۔،۔ خطرناک آتش فشاں۔ اے آراشرف۔،۔

منفعت ایک ہے اس قوم کی،نقصان بھی ایک،۔۔۔۔۔،ایک ہی سب کا نبیؑ،دین بھی،ایمان بھی ایک،
حرمِ پاک بھی، ا للہ بھی،قرآن بھی ایک،۔۔۔۔۔،کچھ بڑی بات تھی،ہوتے جو مسلمان بھی ایک،
۔۔فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں،۔۔۔۔۔،کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
جذبے اگرنیک اور حوصلے جوان ہوں توانسان بڑے سے بڑ ے معرکوں کو سر کر سکتا ہے پھرٹیم کا کپتاں اگر مضبوط اورعقل و بصیرت رکھتا ہوتو پوری ٹیم کیلئے قابل فخربن جاتا ہے کچھ ایسی ہی صورت احوال ہمارے۔پاکستان جرمن پریس کلب کے صدر جناب سلیم پرویز بٹ اور نائب صدر جناب نذر حسین کی ہے جہنوں نے اپنی انتھک محنت اور بہترین منصوبہ بندی سے جرمنی میں مقیم ہموطنوں کو اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے پریس کلب کے پلیٹ فارم پر جمع کرکے لارڈز نذیر احمد کی قیادت میں بیمثال اور کامیاب ریلی نکالی میری نظر میں ان کا یہ اقدام انتہائی قابل تحسین ہے اورمادر وطن وکشمیریوں سے محبت کی عکاسی کرتاہے مگر اپنے عرب بھائیوں کی بیوفائی دیکھ کر علامہ اقبال یاد آئے اُنہوں کیا خوب کہا تھا کہ۔۔مسجد تو بنا دی شب بر میں ایماں کی حرارت والوں نے،۔۔من اپنا پرانا پاپی ہے،برسوں میں نمازی بن نہ سکا۔۔جب ہم کعبہ کے میکینوں کا کردار دیکھتے ہیں تو مسلم اُمہ کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں جس دور میں علامہ نے یہ اشعار کہے تھے میں سوچتا ہوں کہ کیا اُس دور میں بھی مسلم اُمہ اپنے فقہی اور مسلکی اختلافات کی بنا آپس میں اسیطرح اُلجھتے رہتے تھے پھر خیال آتا ہے کہ جو اُمت اپنے نبیﷺ کے نواسے اور اُنکے اقربا کو نبیﷺ کے وصال کے کچھ ہی عرصے بعدشہیدکرکے اُنکی بہوؤں اوربیٹیوں کو قیدی بنا کر درباروں اور بازاروں میں پھرا سکتی ہے وہ بھلا مظلوم کشمیریوں کے دکھ اوراذیت کا خاک مداد اکرینگے مجھے تو دکھ اور حیرانی اس بات پرہے کہ اقوام عالم کے نقشے پر۸۵ اسلامی ممالک موجود ہیں مگر انکی رگ غیرت آخرکیوں جوش نہیں مارتی؟کیا ان سب کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں؟یہ کمزوری اوربے حسی ثابت کرتی ہے کہ یہ مسلماں حکمران طاغوتی قوتوں کے ہاتھوں کا کھلونا اور کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اور وہ اپنا دین و ایمان اور غیرت سب کچھ شیطان کبیراوراُسکے اتحادیوں کو بیچ چکے ہیں ورنہ بقول آیت اللہ خمینی ؒ مرحوم کے اگر دنیا کہ تمام مسلمان متحد ہو کر ایک ایک لوٹا پانی کا پھینک دیں تو اس سونامی کے زور سے اسرائیل ڈوب جاتا اور فلسطین آزاد ہو جاتا اسیطرح اگر مسلمان حکمران متحد ہو کر مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ لڑنے میں پاکستان کا دل سے ساتھ دیتے تو نہ بھارت کو کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کرنے کی جُرات ہوتی اور نہ ہی کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل قرار پاتااس موقع پر عالمی برادری کی مسلسل خاموشی اوربے رخی کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہوچکے ہیں جوکشیدگی میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں اور اب وہ خالات آتش فشاں کے پھٹنے کی نشان دہی کر رہے ہیں اور حالات بتا رہے ہیں کہ دو جوہری قوتیں آمنے سامنے ہیں اگراقوام متحدہ اوراقوام عالم نے مُثبت کردار ادا نہ کیا تو جنگ ناگزیر ہو گی جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیکر تباہی کا باعث بنے گی۔ ا س حقیقت کوجھٹلایا نہیں جا سکتا کہ وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے دوران نہ صرف کشمیر یوں کا مقدمہ موثر انداز میں پیش کیا بلکہ صاف ا لفاظ میں کہا کہ طا لبان جیسی جہادی تنظیموں اور داعش جیسی دہشتگرد تنظیم کو بھی امریکہ اور اسکے اتحادی ہی مالی امداد مہیا کرتے رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی ریاستی دہشتگردی کیخلاف اختجاجی جلسوں اور جلوسوں کا سلسلہ دنیا کے ہر شہر اور قریہ قریہ میں جاری و ساری ہے مگر جرمنی کے کاروباری مرکزی شہر فرانکفرٹ میں پاکستان جرمن پریس کلب کے زیر اہتمام نکالی گئی اختجاجی ریلی اس لحاظ سے منفرد اور بیمثال تھی کہ اس ریلی میں جرمنی کے کونے کونے سے پاکستان سے جرمنی میں تعلم کی غرض سے آئے ہوئے طلبا نے بھی اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے بھر پور شرکت کی ان طلبا کا جذبہ،جوش اور ولولہ قابل دید تھااس اختجاجی ریلی میں معروف سیاسی اور سماجی شخصیت لارڈز نذیر احمد خاص طور شرکت کیلئے برطانیہ سے تشریف لائے تھے اُنہوں نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرکے مسئلے کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمدہے۔ مقبوضہ کشمیر اقوام عالم میں ایک خطرناک آتش فشاں کی صورت اختیار کر چکا ہے جو کسی وقت بھی پھٹ کر دنیا کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے دنیا کو یہ بات سمجھناہوگی کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری قوتیں ہیں اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دہشت گردی کا مظاہرہ کیا ہے اور اسنے ریاستی دہشتگردی کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کر کے کشمیریوں پر ظُلم وبربریت اور درندگی کی مثالوں کا ریکارڈ بناننے کیلئے وہاں نو لاکھ فوج اُتار رکھی ہے جس نے تقریباََ دو ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا رکھا ہے اور اس دوران کونسا ایسا حربہ ہے جو قابض فوج مظلوم کشمیری بچوں،خواتین اور نوجوانوں پر نہیں آزما رہی مگر شرمناک پہلو یہ ہے اقوام عالم کے وہ نام نہادمسلم ممالک جو اپنے آپ کو اسلام کے سب سے بڑے علمبردار تصور کرتے ہیں اُنکا کشمیر کے ایشو پر کردار انتہائی مشکوک اوراُن میرجعفروں اور میر صادقوں جیسا ہے جن کے لگائے ہوئے زحموں کے نشانوں کا درد ابھی تک مسلم اُمہ محسوس کرتی ہے۔سوال یہ ہے کہ ہم کب تک اقوام عالم اور حصوصناََ اپنے مسلم حکمرانوں کی خاموشی اور بے رخی کا انتظار کرتے رہیں گے دو ماہ سے زاید عرصہ ہو گیا ہے بھارت نوے لاکھ کشمیریوں کو یرغمال بنا کر اُنکے نہ صرف بنیادی حقوق غصب کر رکھے ہیں بلکہ اُنسے غیر انسانی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں میں اس موقع پرمسلم اُمہ کی سرد مہری پر اتنا ہی کہونگا،۔۔دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف،۔۔۔اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی،۔۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے