ترک فوج اور کرد جنگجوؤں کے درمیان تناؤ رہتا ہے، ترکی کرد جماعت ’وائی پی جی‘ کو دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے اور اپنے علاقے میں کئی کارروائیوں کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو سخت الفاظ میں دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اپنی ’’حدود سے تجاوز‘‘ کیا تو اس کی معیشت مکمل طور پر تباہ اور تہس نہس کردی جائے گی۔انھوں نے سوموار کو یہ دھمکی شام کے شمال مشرقی علاقے سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے بعد دی ہے۔وائٹ ہاؤس نے اتوار کی شب ایک بیان میں شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے فوری بعد امریکا کی دونوں جماعتوں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور اس خدشے کے اظہار کیا ہے کہ اس کے بعد ترکی امریکا کی ایک طویل عرصے سے اتحادی کرد فورسز کے خلاف حملہ آور ہوسکے گا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے